اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 91

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 91
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 91

  

حضرت شیخ ابو عبداللہ قصیب البانؒ موصلی سے قاضی وقت کو بعض وجوہ کی بناء پر شدید اختلاف تھا۔ ایک روز کی بات ہے کہ آپ موصل کے کسی کوچے سے گزررہے تھے کہ قاضی شہر سے آمنا سامنا ہوگیا۔ قاضی نے دل میں سوچا کہ آج انہیں گرفت میں لے کر حاکم وقت کی تحویل میں دے دینا چاہیے تاکہ اس کے حکم سے انہیں عبرتناک سزا ملے۔

ابھی قاضی اسی شش و پنج میں تھا کہ اس نے دور سے گرد و غبار اڑتے ہوئے دیکھا جب یہ گردوغباسر کا چکر قریب پہنچاتو اس میں سے ایک شخص نمودار ہوا جو فقیہانہ لباس پہنے ہوئے تھا۔ اس نے قاضی سے دریافت کیا ’’وہ کون سا قصیب البان ہے جسے حاکم سے سزا دلوانے کی ٹھانی ہے۔‘‘

اس پر قاضی کو جوآپ کی ذات کے بارے میں شکوک و شبہات تھے ان کا ازالہ ہوگیا۔ اس نے فوراً توبہ کی اور اس کے بعد آپ کے مریدوں میں شامل ہوگیا۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 90 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بادشاہ جہانگیر اکثر یہ بات کہا کرتا کہ مَیں نے کوئی کام ایسا نہیں کیا جس سے نجات کی کوئی امید ہو۔ البتہ میرے پاس یہ ایک دستاویز ہے کہ مجھ سے ایک روز جناب شیخ احمد سرہندئیؒ نے فرمایا ’’کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں لے گیا تو ہم تمہارے بغیر نہ جائیں گے۔

***

حضرت جلال خواصؒ فرماتے ہیں کہ مَیں بنی اسرائیل میں تھا کہ مَیں نے ایک شخص کو اپنے ساتھ چلتے دیکھا۔ مجھے تعجب ہوا۔ جب انہوں نے میر انام لے کر مجھے پکارا تو میں نے کہا ’’حق تعالیٰ کی قسم ہے سچ بتائیے کہ آپ کون ہیں؟‘‘

فرمایا ’’میں خضرؑ ہوں۔‘‘

میں نے عرض کیا ’’کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آپ حضرت امام شافعیؒ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔‘‘

فرمایا ’’وہ ادتاد میں سے ہیں۔‘‘

میں نے کہا ’’احمد بن حنبلؒ کے حق میں کیا کہتے ہیں

فرمایا ’’وہ آدمی صدیق ہے۔‘‘

میں نے پھر کہا ’’بشر ابن حارثؒ کی نسبت آپ کیا کہتے ہیں

فرمایا ’’ان کے بعد پھر ویسا آدمی پیدا نہیں ہوا۔‘‘

میں نے کہا ’’مَیں نے کس کی برکت سے آپ کو دیکھا ہے۔‘‘

حضرت خضرؑ نے فرمایا ’’تجھے یہ سعادت اپنی والدہ کی خدمت کے طفیل حاصل ہوئی ہے۔

***

روایت ہے کہ جب سہیل ابن عبداللہ تستریؒ کی وفات ہوئی تو لوگ ان کے جنازے پر گرے پڑتے تھے۔

شور و غل سن کر دریافت حال کے لیے ایک یہودی اپنے مکان سے نکل آیا۔ جس کی عمر ستر برس سے زیادہ تھی۔ جنازہ دیکھ کر لوگوں سے دریافت کرنے کے بعد بولا جو کچھ میں دیکھتا ہوں۔ ’’وہ بھی تمہیں نظر آتا ہے۔‘‘

لوگوں نے پوچھا ’’تو کیا دیکھتا ہے۔‘‘

وہ بولا آسمان سے جوق درجوق فرشتے جنازے میں شرکت کے لیے چلے آرہے ہیں۔‘‘

اتنا کہنے کے بعد وہ یہودی مسلمان ہوگیا۔

***

جب شعواثہؒ بہت بوڑھی ہوگئیں اور عبادت نماز وغیر ہ سے بھی عاجر ہوگئیں، تو انہوں نے ایک شخص کو یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا۔

ترجمہ: ’’جب تک ہمارا غم ہے آنسو بہاؤ۔ کیونکہ آہ و زاری سے غمگینوں کو کبھی شفا نہیں ہوتی۔ اپنی عادت کے مطابق روزہ و نماز میں کوشش کرو۔ یہی خدا کے نیک بندروں کی عادت اور حالت ہے۔‘‘

یہ اشعار سن کر حضرت شعواثہؒ گریہ وزاری کرنے لگیں اکثر یہ شعر کہا کرتیں

ترجمہ ’’دان! اپنے ٹھکانے سے بے خوف ہوگیا ہے۔ ایک روز اتنا ہی ڈرے گا۔ جتنا وہ نڈ رہے۔‘‘

ایک روز فضیل ابن عیاضؒ ان کے پاس آئے اور کہا ’’میرے واسطے دعا کریں۔‘‘

کہنے لگیں کہ ایک فضیلؒ ! کیا خداوند عالم کے اور تمہارے درمیان یہ راز نہیں ہے کہ اگر آپ دعا کریں گے تو وہ قبول فرمائیں گے۔‘‘

یہ سن کر حضرت فضیلؒ نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئے۔

***

حضرت حبیب عجمیؒ کی زوجہ رات کے وقت انہیں جگاتی اور کہتی تھیں ’’کھڑا ہوجااے شخص! رات گزرگئی اور راستہ دراز ہے اور ہمارے پاس زاد راہ بہت قلیل ہے اور نیکوں کے قافلے ہم سے پہلے نکل چکے اور ہم رہ گئے۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 92 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے