سعودی عرب کا غیر ملکی ورکرز کی فیس کی رقم لوٹانے کا فیصلہ

سعودی عرب کا غیر ملکی ورکرز کی فیس کی رقم لوٹانے کا فیصلہ
سعودی عرب کا غیر ملکی ورکرز کی فیس کی رقم لوٹانے کا فیصلہ

  

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے غیر ملکیوں کے اجازت ناموں کی فیس میں اضافے کے باعث مالی مسائل کی شکار کمپنیوں کو اضافی رقوم واپس لوٹانے کا فیصلہ کرلیا ۔

العربیہ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے ایک سکیم کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت 2017 اور 2018 میں تارکِ وطن ملازمین کے کام کے اجازت ناموں کی مد میں فیس جمع کرانے والی کمپنیوں کو رقوم واپس کردی جائیں گی اور رقوم ادا کرنے سے قاصر کمپنیوں کو بڑھائی گئی فیسوں میں چھوٹ دے دی جائے گی۔

شاہی فرمان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس سکیم سے صرف وہی کمپنیاں فائدہ اٹھاسکیں گی جن کے پاس سعودی باشندے تارکینِ وطن سے زیادہ ملازمت کر رہے ہوں گے ۔وہ کمپنیاں بھی اس چھوٹ کی مستحق ہوں گی جن میں سعودی اور غیر ملکی کارکنوں کی تعداد برابر ہوگی۔ جن کمپنیوں کے پاس سعودی ملازمین کی تعداد کم ہے وہ اگر مزید سعودی شہریوں کو نوکریاں فراہم کریں تو انہیں بھی یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔سعودی حکومت کمپنیوں کو چھوٹ دینے کی مد میں ساڑھے گیارہ ارب ریال ( تین ارب دس کروڑ ڈالرز) کی رقم مختص کرے گی۔

سعودی عرب کے وزیر محنت احمد بن سلیمان الراجحی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ” اس اقدام سے نجی شعبے کی کمپنیوں کی معاونت ہوگی۔اس سے انہیں اپنی رکاوٹوں پر قابو پانے ، مقاصد کے حصول میں بھی مدد لے گی اور سعودی شہریوں کو اپنے یہاں روزگار دینے کی حوصلہ افزائی ہوگی“۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں 2020 ءتک روزگار کے سلسلے میں مقیم تارکینِ وطن کے ورک پرمٹوں کی فیس میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ اس پروگرام کو سعودی عرب میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے میں اہمیت کا حامل قراردیا جارہا ہے۔

مزید : عرب دنیا