سرعام پھانسی کی سزا عین اسلامی، لبرل طبقات کی مخالفت افسوسناک، علماء کنونشن

    سرعام پھانسی کی سزا عین اسلامی، لبرل طبقات کی مخالفت افسوسناک، علماء ...

  



لاہور (خصوصی رپورٹ) علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ سرعام پھانسی کی سزا اسلامی قواتین کے عین مطابق ہے، لبرل اور لادین طبقات کی طرف سے مخالفت افسوس ناک ہے۔تفصیلات کے مطابق مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمامنعقدہ علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرعلامہ ساجد میرنے کہا کہ مہنگائی کے سونامی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔ ملک میں مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد تک پہنچ گئی۔ چینی اور آٹا مہنگا کرکے اربوں روپے کمانے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اشرافیہ کے ٹیکس نہ دینے کا غصہ عام آدمی پر نکالا جارہا ہے۔اپوزیشن کی تقسیم کا فائدہ حکومت کو ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اپوزیشن جماعتوں سے گلے شکوے درست ہیں۔ بدقسمتی سے عوام کیلئے مسائل کم ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہو گئے ہیں اور اب آئی ایم ایف کی شرائط کے تابع مہنگائی کا نیا سونامی بھی اٹھ سکتا ہے جو حکومتی گورننس کیلئے یقیناً آزمائش کا باعث بنے گا اس لئے قومی معیشت کو جکڑنے والے آئی ایم ایف کے قرض کی خاطر اسکی ایسی شرائط من و عن قبول نہ کی جائیں جو مزید مہنگائی کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔ کنونشن سے سینیٹر حافظ عبدالکریم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شرافیہ ٹیکس نہ دے تو اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت کو توبس اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں۔ عوام پر کیا بیت رہی ہے اس سے حکومتی معاشی ماہرین کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ٹیکس لگائے جا ؤ۔ مہنگائی کرتے جاؤ۔ بجلی، گیس، پٹرول مہنگا کرتے جاؤاور پھر معصومیت سے کہو کہ مہنگائی کی وجہ ہماری پالیسیاں تو نہیں ہیں۔ یہ تو پچھلی حکومتوں کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ بس تھوڑا صبر کریں۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کنونشن سے علامہ ابتسام الہی ظہیر، قاری صہیب میر محمدی، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، مولانا عبدالحمید ہزاروی نے بھی خطاب کیا۔

علما ء کنونشن

مزید : صفحہ آخر