پولیس کی اراضی کوفی الفور واگزار کرایا جائے ،آئی جی سندھ

پولیس کی اراضی کوفی الفور واگزار کرایا جائے ،آئی جی سندھ

کراچی (کرائم رپورٹر)آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام کی زیرصدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ ایک اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت جاری ترقیاتی اسکیموں سمیت گزشتہ دنوں تمام پولیس رینج ودیگرشعبہ جات کو جاری کیئے گئے چھیاسی کروڑ (860000000) کے استعمال پر مشتمل جملہ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مزید ضروری احکامات دیئے گئے ۔اجلاس میں ڈی آئی جیزفائنانس،ٹی اینڈٹی سندھ اور اے آئی جی فائنانس نے شرکت کی جبکہ دیگر تمام پولیس رینج کے ڈی آئی جیز ودیگر سینئرافسران نے ذریعہ ویڈیو کانفرنس شرکت کی۔آئی جی سندھ کی دوران اجلاس تمام رینج/زونز/ ڈسٹرکٹس پولیس افسران کو ہدایات دیں کہ سندھ پولیس کی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جائے اورقبضہ کی گئی پولیس اراضی پر قائم مکانات/عمارتیں خالی کرواکر انہیں فوری طور پر پولیس تحویل میں لیا جائے جبکہ پولیس اراضی پر قبضہ میں ملوث عناصر کیخلاف تمام تر قانونی اقدامات کو بھی یقینی بنایا جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام(ADP) کے تحت جاری تمام ترقیاتی اسکیموں/امور کی میں بذات خود نگرانی کرونگا۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے اور پولیس ملازمین کی فلاح وبہبود کے فنڈز کے ضمن میں جاری کردہ رقم چھیاسی کروڑ روپئے کے استعمال میں شفافیت کے عنصر کو نمایاں رکھا جائے اور اس پر باالخصوص توجہ دی جائے ۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ رپورٹنگ رومز/انویسٹی گیشن رومز اور لیڈی پولیس اسٹاف رومز کا قیام جلد سے جلد یقینی بنایا جائے اوراس حوالے سے فی الفور عمل داری کے مظاہرے پر متعلقہ ڈی آئی جی کو پانچ لاکھ جبکہ ایس ایس پی کو ایک لاکھ روپئے نقد انعام جبکہ دی جانیوالی تعریفی سند میں آفیسر آف دی اے ڈی پی کے خطاب سے بھی نوازا جائیگا۔انہوں نے ڈی آئی جی ٹی اینڈ ٹی کو ہدایات دیں کہ رپورٹنگ رومز/انویسٹی گیشن رومز/خواتین اسٹاف رومز کے تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈل بناکر تمام ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو ای میل/واٹس ایپ کیئے جائیں۔آئی جی سندھ نے کہا کہ میں بذات خود سندھ بھر کے تمام تھانہ جات کا سرپرائز وزٹ کرونگا۔انہوں نے تمام ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو واضح ہدایات دیں کہ سندھ پولیس کے تحت جاری تمام ترقیاتی اسکیمز کی کی بذات خود سپرویژن کو ناصرف یقینی بنائیں بلکہ اس حوالے سے ہفتہ وار رپورٹس بھی برائے ملاحظہ ارسال کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر