معاون خصوصی معدنیات عارف احمد زئی کو حکام کی بریفنگ

      معاون خصوصی معدنیات عارف احمد زئی کو حکام کی بریفنگ

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی کو محکمہ معدنیات کی جانب سے محکمے کے تمام امورکے موجودہ اور مستقبل کے لائحہ عمل بارے ڈائریکٹر جنرل حمیداللہ شاہ نے مائنز اینڈ منرلز ڈیپارٹمنٹ پشاور میں بریفنگ دی۔ معاون خصوصی کو بتایاگیا کہ محکمہ معدنیات نے کان کنی سے وابستہ کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو ملازمین کی فلاح و بہبود یقینی بنانے کے لئے واضح ہدایات دی ہیں جس پر عمل دارآمد ممکن بنایا جا رہا ہے،گزشتہ سال محکمہ کی جانب سے اب تک650 سے زائد طلبا و طالبات کو تعلیمی وظیفے دئیے گئے جبکہ اس سال ان تعلیمی وظائف کی تعداد ایک ہزار تک بڑھا دی جائے گی جس کیلئے ملازمین سے کوائف جمع کئے جا رہے ہیں۔ صوبے میں کان کنی سے وابستہ ملازمین کے لئے ورک سٹیشن پر دئیے جانے والی سہولیات کے متعلق معاون خصوصی کو آگاہ کرتے ہوتے ڈی جی محکمہ معدنیات نے کہا کہ اس وقت پورے صوبے میں سات ایمبولینسز کی مفت سہولت فراہم کی جارہی ہے جبکہ کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو بھی ملازمین کو طبی سہولیات دینے کا پابند بنایا گیا ہے۔معاون خصوصی برائے بلدیات عارف احمدزئی کو بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ معدنیات کے متعلق مقامی لوگوں اور ٹھیکیدار کے درمیان ایشوز کو مزید موثر طریقہ کار کے تحت حل کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ لائزان کمیٹی زیر غور ہے جس سے شکایات سمیت دیگر ایشوز کو بروقت اور تیزی کے ساتھ حل کیا جائے گا۔ محکمہ معدنیات میں ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر عوام کو خدمات کی فراہمی پر بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ آن لائن درخواست سسٹم متعارف کروایا گیا ہے جہاں سے درخواست گزاروں کو تمام دستیاب سہولیات تک رسائی دی گئی ہے۔ڈائریکٹر جنرل حمیداللہ شاہ نے بریفنگ اجلاس کو ملازمین، ذیلی دفاتر، پراجیکٹس سمیت دیگر اہم امور سے بھی آگاہ کیا۔محکمہ معدنیات کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈی جی حمیداللہ شاہ نے کہا کہ صوبے میں اکثر مقامات پر جہاں کہیں معدنیات ہیں وہاں پر محکمہ جنگلات کی جانب سے کام کرنے میں مشکلات ہیں جسے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن، نیشنل لاجسٹک سیل سمیت دیگر آرگنائزیشنز کے ذمے بقایاجات اور بلا اجازت کان کنی کے ایشوز پر بھی بریفنگ دی گئی۔ محکمہ معدنیات کوجدید بلڈنگ کی ضرورت اور گاڑیوں کی کمی پر بھی سیر بحث گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ معدنیات صوبے کی آمدن میں اضافہ کرنے میں بہترین کردار ادا کر سکتا ہے جس کو جدید مشینری اور بہترین منصوبہ بندی کے توسط سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جتنا ممکن ہو سکے لائنسسز کی تعداد بڑھا دی جائے اور سرمایہ کاروں کو بہترین ماحول فراہم کیا جائے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے اور انہیں سرمایہ کاری کی جانب مائل کرنے کی غرض سے مائنز و منرلز کو اچھے انداز میں پیش کیا جائے۔ ڈی جی محکمہ معدنیات کو ہدایات جاری کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ کے جتنے بھی اہلکاروں و آفیسرز کے خلاف شکایات درج ہیں ان کے خلاف فوری قانونی کاروائی کی جائے تاکہ عوام کو بغیر کسی رکاوٹ کے خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے دفتری امور کو ٹائم فریم کے تحت لانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہدایات دیں کہ ہر ایک ٹاسک کے لئے ٹائم فریم مقرر کیا جائے اور اس عمل کو ایک ہفتے میں مکمل کرکے ہر صورت لاگو کیا جائے۔ محکمہ معدنیات میں اس وقت جتنے بھی پراجیکٹس جاری ہیں اس کے متعلق علیحدہ سے خصوصی بریفنگ تیار کرکے پیش کی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر