فضل حق کالج مردان تعلیمی معیار کی بہتری میں اہم کردار ادا کررہی ہے،ضیاء اللہ بنگش

فضل حق کالج مردان تعلیمی معیار کی بہتری میں اہم کردار ادا کررہی ہے،ضیاء اللہ ...

پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاہے کہ فضل حق کالج مردان صوبے کے تعلیمی معیار کی بہتری میں اہم کردار ادا کررہی ہے اور اس ادارے نے ملک کو وہ سپوت دیے جنہوں نے ملک وقوم کی خدمت بہترین انداز میں کی اور آج بھی یہ ادارہ اپنی بہترین تعلیمی معیار، سہولیات اور نتائج کے اعتبارسے پورے ملک کا ایک عظیم الشان تعلیمی درسگاہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ فضل کالج مردان کو مزید فعال بنانے اور تدریسی اور انتظامی عملے کو تمام ترسہولیات فراہم کی جائیگی اوران کے تمام مسائل حل کئے جائیں گے۔ وہ فضل حق کالج مردان کے بورڈ آف گورنرز اجلاس کی صدارت کررہے تھے جس میں بورڈ آف گورنرز کے ممبران ڈی آئی جی محمدعالم شنواری، سیکرٹری مردان بورڈ طاہر جاوید، سکول کے پرنسپل اعجازاحمدخان اوردیگرنے شرکت کی۔ بریفنگ کے دوران مشیرتعلیم کو بتایاگیاکہ فضل حق کالج مردان میں 844 طلباء اورطالبات زیرتعلیم ہیں جبکہ ایٹا سکالرشپ کے ذریعے منتخب شدہ طلباء اورطالبات بھی سینکڑوں کی تعداد میں یہاں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ نتائج کے اعتبار سے مردان بورڈ میں میٹرک اورایف اے ، ایف ایس سی کی سطح پرپوزیشنز بھی حاصل کرتی ہیں اور ہرسال اس ادارے سے میڈیکل اورانجینئرنگ میں داخلوں کیلئے طلباء وطالبات منتخب ہوتے ہیں۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے کہاکہ موجودہ حکومت تعلیم کے میدان میں ہی انقلابی تبدیلیاں لارہی ہیں۔ ہماری پانچ سالہ پلان کے تحت پہلی جماعت سے لیکر بارہویں جماعت تک خصوصی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سکول میں ٹیکنالوجی کا رواج عام کردیاگیاہے اورمنصوبہ بندی کے تحت رٹہ سسٹم کاخاتمہ اور concept کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع بشمول تمام کم شرح خواندگی والے علاقوں پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ فضل حق کالج مردان کے طلباء کو تمام ترسہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور اس ضمن میں حکومت بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔ اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے ممبران نے 38 ویں اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی منظوری بھی دی۔ ضیاء اللہ بنگش نے کہاکہ فضل حق کالج مردان اوردوسرے ماڈل سکول اور کالجوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر