سرکاری پاسپورٹ بنانے کی سہولت ختم، ملازمین کو نئی پالیسی کاانتظار

  سرکاری پاسپورٹ بنانے کی سہولت ختم، ملازمین کو نئی پالیسی کاانتظار

  



ملتان (سٹاف رپورٹر) بیشترسرکاری افسروں ملازمین نے سرکاری پاسپورٹ نہیں بنوائے۔ سرکاری پاسپورٹ بنوانے کی نئی پالیسی نہ آسکی۔ بتایا گیا ہے کہ بیشتر سرکاری افسروں و ملازمین نے سرکاری کی بجائے اپنے پرائیویٹ طور پاسپورٹ بنوا رکھے تھے جن میں انہوں نے خود کو سرکاری ملازم ظاہر نہیں کیا تھا۔ اس پر وفاقی حکومت نے تمام سرکاری افسروں وملازمین (بقیہ نمبر39صفحہ12پر)

کے سرکاری پاسپورٹ بنانے کا حکم دے دیا جس میں سب کو سرکاری ملازم ظاہر کیا جانا تھا۔ اس سلسلے میں پاسپورٹ کی 3ہزا رروپے فیس کے علاوہ 5ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ یعنی مجموعی طور پر 8ہزار روپے فیس جمع کرانے کے بعد ان کے بطور سرکاری ملازمین پاسپورٹ جاری کئے گئے۔سرکاری پاسپورٹ بنانے کی سہولت ستمبر میں ختم ہو گئی مگر بیشتر افسروں وملازمین نے استفادہ نہیں کیا اور 4ماہ گزرنے کے بعد بھی نئی پالیسی سامنے نہیں آسکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی میں سرکاری افسروں وملازمین کے پاسپورٹ بنوانے پر جرمانہ کی رقم 5ہزار روپے سے بڑھا دی جائے گی جو10ہزار روپے یا اس سے زائد ہوگی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر