بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر قبول نہیں : چیف الیکشن کمشنر

بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر قبول نہیں : چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد(صباح نیوز)الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر قبول نہیں کی جائیگی۔صوبائی حکومت انتخابات کیلئے مکمل تعاون کرے۔الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے شیڈول میں تبدیلی سے بھی انکار کر دیا ہے گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر سردر محمد رضا خان کی سربراہی میں بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں الیکشن کمیشن کے ممبران سیکرٹری الیکشن کمیشن،چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری قانون، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بلوچستان،ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان اورالیکشن کمیشن کے سینئر آفیسران نے شرکت کی چیف سیکرٹری بلوچستان نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے موجودہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کچھ ترامیم تجویزکی ہیں جن پر کام جاری ہے۔اس لیے بلوچستان حکومت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری حلقہ بندیوں کے عمل کو ری شیڈول کرانے اور انتخابات نومبر 2019ء میں کروانے کی درخواست کی ہے۔الیکشن کمیشن نے حکومت بلوچستان کے نمائندوں پر واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی آرٹیکل 140 اور الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 219(4) کے تحت صوبوں میں بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اس لیے وقت پر بلدیاتی انتخابات کروانے کے لیے حلقہ بندیوں کے شیڈول میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 221 کے تحت بلوچستان حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو مقررہ وقت پر منعقد کروانے کے لیے کسی قسم کی تاخیر قبول نہیں کی جائے گی اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں مکمل تعاون کرے۔

الیکشن کمیشن

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں سے متعلق قانون میں سقم کی وجہ سے ان کی رکنیت معطلی کا معاملہ بے سود قرار دیدیا ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے قانون میں ترمیم کی سفارشات پارلیمنٹ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ای سی پی ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کی انتخابی اصلاحات کمیٹی سفارشات تیار کر رہی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ قانونی سقم کے باعث چند گھنٹے میں رکنیت بحال کرنا پڑ جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے رکنیت معطلی کی مدت بڑھانے کی سفارش کی تھی۔

ارکان معطلی معاملہ

مزید : صفحہ آخر