وزارت داخلہ نے بعض قبائل کو غیرملکی قراردے رکھا ہے، چیئرمین نادرا کا انکشاف

وزارت داخلہ نے بعض قبائل کو غیرملکی قراردے رکھا ہے، چیئرمین نادرا کا انکشاف

اسلام آباد(صباح نیوز)چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین نے کہا ہے کہ جب ملک میں لوگوں کو شناختی کارڈز کا مسئلہ ہوا تو اس سلسلے میں ارکان پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی گئی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ شہری کی جانب سات میں سے اگر ایک بھی دستاویز دیا گیا تو اس کا شناختی کارڈ بنا دیا جائے گا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر رحمان ملک کی زیر صدارت ہوا جس میں چیئرمین نادرا عثمان مبین نے ملک میں شناختی کارڈز نہ ہونے کے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔چیئرمین نادرا نے انکشاف کیا کہ وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن کے ذریعے بعض قبائل کو غیر ملکی قرار دے رکھا ہے جبکہ نادرا کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں مشکوک شہریت کے حامل افراد کی تعداد 15600 ہے۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ جو بچہ پاکستان میں پیدا ہو گا وہ پاکستانی شہری ہے، اب تک پاکستان میں 24 لاکھ افغان مہاجرین کو رجسٹر کیا گیا ہے جن میں سے نو ہزار کے قریب لوگ واپس افغانستان چلے گئے۔چیئرمین نادرا نے بتایا کہ افغان شہری جب واپس پاکستان آتے ہیں تو ہمارا سسٹم ان کو ڈیفالٹر مانتا ہے اور شناختی کارڈ نہیں بناتا، ان لوگوں نے شناختی کارڈز بنوانے کے لئے جعلی خاندان دکھائے نادرا کو ظاہر کئے جسے روکنے کے لئے ہم نے ملک گیر مہم چلائی۔ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں تحقیقاتی ادارے کیسز بھیجتے ہیں جنہیں ہم دیکھتے ہیں، آئین کہتا ہے شک کی بنیاد پر افغانی پکڑا جائے تو ڈی سی دفتر سے کلئیر کروانا لازم ہے۔

چیئرمین نادرا

مزید : صفحہ اول