انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جامعہ کراچی میں انجمن اساتذہ کی اپیل پر اساتذہ کا احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس ہفتے جاری احتجاج میں روزانہ بڑی تعداد میں اساتذہ شریک ہوکر اپنے غم وغصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ جمعہ کو بھی انتظامی بلڈنگ کے سامنے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا۔ اس موقع پر اساتذہ نے گو وی سی گو، جامعہ کو بچانا ہے وی سی کو ہٹانا ہے کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر وائس چانسلر کمیٹی کی جانب سے گورنر سندھ کو پیش کی گئی سفارشات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔جامعہ کراچی کے روز بروز پیدا ہونے والے مسائل کے مستقل حل کے لئے اساتذہ نے انجمن اساتذہ سے احتجاج کو مزید تیز کرنے پر زور دیا۔ اساتذہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ وائس چانسلر انکے مطالبات کے حل کے لئے انہیں کلاسز چھوڑ کر احتجاج پر آنے پر مسلسل دو سال سے مجبور کرتے آرہے ہیں۔جو انتظامیہ اساتذہ کو تدریس و تحقیق کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہے اسے قائم رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انجمن اساتذہ نے حالات کو دیکھتے ہوئے احتجاج کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے، جس کے بعد پیر سے احتجاج کو اگلے مرحلے میں داخل کئے جانے کا امکان ہے۔تعلیمی سال کے آغاز پر اساتذہ کی جانب سے چار روز تک کلاسز کا بائیکاٹ کیا گیا تھا جب کہ گزشتہ کانووکیشن میں بھی اساتذہ نے وائس چانسلر کے رویہ کے خلاف سیاہ پٹیاں باندھ کر شرکت کی تھی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر