مسلمانوں میں فکری انتشار کیوں؟

مسلمانوں میں فکری انتشار کیوں؟
مسلمانوں میں فکری انتشار کیوں؟

  



ہم مسلمان اتنے متحارب فرقوں میں نہ بٹے ہوتے، ایک دوسرے کے گلے نہ کاٹ رہے ہوتے، قرآن جو عربی زبان میں نازل ہوا تھا، کاش وہ عربی زبان میں ہی پڑھا جاتا، اُس کا ترجمہ دنیا کی مختلف زبانوں میں نہ ہوتا…… قرآنِ حکیم تو ہدایت، حکمت اور عمل کی تلقین کرتا ہے۔ عبادات کا ذکر تو قرآن میں 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ قرآن کا تمام زور اِنسانوں کو عدل، امن اور سلوک سے رہنے پر ابھارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کلام میں صرف قرآن ہی ہے، جو تمام بنی نوع اِنسان کے لئے بھی ہے۔صرف قرآن ہی وہ آسمانی کتاب ہے جو سماجیات، معاشرت، معیشت، تجارت اور غیر مسلموں سے حُسن ِ سلوک کے بارے میں واضح ہدایات دیتی ہے۔ ہمارے اکابر اگر قرآن کی اِن ہدایات کا ایک جامع اور غیر متنازعہ مجموعہ غیر عرب مسلمانوں کے لئے تشکیل دے دیتے تو بعد میں آنے والے غیر عرب دینی عالم ترجموں اور تفسیروں کی دلدل میں پھنس کر اسلام کی وہ جگ ہنسائی نہ کرتے جو ابھی تک ہو رہی ہے۔نیک اور گناہ سے پاک زندگی گذارنے کے طریقے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی کئی طریقوں سے اور کئی کئی بار بیان کئے ہیں۔ اُن طریقوں کا ترجمہ کسی بھی زبان میں ہوتا تو اُن میں کسی قسم کا ابہام نہ ہوتا۔

ہم نے لوگوں سے کیسے سلوک کرنا ہے، کیا کیا ہم نہیں کھا سکتے، ہماری ازدواجی زندگی میں شوہر اور بیوی کے کیا حقوق اور فرائض ہیں، تجارت میں اپنے آپ کو بے ایمانی سے کیسے پاک رکھنا ہے، ہم نے جنگ میں دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے،مسلمانوں کے ذمے غیر مسلموں سے سلوک کرنے کے کیا فرائض ہیں،اللہ کے دیئے ہوئے ٹیکس کے نظام کو کیسے نافذ کرنا ہے، اولاد اور ماں باپ کے کیا فرائض اور حقوق ہیں، وراثت کیسے تقسیم ہونی ہے؟یہ تمام احوال دنیا داری سے متعلق ہیں۔ ہمارے دین کی ہی یہ خوبی ہے کہ اگر ہم اپنے دُنیاوی فرائض دیانت داری سے ادا کریں تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کے مستحق بن جاتے ہیں۔ صرف عبادتوں سے ثواب نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی معاشی و معاشرتی ذمہ داریوں پر عمل کرنے سے بھی ڈھیروں ثواب ملتا ہے۔ ہے کوئی ایسا دین یا دھرم جو ہمیں صاف ستھرا رہنے پر بھی انعام سے نوازے، جو ہمیں وعدے کا پاس رکھنے پر شاباش دے، جو ہمیں چغل خوری سے گریز کرنے پر اچھی آخرت کا مژدہ سنائے؟

جب رسولؐ اللہ حیات تھے اور اُن کے ذریعے ہمیں قرآن کی بنیادی تعلیم مل چکی تھی تو کیا اُس وقت اِسلام خاکم بدھن نا مکمل تھا کہ 100 سال بعد بڑے بڑے فقہیہ اپنے مختلف نظریات کے ساتھ منظر عام پر آگئے اور مسلمانوں کو مختلف مسائل میں اُلجھا دیا۔ اِن فقہوں کی اِتباع میں دینی عالموں نے غیر عرب مسلمانوں کے لئے قرآنی ترجمے اور تفسیریں لکھ کر ایک عام سے معصوم مسلمان کو ہر وقت اس فکر میں مبتلا کر دیا کہ پتہ نہیں یہ کام جو میَں کر رہا ہوں، وہ شریعت کے مطابق ہے یا نہیں؟ اِن تفسیروں نے ہمیں تشکیک میں مبتلا کر دیا۔ آسان حل آج کے مسلمان نے یہ ڈھونڈا کہ وہ جس گھر میں پیدا ہو ا ہے، اُسی گھر میں مانی جانے والی تفسیر اُس کی تفسیر ٹھہری، وہی شریعت کہلائی،وہی قرآن کی اصل تشریح کہلائی۔ ہر تفسیر کو ماننے والے علماء کا ٹولہ بنتا چلا گیا۔ یہ علماء اپنے اپنے نظریات میں شدت پسند ہو کر فتنے اور فساد کا باعث بن گئے۔ برصغیر کے مسلمان خاص طور پر شمالی برصغیر کے مسلمان (جس میں خطہ پاکستان بھی شامل ہے) بڑے سادہ لوح، مذہب پر،مذہبی ہستیوں پر اَندھا یقین رکھنے والے اور مذہب کے نام پر اپنا استحصال کروانے والے عوام ہیں۔ یہ مذہب کے بارے میں اپنی بنائی ہوئی تعبیر پر اپنا بھی نقصان کر لیں گے اور دوسروں کے لئے بھی وبالِ جان بن جائیں گے۔

سرکاری املاک کو جلا کر راکھ کر دیں گے۔ سیاسی ملّاؤں کے غیر اِرادی کارندے بن کر پورے ملک کی ایسی تیسی کر دیں گے۔ مغربی طاقتوں نے ہم پاکستانی مسلمانوں کی جذباتیت اور مذہبی لگن کو اچھی طرح بھا نپ لیا ہے۔ 1977ء کی پی این اے کی تحریک نے ذوالفقار علی بھٹو جیسے عوامی لیڈر کو پھانسی لگوادی تھی۔افغان / روس جنگ میں امریکہ نے جہاد کی چاشنی ڈال کر اور دنیا کے مسلمان نوجوانوں کو اس جنگ میں جھونک کر اپنا الّو سیدھا کیا۔ توہین رسالتؐ اور دین ِ اسلا م کے لئے سر کٹوانے کا جنون بھی مغربی طاقتوں نے نوٹ کیا۔ کرائے کے مولویوں سے اسلام کی سخت گیرانہ تاویلیں بنوائی گئیں،یہاں تک کہ مسلمان کا متبادل نام شدت پسند بن گیا۔ مغرب نے اپنے عوام کو ڈرانے کے لئے مسلمان کو ایک وحشی اور متعصب درندہ بنا کر پیش کیا۔ مغرب کے کارپوریٹ کلچر نے اپنے خوفزدہ عوام سے سیکیورٹی کے نام پر ٹیکسوں کی وصولیاں بھی شروع کیں اور اسلحہ سازی کی صنعت کو بے حساب ترقی دی۔ بے سمت تفسیروں اور مُلّاؤں کے نفرت انگیز لٹریچر کے مارے ہوئے مسلمان ملک آپس میں ہی لڑائیاں کرنے لگے اور مغرب کے اسلحہ ساز کارخانوں کی چاندی ہو گئی۔

یہ سب کیوں ہوا اور ہو رہا ہے؟…… قریباً قریباً دنیا کے تمام مسلمان فکری اِنتشار میں مبتلا ہیں۔ وہ اسلام سے نہیں،بلکہ اپنے مسلک سے جُڑے ہوئے ہیں۔ مغربی طاقتیں ہمارے مسلکی اختلاف کو عدم برداشت کی شکل دے کر چھوٹی چھوٹی جنگوں کا انتظام کر رہی ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے مسلمان ملک ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے امریکہ سے دھڑا دھڑ اسلحہ خرید رہے ہیں۔ امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کا کاروبار مسلمانوں کی آپس کی ناچاقی سے چمک رہا ہے۔ ہماری جذباتی پاکستانی قوم بھی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں کودنے کے لئے تیار ہو رہی تھی۔ مسلکی اعتبار سے تقسیم شدہ مولوی حضرات نے تو زور لگایا تھا کہ سعودی عرب اور یمن کی مقامی قسم کی جنگ کو شیعہ سنی جنگ میں بدل دیا جائے۔ سعودی عرب نے بھی پاکستانی عوام کے ساتھ براہِ راست ”لابنگ“ کر کے ہمارے عوام کو حرمین شریفین کی حفاظت کے نام پر جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔ شُکر کا مقام ہے کہ ہماری حکومت مذہبی نعرے بازی میں نہیں پھنسی، ورنہ امریکی اسلحہ سازوں کی اور چاندی ہوتی۔ قرآن کا عربی میں نزول اس لئے ہوا کہ نبی آخرالزمانؐ کی مادری زبان اہل ِ قریش میں بولی جانے والی عربی تھی۔ اوّل تو دنیا کی کوئی بھی زبان کسی بھی غیر زبان میں ترجمہ ہو کر 100 فیصد اپنے اصل اِظہار کا تاثر نہیں دے سکتی۔

اہل ِ قریش کی عربی میں قرآن کے نزول کی دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ بیان اور ذخیرہ ئالفاظ کے لحاظ سے اہل ِ قریش کی عربی بہت بلیغ تھی۔ دنیا کے تمام ماہرلسانیات عربی زبان کی فوقیت کو مانتے ہیں۔ اَب آپ سوچئے کہ عربی کے مقابلے میں اُردو، انگریزی، جرمن، فارسی یا اور کسی بھی بڑی زبان کا کیا مقام ہو گا۔ قرآن کے تمام تراجم، الفاظ، بلاغت اور عربی زبان کی وسیع تر گرامر کے لحاظ سے نہایت غیر مکمل ہیں۔ قرآن میں دئیے ہوئے الفاظ اللہ تعالیٰ نے منتخب کئے،جو حضرت جبرائیل کے ذریعے رسولؐ اللہ تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ کے منتخب شدہ الفاظ اور جملوں کا ترجمہ جب غیر عرب زبانوں میں ہو گا تو وہ مکمل تو ہر گز نہیں ہو گا۔ اُس غیر مکمل ترجمے سے تو ابہام اور غلط فہمی پیدا ہوگی۔اس ابہام کے مداوے کے لئے غیر عرب عالموں نے تفسیریں لکھنا شروع کیں۔ یقینا اِن مفسرین کی نیت نیک ہو گی، اُن کا مقصد خدا نہ کرے مسلکی فتنہ پھیلانا نہیں ہو گا، لیکن جو ہو چکا ہے اور جو ہو رہا ہے، اب وہ تو تفرقہ ہے۔ ہر مفسر نے اپنے ذہن اور سوچ کے مطابق قرآنی جملوں کا ترجمہ کیا ہے، جس کی وجہ سے بڑی خرابیاں پیداہو گئی ہیں، جن کا اَب دُور ہونا مشکل کیا نا ممکن ہے۔

مثال کے طور پر جب تک مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا، وہ مسلمانوں کے جیّد عالموں میں شمار ہوتے تھے۔ 19 ویں صدی کے آخر میں پورے ہندوستان میں مسیحیوں، سناتن دھرمی ہندوؤں اور مسلمان علماء میں ساری ساری رات مناظرے چلتے تھے، محض یہ ثابت کرنے کے لئے کہ کون سا دین / دھرم زیادہ اعلیٰ ہے یا سچا ہے؟ اِن مناظروں میں مرزا غلام احمد ہمیشہ چیمپن بن کر اُٹھے، لیکن جب کسی کے ذہن میں فتور آ جائے یا اعلیٰ کارکردگی اُسے سیدھے راستے سے بھٹکا دے اور وہ قرآن کی تفسیر اس نہج پر کرے کہ وہ خود کو نبی کا درجہ دے لے تو سمجھ لیں کہ اُس بندے کی قرآن فہمی میں فتور آگیا۔ مرزائی اصل قرآن جو عربی زبان میں ہے اُسی کو پڑھتے ہیں۔ اُن کی عبادت بھی ہماری طرح ہوتی ہے۔ وہ اپنی سجدہ گاہ میں آذان بھی حنفی عقیدے والے مسلمانوں کی طرح دیتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم نے اُن کو غیر مسلم کا مقام دے دیا؟ قرآنی تفسیرجو غلام احمد قادیانی نے تحریر کی، وہ اُس نے اپنی عربی دانی کے زور پر کی اور غلام احمد قادیانی کی تفسیر فتنے کا باعث بن گئی۔ اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کی تحریر شدہ تفسیر جو کنز الایمان کے نام سے مشہور ہے، اُس کا داخلہ تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک نے ممنوع کر رکھا ہے۔

وہ ہمارے اہل ِسنت کو کمزور ایمان والا سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب چونکہ اسلام کے بارے میں اپنا ایک خاص نقطہ ئ نظر رکھتا ہے، وہاں تو کنزالایمان کا نام لینا بھی بدعت سمجھا جاتا ہے۔ ہم مسلمانوں کی تخلیقی صلاحیتیں پچھلے500سال سے اسلام کے چھوٹے چھوٹے مسئلے حل کرنے پر صرف ہو گئیں،مگر مسئلے حل ہونے کی بجائے مزید اُلجھتے گئے اور ہم انٹیلکچوئیلی بنجر ہوتے گئے۔500سال پہلے کا یورپ غلاظت اور جہالت میں غرق تھا۔ یورپی عوام سال میں صرف ایک بار نہا سکتے تھے، کیونکہ سرد پانی کو گرم کرنے کی عوام میں مالی سکت نہیں تھی۔ یہی ہائی جین اور صفائی سے بے بہرہ قوم دین ِ اسلام کے تصور ِ صفائی اور طہارت سے متاثر ہو کر کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہماری عبادت گاہوں کے غسل خانے غلا ظت اور بدبو کا ڈھیر بن گئے۔ صرف صفائی اور طہارت کے بارے میں قرآن جو فرماتا ہے، اُسی کو اگر سلیس مادری زبان میں ترجمہ کر کے ہمارے بچوں کو پڑھایا جاتا تو شائد ہم غربت کے باوجود ایک صاف ستھری قوم ہوتے۔افسوس ہم مسلمان عوام کو کوئی ایسا عالم یا علماء کا گروہ نہیں ملا جو ہمیں روزمّرہ کی زندگی کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا۔ ہمارے تاجروں کو بے ایمانی اور ٹیکس چوری سے باز رکھتا، ملاوٹ والی اشیائے خورو نوش فروخت کرنے سے روکتا، گندگی اور غلاظت پھیلانے سے روکتا، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری سے روکتا…… کاش ہمارے دینی رہنما سیاست سے زیادہ عوام کی دنیاوی اصلاح پر توجہ دیتے۔ ترجموں اور تفسیروں کے گورکھ دھندے سے نکل کر اسلام کی تعلیم سادہ سے لفطوں میں بیان کر دیتے، کاش۔

مزید : رائے /کالم