اب اگر کسی کھلاڑی یا امپائر نے ’ابے کالے‘ کہا تو اس کا کیا حشر ہوگا؟ پی سی بی نے ’خوفناک‘ قانون متعارف کرادیا

اب اگر کسی کھلاڑی یا امپائر نے ’ابے کالے‘ کہا تو اس کا کیا حشر ہوگا؟ پی سی بی ...
اب اگر کسی کھلاڑی یا امپائر نے ’ابے کالے‘ کہا تو اس کا کیا حشر ہوگا؟ پی سی بی نے ’خوفناک‘ قانون متعارف کرادیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سرفراز احمد کے تنازعے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انسداد نسل پرستی کے حوالے سے نیا قانون متعارف کرادیا ہے۔ پی سی بی کی جانب سے بنائے گئے انسداد نسل پرستی کوڈ کا اطلاق پی ایس ایل سیزن فور سے ہوگا۔ اس قانون کا دائرہ کار کھلاڑیوں، ٹیم مینجمنٹ، امپائرز اور ریفریز تک وسیع ہوگا۔

انسداد نسل پرستی قانون کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی نسل پرستانہ کلمات ادا کرے یا کھیل کے دوران نسل پرستی پر مبنی حرکت کرے گا تو پہلی بار اسے 4 سے 8 میچز کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر وہ کھلاڑی دوسری بار نسل پرستی پر مبنی حرکت کا مرتکب ہوگا تو اسے 8 میچز یا تاحیات اور تیسری بار پر ایک سال یا تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس قانون کے تحت نسل پرستی کا مظاہرہ کرنے پر امپائر کو پہلی بار ایک سے تین ماہ کی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری بار تین ماہ سے تاحیات اور تیسری بار ایک سال سے تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ علاوہ ازیں نسل پرستی کے مرتکب قرار پانے والے افراد کو انسداد نسل پرستی تعلیمی پروگرام میں بھی بیٹھنا ہوگا۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے پروٹیز کھلاڑی فیلوک وائیو پر نسل پرستانہ جملہ کسا تھا۔ کپتان کو اس حرکت پر نہ صرف مذکورہ کھلاڑی سے معافی مانگنا پڑی تھی بلکہ انہیں آئی سی سی کی جانب سے 4 میچز کی پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

مزید : کھیل