سات اضلاع میں بیو ٹیفکیشن اینڈ اپ لفٹ کو عوامی امنگوں کے مطابق بڑھایا جائیگا: شہرام ترکئی

سات اضلاع میں بیو ٹیفکیشن اینڈ اپ لفٹ کو عوامی امنگوں کے مطابق بڑھایا جائیگا: ...

پشاور (سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی نے کہا ہے کہ صوبے کے سات اضلاع میں مجوزہ بیوٹیفکیشن اینڈ اپ لفٹ پراجیکٹ کو عوام کی امنگوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے گا اور یہ کم ترقی یافتہ اضلاع میں حقیقتاً تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ بیوٹیفکیشن اینڈ اپ لفٹ پراجیکٹ کے تحت چھوٹے ٹاؤنز اور بازاروں میں چھوٹے چھوٹے ترقیاتی کاموں اور وہاں سہولیات فراہم کر کے انہیں خوبصورت بنایا جائے گا۔ اسی طرح پارکس، کھیلوں کے میدان، فوڈ سٹریٹس، بس و رکشہ اسٹینڈز، سبزی منڈیوں اور انتظار گاہوں کی تعمیر اور مرمت کے علاوہ مذبحہ خانوں اور پکنک سپاٹس پر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ بیوٹیفکیشن اینڈ اپ لفٹ منصوبہ ملاکنڈ، ٹانک اور لکی مروت جیسے انتہائی کم ترقی یافتہ اضلاع میں وقت کی اہم ضرورت ہے تا کہ ان اضلاع میں بھی دوسرے ضلعوں کی طرح سہولتیں دی جا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار اْنہوں نے جمعہ کے دن بیوٹیفکیشن اینڈ اپ لفٹ پراجیکٹ کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری بلدیات ظاہر شاہ، اسپیشل سیکرٹری عامر لطیف،ڈائریکٹر جنرل بلدیات میاں عادل اقبال، ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ، ٹانک، لکی مروت، ہری پور، ہنگو، صوابی ، چارسدہ اور اربن پلاننگ یونٹ کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اضلاع میں بیوٹیفکیشن اینڈ اپ لفٹ پراجیکٹ کے تحت زیر غور منصوبوں پر بریفنگ دی۔ مذکورہ پراجیکٹ کے تحت ہر ضلع کے بڑے ٹاؤنز اور ان بازاروں میں مختلف چھوٹے چھوٹے ترقیاتی کام کیے جائیں گے جن میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور نالیاں بنانے کے ساتھ ساتھ روڈ لائٹس کی تنصیب بھی یقینی بنائی جائے گی۔ اسی طرح شہری علاقوں کو خوبصورت بنانے کے لیے پارکس، کھیلوں کے میدانوں ، نئے اور پہلے سے موجود پکنک سپاٹس پر سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ شہریوں کو اہلخانہ کے ہمراہ تفریح کے مواقع میسر آ سکیں۔ صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ بیوٹیفکیشن پراجیکٹ ٹانک اور لکی مروت جیسے پسماندہ اضلاع کے عوام کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی جگہ اور علاقے کی بیوٹیفکیشن اور اپ لفٹ سے پہلے اور بعد کی عکس بندی کی جائے اور تصاویر بھی لی جائیں تاکہ فرق سے عوام کو بھی آگاہ کیا جا سکے۔

مزید : صفحہ اول