آئی جی پی ثناء اللہ عباسی کا دورہ بنوں،شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے

  آئی جی پی ثناء اللہ عباسی کا دورہ بنوں،شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے

  

بنوں (بیوروپورٹ)آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ثناء اللہ عباسی نے بنوں کا ایک روزہ دورہ کیا وہ کمشنر بنوں عادل صدیق اور ڈی آئی جی بنوں عبدالغفور آفریدی کے ہمراہ بنوں پولیس لائن پہنچے تو ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے ان کا استقبال کیا پولیس کے چاق وچوبند دستے نے انہیں سلامی دی انہوں نے یادگار شہداء پر حاضری دی پھول چڑھائے اور دعا کی بعد ازاں حال ہی میں شہید ہونے والے ایس ایچ او تھانہ سٹی عبدالحمید مروت کے بچوں کو تحائف پیش کئے اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا اس موقع پر ڈی پی او ضلع لکی مروت قاسم علی خان،طاہر شاہ،ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر عقیق حسین،نیشنل پریس کلب کے قائمقام صفدر عامر خان اور دیگر پولیس آفسران بھی موجود تھے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ دوسرے اضلاع کا ہم صرف وزٹ کرتے ہیں لیکن آج بنوں میں پولیس کو خصوصی طور پر شاباش دینے آئے ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں بنوں اور ضلع لکی مروت پولیس نے الگ الگ کامیاب اپریشن کرکے عوام کیلئے درد سر بننے والے عناصر کو کچل دیا اور انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کو ثبوت دیتے ہوئے کامیاب اپریشن کئے پولیس کی اچھائی اور بھلائی کیلئے اقدامات ہماری اولین ترجیخ ہے خاصہ دار اور لیویز کے پولیس میں ضم ہونے کے بعد پولیس ایکٹ کا دائرہ ضم شدہ اضلاع تک بڑھادیا گیا ہے اور جو بنیادی حقوق پولیس کو مل رہی ہیں وہی حقوق ضم شدہ اضلاع کے خاصہ دارا ور لیویز پولیس کو بھی وہی مراعات اور حقوق ملیں گے بنیادی حقوق پولیس،فوج اور عام لوگوں پر لاگوہوتے ہیں ہم نے ریاست کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کا بھی تحفظ کرنا ہے اصل بات کسی کو بنیادی حقوق کا ملنا ہے پولیس نے وردی اپنے لئے نہیں پہنی ہے عوام کیلئے پہنی ہے عوام کو انکی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا ہماری اولین ترجیخ ہے ہم تو صرف انصاف کے پھول ہیں پولیس کے جتنے بھی ویلفیئر کے پراجیکٹس ہیں وہ چل رہے ہیں پراجیکٹس کیلئے اور پولیس کی تنخواہیں بڑھانے کیلئے کمیٹی بنائی ہے جیسے دوسرے پرائیویٹ سیکٹر میں بڑھائے جاتے ہیں لیکن میرے حساب سے یہ تنخواہیں پولیس کی ڈیوٹی اور قربانیوں کے برابر نہیں سپریم قربانیاں پولیس نے دی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے جتنا ہوسکتا ہے اسی کے مطابق تنخواہیں بڑھائی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ 9ہزار کے قریب لیویز اور خاصہ دار پولیس میں ضم ہوئے ہیں جنہیں پولیس کے مطابق مراعات اور حقوق دیئے جائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -