وہ جِن کا اثر قبول کیا

وہ جِن کا اثر قبول کیا
وہ جِن کا اثر قبول کیا

  

دو ماہ کے وقفہ سے منفرد شاعر اور گورڈن کالج راولپنڈی کے ہم جماعت زمان ملک سے فون پر بات ہوئی تو شخصی خاکوں پہ میری مجوزہ کتاب کا ذکر بھی آ گیا۔ مَیں نے کہا کہ اکثر خاکے دس سے پندرہ صفحوں پر مشتمل ہیں، لیکن ایک صاحب کا تذکرہ کوئی دوگنا طویل ہے۔ ”وہ کیوں؟“ عرض کیا کہ اب سے دو سال پہلے تک یہ آدمی دنیا میں میرا سب سے پرانا جاننے والا تھا۔ اتنا پہچان کر کہ اشارہ میرے والد کی طرف ہے، زمان نے پوچھا: ”کیا یہ بھی لکھا ہے کہ مرحوم سرکاری پیسوں سے گھر پہ ملنے والے اخبارات کی ردی بیچتے تھے اور رقم دفتر کے ویلفئیر فنڈ میں جمع کرا دیتے تھے؟“ جواب نفی میں سُن کر زمان ملک سمجھانے لگے کہ یار، ضرور لکھنا، آج لوگوں کے لئے یہ بات عجیب ہوگی اور دلچسپی کا باعث۔ مجھے خیال آیا کہ نوجوانی میں جن کی عادتوں کا اثر مَیں نے لیا کیا وہ صرف میرے والدین ہی تھے؟

نہیں، اثر تو آپ کسی کا بھی قبول کر سکتے ہیں۔ جیسے سیالکوٹ میں خاندانی رشتہ کے لحاظ سے والد کے پھوپھا جمال دین جو ہمسائیگی کی بنا پر حکیم الامت کو باؤ اقبال کہہ کر یاد کیا کرتے۔ تعلیم میں اپنی عدم دلچسپی کی کہانی جب کبھی بیان کی تو اِن الفاظ میں کہ ”سارے شہر کے مدرسے اور مسجدیں چھان مارِیں، مگر الف آیا تو ب نہیں آئی اور ب آئی تو الف بھول گیا۔“ مَیں نے ایک بار پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں آپ نے زندگی بھر سنجیدگی سے کوئی کاروبار کیا ہی نہیں۔ مسکراتے ہوئے بولے: ”اڈہ پسروریاں کے چوک میں میر سلطان ٹمبر مرچنٹ کا نام اب بھی لکھا ہوا ہے۔ میرے ماموں تھے اور کاروبار تھا عمارتی لکڑی کا۔ مَیں نے بھی یہی کام شروع کیا۔“ ”تو پھر کیا ہوا؟“ بڑے اطمینان سے کہنے لگے: ”ہوا کیا؟ بس اللہ کو منظور نہیں تھا، کام نہیں چلا۔“ فخر سے یہ بھی کہا کرتے: ”جس سے چاہو جا کر پوچھ لو، مَیں نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔“

تشکر کا جو پُر مسرت جذبہ بزرگوار میں دیکھا، کبھی کسی اَور میں نظر نہیں آیا۔ حق نہ مارنے کی عادت کھری دیانت داری کے رجحان سے جُڑی ہوئی تھی۔ اِسی لئے تو ادھیڑ عمر میں، جو تیل اور گیس کُوکر سے پہلے کا زمانہ ہے، لکڑیوں کی ٹال کھول کر بیٹھ گئے جہاں نرخ شہر بھر میں سب سے زیادہ تھا۔ چنانچہ لوگ اُن کی طرف جانے سے کتراتے۔ کوئی بھُولا بھٹکا خریدار اگر آ ہی نکلتا تو ارشاد ہوتا: ”سُوکھی لکڑی بیچتے ہیں، گیلی نہیں بیچتے۔ اِس وجہ سے ریٹ ایک روپیہ من زیادہ ہے۔ وارا کھاتی ہے تو سو بسم اللہ، نہیں تو آپ کے لئے ٹال بہت اور ہمیں گاہک بہت۔“ ایک روز مَیں نے پوچھ ہی لیا کہ اِس طرزِ عمل کے نتیجے میں کبھی کسی سے کوئی اونچ نیچ نہیں ہوئی۔ کہا: ”خود تو بے انصافی کی نہیں۔ کسی نے ہم سے کی تو اتنا کہہ کے پیچھے ہٹ گئے کہ میاں، اپنی مرضی سے ہم کچہری کبھی گئے نہیں اور تھانہ اِس سے بھی زیادہ دُور ہے۔“

یہاں مذکورہ ٹال کے محلِ وقوع کی ایک علامتی اہمیت بھی بنتی ہے، یعنی اُس رام تلائی سے قربت جہاں سید عطا اللہ شاہ بخاری کے زیرِ قیادت انیس سو اکتیس کی ’کشمیر چلو‘ تحریک کے دوران مجلسِ احرار الاسلام کے جلسوں سمیت سیاسی اجتماعات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پھوپھا جمال دین کی ٹال پہ موجودگی میں ہم نے اول نمبر پہ تاش کی محفلیں دیکھیں اور تاش نہ ہو تو سیاسی بحث۔ پوری حلوہ سارا وقت چلتا رہتا، لیکن مجال ہے جو نوائے وقت، امروز اور کم از کم ایک انگریزی اخبار روزانہ سُننے سے چُوکے ہوں۔ پیپلز پارٹی بنی تو مخالفین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے جوش سے کہا کرتے: ”بھئی روٹی کا مسئلہ حل ہوجائے تو باقی مسئلہ رہا کونسا؟“ پھر بھی جب قومیائی گئی صنعتوں کا معیشت پہ منفی اثر پڑا تو ذوالفقار علی بھٹو سے نالاں ہو گئے۔

مَیں چھیڑنے کے انداز میں کہتا کہ آپ تو بھٹو کو بہت چنگا کہتے تھے۔ فرمایا: ”بعض اوقات اپنی اولاد بھی تو خراب ہوجاتی ہے۔“

یہ انسانی زاویہ اپنی جگہ لیکن ظاہری تعلیم سے بے بہرہ یہ شخص منطقی سوچ سے عاری ہرگز نہیں تھا۔ اسی لئے انہوں نے بنگال سے تعلق رکھنے والے دلت رہنما جوگندر ناتھ منڈل کی پاکستانی کابینہ میں شمولیت اور اُس پہ جماعت ِ احرار کے کارکنوں سے ہونے والی بحث کی کہانی مزے لے لے کر سُنائی تھی۔ ”اگلے دن کی بات سُنو (’اگلے دن‘ سے مراد ہے انیس سو سینتالیس) کہ امام دین میرے گلے پڑ گیا کہ قائدِ اعظم نے منڈل کو اولین کابینہ میں جگہ دے کر مسلمانوں کی حق تلفی کی ہے۔ مَیں نے پوچھا کہ تم نے ووٹ مسلم لیگ کے شیخ کرامت علی کو دیا تھا یا احرار کے مولانا مظہر علی اظہر کو۔ جب اُس نے مظہر علی اظہر کا نام لیا تو مَیں نے کہا کہ تم پوچھنے کا حق کیا رکھتے ہو۔ ارے بھئی پوچھیں تو ہم جو مسلم لیگ کے ممبر ہیں اور چندہ دیتے ہیں۔“

اب سوال اٹھے گا کہ شاہد ملک، تم نے نوعمری میں کیا صرف پھوپھا جمال دین ہی کا اثر قبول کیا یا کوئی اَور شخصیت بھی تھی۔ کیا بتاؤں کہ ایک کمال کے آدمی اِن کے علاوہ بھی ہیں، مگر وہ میرے پھوپھا تھے، میرے ابا کے نہیں۔ ہاں، چار بہنوں کے اکیلے بھائی یعنی ہمارے ابا کے ساتھ اُن کی بے تکلف دوستی اور پرانے خاندانی رشتہ کی بنا پر ہم نے انہیں ہمیشہ چاچا جی امین ہی کہا۔ عزیز و اقارب میں امین نام کے چار مزید قریبی عزیز بھی تھے۔ اِسی لئے تو چاچا جی کو دادا کے ایک اور بھانجے سے الگ پہچان دینے کی خاطر بڑے امین اور چھوٹے امین کی اصطلاحات وضع ہوئیں۔ پھر ہر کوئی کشمیر ہاؤس والی پھوپھو سکینہ کے شوہر کو غیرموجودگی میں خواجہ امین اور چاچا جی امین کو میاں صاحب کہنے لگا۔ اِسی طرح بھائی اسحاق کا امین تھا اور ٹانچی محلہ میں آپا نذیر کے بھائی جو اپنے والد کی غصیلی طبیعت کی بدولت امین ڈاہڈے دا کہلائے۔

پر چاچا جی امین کی بات کچھ اَور ہے کہ مَیں نے کسی بندے میں بادشاہ اور فقیر کے اوصاف ایک ہی وقت میں یوں باہم یکجا نہیں دیکھے۔ فقیری کا پہلو یہ کہ عام چائے کی پتی سے دس گنا مہنگا امپورٹڈ دارجیلنگ ٹی کا بڑا ڈبہ لے کر چاؤ سے گھر میں داخل ہوئے ہیں۔ پھوپھو سے چائے بنانے کو کہا ہے، اور وہ بھی لکڑی کی دھیمی آنچ پر۔ دو منٹ میں کیا دیکھا کہ میاں صاحب، جو اپنی گوری رنگت کے ساتھ ڈارک شیڈ کے انگلش سُوٹ میں جچ رہے ہیں، ہاتھ میں چمٹا لئے چولہے کے عین سامنے اُکڑوں بیٹھ گئے۔ پوچھا ”یہ کیا؟“ کہا ”حقے کی چلم تیار کر رہا ہوں، چائے کے ساتھ مزا دے گی۔“ بادشاہی کا رنگ ایسا کہ بزنس میں لین دین کے جھگڑے پر کسی آدمی کو پولیس کے حوالے کرنا پڑا اور اِس غرض سے پولیس والوں کی بشریت کا تقاضا بھی پورا کر دیا۔ اب اُسی ملزم پر جب تھانہ میں سختی شروع ہوئی تو اپنی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور مزید خرچہ کرکے اُسے خود ہی چھڑا لائے۔

متضاد رنگوں کے ہم آہنگ ہونے کی یہ کہانی بظاہر ناقابلِ فہم سی لگتی ہے، جسے سمجھنا چاہیں تو تین پشتیں پیچھے جا نا پڑے گا۔ مراد ہیں چاچا جی امین کے پرداد ا میاں غلام علی جو روایتی معنوں میں پارسا شخصیت کے مالک ہوتے ہوئے بھی انگریز کے دَور میں گورنمنٹ کنٹریکٹر تھے۔ اِسی حیثیت میں آنریری مجسٹریٹ ہوئے اور رئیسِ سیالکوٹ کہلائے۔ انہی کے لاہور منتقل ہو جانے والے بھائی منشی غلام قادر فصیح کی تصنیفات و تالیفات کی تعداد تاریخِ اسلام کی چار جلدوں سمیت پچاس سے اوپر بنتی ہے۔ غلام قادر فصیح وہی ہیں جن کے صاحبزادے ڈاکٹر ریاض قدیر اور مولوی ظفر اقبال بالترتیب کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے پرنسپل اور پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ہوئے اور اسلامیہ پارک لاہور کی ایک سڑک فصیح صاحب کے نام سے موسوم ہوئی۔ میاں غلام علی کے بال بچوں کو ورثہ میں دولت ملی تھی اور غلام قادر فصیح کی اولاد کو علمیت، لیکن جس مرحلے پہ چاچا جی امین نے آنکھ کھولی، اُسے سلطنتِ مغلیہ کا عہدِ زوال کہنا چاہیے۔

زوال اِن معنوں میں کہ خاندان کی سیالکوٹ رہ جانے والی شاخ میں سے بیشتر کے ساتھ وہی کچھ ہوا، جو مقامی اصطلاح میں ’پوتڑوں کے بگڑے ہوئے‘ امیر کبیر خاندانوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ عہدِ زوال میں ہوش سنبھالنے والے اکثر حساس بچے ہر کسی سے بے نیاز ہو کر صرف اپنی بقا کی جنگ میں مشغول ہو جایا کرتے ہیں۔ لیکن وہ بھی ہیں جنہوں نے اِس ہمہ گیر تجربے سے، بقول فیض ’عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی‘۔ میاں امین نے زندگی میں دونوں کام کئے۔ بقا کی جنگ میں والد کی بے وقت موت اور اپنی ادھوری تربیت کا انتقام یوں لیا کہ چھ چھوٹے بہن بھائیوں اور چاروں بیٹیوں کو اسکول سے یونیورسٹی تک تعلیم دلانے کی ہمت کی۔ اُدھر غریبوں کی حمایت کا یہ حال کہ کسی بھی ہوٹل یا ریستوران میں آرڈر بعد میں دیتے اور مجوزہ بِل سے زیادہ رقم بطور ٹِپ بیرے کے ہاتھ پہ پہلے رکھ دیتے۔ سرجیکل آلات کے معقول بزنس کے باوجود اِن عادات کا نتیجہ خسارے کی سرمایہ کاری تھی۔ سو، خسارہ پورا کرنے کے لئے اللہ میاں سے ایک خاموش معاہدہ کر لیا۔ بنیادی شق یہ تھی کہ مَیں ساری زندگی اپنا مکان نہیں بناؤں گا اور اِس کے عوض آپ میرے کسی کام میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ شواہد یہ ہیں کہ دونوں فریقوں نے اپنے اپنے حصے کا وعدہ خوب نبھایا۔

مزید :

رائے -کالم -