چلی جا رہی ہے، خدا کے سہارے!

چلی جا رہی ہے، خدا کے سہارے!
چلی جا رہی ہے، خدا کے سہارے!

  

عوام و خواص اب تک حیران ہیں کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی اچانک آمد اور وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے کی حکمت کیا اور قسمت کا دروازہ کیسے کھل گیا کہ وہ چند روز پہلے تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور آسمانوں سے ایسی برکت نازل ہوئی کہ کپتان نے نہ صرف پنجاب کے لئے یہ کھلاڑی پسند کیا، بلکہ اب تک اس کی حمایت میں بھی ثابت قدم ہیں۔اگرچہ ابتدا سے اب تک سیاسی حلقوں میں ان کی رخصتی ہی کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں، اب بھی ایسا ہی ہے کہ گرفتار تو سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان ہوئے اور یار لوگ بزدار صاحب کی کرسی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں،ان سب کو شاید یہ علم نہیں کہ ڈیرہ غازی خان کے پسماندہ علاقے کے اس بھولے کا کِلا بڑا مضبوط ہے، ویسے جو حیران ہیں اگر وہ ذرا گوجرانوالہ کا چکر لگا کر محترم اقبال گوجر صاحب سے ملاقات کر لیں تو شاید تبادلہ خیال میں وہ بھی مطمئن ہو جائیں کہ کلا تو واقعی مضبوط ہے کہ اللہ والوں کی دُعائیں بہت اثر رکھتی ہیں اور یہ دُعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

اب بھی سیاسی بازار میں ایسی ہی افواہیں چل رہی ہیں۔اگرچہ ان تجزیہ کاروں کے مطابق جس پارٹی کو زیادہ موثر قرار دیا جا رہا تھا وہ تو مطمئن ہو گئی کہ ان کی طرف سے ہمیشہ پتے بروقت اور صحیح کھیلے جاتے ہیں، دیکھ لیں، ناراضی ظاہر کی، تحفظات کا نام لیا، اجلاس منعقد کئے، پھر ملاقاتیں ہوئیں اور آج چودھری برادران کے ایک اور نامزد رکن صوبائی اسمبلی باؤ رضوان نے وزارتِ کا حلف اُٹھا لیا اور جس محترم وزیر نے استعفا دیا انہوں نے واپس بھی لے لیا، ہم خوش، ہمارا خدا بھی خوش، اب چودھری پرویز الٰہی نے اطمینان بھی ظاہرکر دیا ہے۔ توقع ہے کہ ان کی اگلی امید بھی بر آئے گی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی وفاقی کابینہ میں شامل کر لئے جائیں گے۔چودھری برادران کے نزدیک مونس ذہین اور محنتی نوجوان ہیں اور بہت مفید ثابت ہوں گے۔اب میڈیا اور سیاست دان جو مرضی کہتے رہیں واضح ہو گیا کہ ’’پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کی خبریں بھی اسی لئے گرم تھیں کہ حصہ مل جائے چاہے جثہ سے زیادہ ہو، کپتان کو بھی فکر نہیں کہ ان کو اتحادیوں کا مکمل اعتماد چاہئے، جو حاصل ہے،اِسی لئے تو وہ اور ان کے وزرا کسی بھی قسم کی فکر یا پریشانی کے بغیر حکومت کر رہے اور اپوزیشن کو متاثر کئے ہوئے ہیں۔

پنجاب میں تو ایسا کچھ چل رہا ہے۔ یوں بھی پی ٹی آئی اور مسلم لیگ(ن) کے پاس قسمت کے دھنی ہیں، مسلم لیگ(ن) کے خواجہ سعد رفیق کے خلاف کیس ہے اور اس میں بھی اثاثوں کا ذکر ہے، خواجہ صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے پرائز بانڈ نکلے تھے، اب پنجاب کے صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی منی ٹریل سامنے آئی تو ان کے بھی190 لاکھ کے بانڈز نکلے تھے اور یہ رقم جو19کروڑ بنتی ہے ان کے اثاثوں میں شامل ہوئی۔ اب ذرا غور فرمائیں کہ یہ حضرات بھی کتنے خوش قسمت ہیں کہ ان کے پرائز بانڈز نکلتے رہے ہیں، ان کے پاس بھی کسی پیر کا کوئی تعویذ یا پھر عبادت گزار کی خصوصی دُعا ہو گی۔ بات تو صوبائی وزارتِ اعلیٰ کی ہو رہی تھی، ہم نے لوگوں کی رائے کا گزشتہ روز بھی ذکر کیا اور آج بھی مجبور ہیں کہ 95فیصد حضرات کو علیم خان کی گرفتاری ہضم نہیں ہو رہی، اور تو اور ہمارے محترم خورشید شاہ نے بھی اس گرفتاری پر منفی تبصرہ ہی کیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ دکھاوے کی گرفتاری ہے۔ سید خورشید شاہ کچھ عرصہ بعد لاہور آئے تو گزشتہ صبح ڈیفنس میں ایک ناشتہ پارٹی میں شرکت کی اور وہاں سے بات کی کہ میزبان نے میڈیا والوں کو مدعو کیا تھا، ہم اپنے بھائی نوید چودھری کے ممنون ہیں کہ اس پارٹی کا دعوت نامہ ’’وٹس ایپ‘‘ پر ہمیں بھی موصول ہوا تاہم شرکت نہ ہو سکی کہ ہمارا روزمرہ کا معمول متاثر ہو جاتا۔ہم آمدو رفت کے لئے صاحبزادے کی ڈرائیونگ کے اسیر ہیں کہ بچوں نے باہمی اتحاد کر کے ہمیں گاڑی چلانے سے منع کر دیا تھا۔بہرحال نوید چودھری کو صبح صبح ٹی وی کی خبروں میں سید خورشید شاہ کے ساتھ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دیر بعد سہی شاہ جی براجے اور یہاں میڈیا سے بھی مل لئے ہم بھی ان سے مل ہی لیں گے کہ یاد اللہ اچھی ہے۔

سید خورشید شاہ کا ذکر ایک دوسرے حوالے سے بھی مطلوب تھا کہ انہوں نے حال ہی میں سپریم کورٹ کے ڈویژن بنچ کے اس فیصلے کو سراہا جو فیض آباد دھرناکیس میں ازخود نوٹس کے حوالے سے تھا۔ یہ نوٹس بابا رحمتے نے لیا تھا اور فیصلہ دو رکنی بنچ نے سنایا۔ سید خورشید شاہ نے تعریف کی اور کہا ہم اس فیصلے کو پارلیمینٹ میں لے کر جائیں گے کہ اس پر عمل درآمد ہونا چاہئے، ڈویژن بنچ نے اس دھرنے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر ریمارکس یا رائے دی ہے، اور یہ سب پہلو یقیناًاہم ہیں۔ فاضل جج حضرات میں سے قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا ’’یہ فیصلہ سنانا بہت مشکل ہے، بہرحال یہ تھوڑی دیر بعد سپریم کورٹ کی ’’ویب سائٹ‘‘ پر جاری کر دیا جائے گا‘‘ اور شاید عدلیہ کی تاریخ میں یہ بھی پہلی بار ہوا کہ فیصلہ کمرۂ عدالت میں سنانے کی بجائے، ویب پر جاری ہوا، یقیناًیہ حساس معاملہ تھا، تاہم فاضل بنچ نے سارے پہلوؤں پر توجہ دی، دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کی معطلی اور عوام کی پریشانی کا تفصیل سے ذکر کر کے صحیح راہ متعین کرنے کی ہدایت کی، اور یہ بالکل درست بھی ہے۔

ہمارے نزدیک اس فیصلے کا یہ پہلو بھی غور طلب ہے،جس میں مذہبی استحصال کا ذکر ہے، فیصلے میں واضح کہا گیا کہ فتویٰ اور الزام لگا کر اسے دینی ثابت کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ اس میں تو دین متین اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل درست ہے اور ہم مختلف پہلوؤں سے یہ ذکر بھی کرتے رہے ہیں تاہم اب تو عدالتِ عظمیٰ نے وضاحت کی ہے۔ دینی حلقوں کو اس پر غور کرنا چاہئے،اسے دِل پر لگانے کی بجائے اس کی روح کے مطابق عمل کی کوشش ہونا چاہئے، تاہم یہاں ہم ایک خاص طبقے کی خدمت میں بھی عرض کریں گے کہ ایک درست وضاحت کو اپنی فتح نہ گردانیں کہ نہ تو عظمت رسالت کے حوالے سے کوئی نرمی برتی گئی اور نہ ہی دین اسلام کے بارے میں کوئی منفی بات کی گئی ہے،بلکہ یہاں تو اسلام کی عظمت کے لئے غلط اقدامات کو روکنے کی ہدایت ہے۔ سید خورشید شاہ کا یہ جذبہ قدبلِ قدر گنا جائے گا اگر وہ اس فیصلے کو پارلیمینٹ میں زیر غور لا کر ہدایات پر عمل کے لئے راہیں متعین کرا کے فیصلے کرا لیں، بہتوں کا بھلا ہو گا۔قارئین! بات محترم بزدار صاحب سے چلی، اور کدھر سے کدھر نکل گئی۔ بہرحال وہ چل رہے ہیں، جب تک قسمت ساتھ دے گی چلتے رہیں گے کہ ’’چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے‘‘۔

مزید : رائے /کالم