عثمان بزدار کی مخالفت کیوں؟

عثمان بزدار کی مخالفت کیوں؟
عثمان بزدار کی مخالفت کیوں؟

  

انتہاء ہوگئی۔۔۔ ایمانداری ، عاجزی کا جس طرح سربا زار مذاق اڑایا جا رہا ہے۔۔۔بدقسمتی اور سراسر بدقسمتی۔ افسوس ان رائے عامہ ہموار کرنے والے ٹی وی میزبانوں پر جو ہر گذرتے دن وزیراعلیٰ پنجاب کی جان بوجھ کر تذلیل کر رہے ہیں۔ تعلق جنوبی پنجاب سے، خاندانی جاہ و جلال مفقود اور مزاج میں انکساری، یہ عثمان بزدار صاحب ہیں۔ اس پنجاب کے حاکم جہاں تین سو ساٹھ سال سے تکبر اور آمرانہ سوچ کی حکمرانی چلی آ رہی ہے۔ شاہی خاندان، مغلیہ دربار، حرم سرا، شہزادے شہزادیاں اور رتنوں کی سی سوچ اس پُراسرار خطے کو اکیسویں صدی میں بھی بدستور لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ اقتدار کی کشمکش میں بیٹے کے ہاتھوں زنداں خانے میں ایڑیاں رگڑتا شاہ جہاں، سگے بھائیوں داراشکوہ، سلطان شجاع اور سردار بخش کو خاندانوں سمیت قتل کرواتا اورنگزیت عالمگیر، مڈل کلاس سے عاری، نسل در نسل ڈی این اے میں سرایت کرتی خوشامد،بے ترتیب بازار، صدیوں سے لوگوں کو گدھے اور کتے کا گوشت کھلاتے قصاب، پہلے جوتشی اور اب لٹیرے عامل، روپیہ گھروں میں چھپانے کے عادی لوگ، بخار میں فاقوں کو علاج سمجھتے دیہاتی، اہلیت پیدا کرنے کی بجائے رٹے کا قائل تعلیمی نصاب، دونوں ہاتھوں سے خزانہ اجاڑنے کے قائل حکمران، ہاتھیوں ، پیادوں، ماشکیوں، مورچھل جھلاتے ملازموں کی فوج در فوج میں سفر کرتے حاکم اور مجرم پکڑنا، رشوت سفارش پر چھوڑنا جیسا کلچر۔۔۔جی ہاں یہ ہے پنجاب کا بیک گراؤنڈ جہاں آج عثمان بزدار وقت کے بادشاہ ٹھہرے ہیں۔

آخر عثمان بزدار صاحب نے عین چوراہے میں کن سیاسی مخالفین کے سر قلم کروادیئے جو ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی ۔آخر کن مصاحبوں کے وظیفوں پر پابندی لگ گئی جو دیوان خانوں کے تاریک گوشوں میں سازشیں کی جا رہی ہیں۔ آخر کن درباریوں کو علاقوں کی عملداری سونپنے سے انکار ہوا جو باقاعدہ محاذ قائم کئے تیر اندازی کروا رہے ہیں۔ کن کن گروہوں کے آبیانے اور مالیے مارے گئے ہیں اور آخر وہ کونسی لابیاں ہیں جو پنجاب میں کروڑوں نہیں،بلکہ اربوں روپے سالانہ کی کالی رقم سے محروم ہو رہی ہیں؟عثمان بزدار صاحب کو اقتدار کے تخت پر ایک ہدایت جاری کرکے بٹھایا گیا۔انکار۔۔۔اس وقت تک کے لئے جب اصلاحات کے ذریعے پنجاب کے اداروں کو آزاد نہیں کر دیا جاتا۔ کیا اپنا کیا پرایا۔۔۔اداروں کی خودمختاری میں رکاوٹ ڈالنے والے ہر فرد کو انکار۔۔۔ ایسا ہو بھی رہا ہے۔ ایم پی اے فائلیں اٹھائے وزیراعلیٰ کے پاس جاتے ہیں۔ انہیں نہ کر کے متعلقہ وزارتوں سے رجوع کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اتحادی شہروں کے انتظامی اختیارات پر کنٹرول ،مرضی کا پولیس سربراہ، تھانے، ہسپتال، پٹوار ، ترقیاتی فنڈز مانگ رہے ہیں، لیکن انہیں صاف انکار کر دیا گیا ہے۔ یہ ہیں وہ ’’برائیاں‘‘ جو جناب عثمان بزدار صاحب کو متنازع بنا رہی ہیں۔

کیا اپنے کیا پرائے سبھی نے وزیراعلیٰ کو بدنا م کرنے میں کردار ادا کیا۔ سب سے پہلے ’’تاریخی حملہ‘‘ اس دانشور نے کیا،جو مرکزی حاکم کے گھر دال روٹی کھا کر انگلیاں چٹخایا کرتا تھا۔ گورنر ہاؤس میں براجمان نہ ہونے کا اتنا دُکھ؟ دوسری یلغاران ’’اپنوں‘‘ نے کی جو وزیراعلیٰ بننے کی ایڈوانس مبارک بادیں وصول کر چکے تھے۔ تیسرا ردعمل ان لابیوں ، گروہوں کی طرف سے آ یا جو پنجاب کی ’’سرکاری بلیک اکانومی‘‘ کے مرکزی حصہ دار تھے۔ پنجاب کی یہ کالی معیشت کیا ہے؟ اک داستان طلسم ہوش ربا۔ ہزاروں تھانوں سے پیدا کردہ روپیہ پیسہ آئی جی آفس تک اور وہاں سے آگے بڑے گھر۔۔۔ کیا پنجاب ایماندار اور منکسر المزاج حاکم چاہتا ہے یا ایسا خاندانی ، ذہین و فطین، رعب داب والا جو صرف تالی بجا کر اربوں روپیہ لوٹ لے۔ پنجاب میں کبھی بھی کسی وزیراعلی نے دونوں ہاتھ چھوڑ کر، موت کے کنویں میں موٹر سائیکل نہیں چلائی۔ کبھی کسی نے چھانگا مانگا کے جنگلات میں ہرنوں کے ساتھ دوڑیں نہیں لگائیں۔ ہاں البتہ بیشتر نے جی بھر کر دونوں ہاتھوں سے لوٹا ضرور۔ بدنصیبی نہیں تو کیا کہیں اگر صوبہ پنجاب کو ایک ایماندار حکمران نصیب ہوا ہے تو برداشت نہیں کیا جا رہا۔ کیا پنجاب ساڑھے تین سو سال بعد بھی بدلنے کو آمادہ نہیں؟

مزید :

رائے -کالم -