سینئر صحافی رضوان رضی کی گرفتاری کے بعد وہ کام ہوگیا جو تحریک انصاف ن لیگ کے خلاف ہر روز ہی کرتی تھی

سینئر صحافی رضوان رضی کی گرفتاری کے بعد وہ کام ہوگیا جو تحریک انصاف ن لیگ کے ...
سینئر صحافی رضوان رضی کی گرفتاری کے بعد وہ کام ہوگیا جو تحریک انصاف ن لیگ کے خلاف ہر روز ہی کرتی تھی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی رضوان رضی کی گرفتاری کے بعد لاہور میں صحافیوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اینکر پرسن، ریڈیو جوکی، سینئر صحافی اور پروفیسر رضوان رضی کو آج (ہفتہ کی) صبح ان کے گھر سے نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے تھے۔ رضوان رضی کی گمشدگی کے خلاف سوشل میڈیا پر آواز بلند ہوئی تو پتا چلا کہ انہیں ایف آئی اے سائبر کرائم نے سائبر کرائم قوانین کے تحت حراست میں لیا ہے۔

سینئر صحافی کی گرفتاری کی سماجی، سیاسی و صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔ لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر کے باہر صحافیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مظاہرے میں سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، کالم نویس بلال غوری، امتیاز شاد، سینئر صحافی و ایڈیٹر روزنامہ سٹی 42 نوید چوہدری، نیوز ایڈیٹر روزنامہ پاکستان خالد شہزاد فاروقی، سینئر پروڈیوسر میاں حمزہ طاہر سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔

مظاہرین نے کہا کہ آزادی اظہار رائے پر قدغن کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔ موجودہ حکومت نے پہلے سینسر شپ اور بیروزگاری کے ہتھیار کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی اور جب اس سے بھی بات نہ بنی تو صحافیوں کو اٹھانا شروع کردیا ہے۔ صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ رضوان رضی کو فی الفور رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم مقدمہ واپس لیا جائے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور