ان دیکھے سودے

ان دیکھے سودے

خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتے تھے۔ان درویش کا نام بہلول دانا تھا۔بہلول دانا بیک وقت ایک فلاسفر اور ایک تارک الدنیا درویش تھے۔ان کا کوئی گھر ،کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔وہ عموما شہر میں ننگے پاوں پھرتے تھے اور جس جگہ تھک جاتے وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کی تجلیات اور عشق میں مستغرق اور گم رہتے تھے۔اور اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے تھے۔ اور جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔

ایک دن بہلول دریا کے کنارے بیٹھے ساحل کی گیلی ریت کو اپنے سامنے جمع کر کے اس کی ڈھیریاں بنا رہے تھے۔ اور ملکہ زبیدہ اپنے محل کے جھروکے سے بڑے انہماک سے ان کو یہ کام کرتے دیکھ رہی تھی ۔وہ مٹّی کی ڈھیری بناتے اور پھر اپنے ہاتھ سے ہی اس کو مسمار کر دیتے۔ ملکہ جھروکے سے اتر کر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دریا کے کنارے آ گئی اور بہلول سے پوچھا کیا کر رہے ہو بہلول ؟ بہلول نے ادائے بے نیازی سے کہا جنّت کے محل بنا رہا ہوں ،، ملکہ نے سوال کیا اگر کوئی تم سے یہ محل خریدنا چاہے تو کیا تم کو اس کو فروخت کرو گے؟ بہلول نے کہا ہاں ہاں ! کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں ۔تو بتاؤ ایک محل کی قیمت کیا ہے ؟ملکہ کے سوال کرتے ہی بہلول نے بے ساختہ کہا تین درہم ، ملکہ زبیدہ نے اسی وقت اپنی کنیزوں کو حکم دیا کہ بہلول کو تین درہم ادا کئے جائیں۔ اور اداکردئیے گئے۔ یہ تمام واقعہ ملکہ نے اپنے شوہر خلیفہ ہارون الرشید کو بتایا۔خلیفہ نے اس واقعہ کو مذاق میں ٹال دیا۔ رات کو جب ہارون الرشیدسوئے تو انہوں نے خواب میں جنت کے مناظر دیکھے ، آبشاریں، مرغزاریں اور پھل پھول وغیرہ دیکھنے کے علاوہ بڑے اونچے اونچے خوبصورت محلات بھی دیکھے، ایک سرخ یاقوت کے بنے ہوئے محل پر انہوں نے زبیدہ کا نام لکھا ہوا دیکھا۔ ہارون الرشیدنے سوچا کہ میں دیکھوں تو سہی کیوں کہ یہ میری بیوی کا گھر ہے۔ وہ محل میں داخل ہونے کے لئے جیسے ہی دروازے پر پہنچے تو ایک دربان نے انہیں روک لیا۔ ہارون الرشیدکہنے لگے ، اس پر تو میری بیوی کا نام لکھا ہوا ہے، اس لئے مجھے اندرجانا ہے، دربان نے کہا نہیں، یہاں کا دستور الگ ہے، جس کا نام ہوتا ہے اسی کو اندر جانے کی اجازت ہوتی ہے، کسی اور کو اجازت نہیں ہوتی، لہٰذا آپ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جب دربان نے ہارون الرشید کو پیچھے ہٹایا تو ان کی آنکھ کھل گئی۔ بیدار ہونے پر فوراً خیال آیا کہ مجھے تو لگتا ہے کہ بہلول کی دعا زبیدہ کے حق میں اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہوگئی، وہ ساری رات اسی افسوس میں کروٹیں بدلتے رہے۔ چنانچہ وہ شام کو بہلول کو تلاش کرتے ہوئے اِدھر اْدھر دیکھ رہے تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ بہلول ایک جگہ بیٹھے اسی طرح مکان بنا رہے ہیں، ہارون الرشید نے السلام وعلیکم کہا، بہلول نے جواب دیا وعلیکم السلام، ہارون الرشیدنے پوچھا، کیا کررہے ہیں؟ بہلول نے کہا، جنّت کے محل بنا رہا ہوں۔ ہارون الرشیدنے پوچھا۔ بیچو گے۔تو بہلول نے کہا ہاں ہاں ! کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں۔ تو بتاؤ ایک محل کی قیمت کیا ہے۔بہلول نے بے ساختہ کہا تیری پوری سلطنت۔ ہارون الرشیدنے کہا ، اتنی قیمت تو میں نہیں دے سکتا، کل تو آپ تین درہم کے بدلے دے رہے تھے، اور آج پوری سلطنت مانگ رہے ہیں؟ بہلول دانا نے کہا، خلیفہ! کل بن دیکھے معاملہ تھا اور آج تم محل دیکھ کر آئے ہو۔

بلاشبہ یہ جو ان دیکھے سودے ہوتے ہیں نا یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔

مزید : ایڈیشن 2