پارا چنار،بالیش خیل کی شاملات کا مسئلہ حل طلب

پارا چنار،بالیش خیل کی شاملات کا مسئلہ حل طلب

  



  

پاراچنار(نمائندہ پاکستان)حکومت بالیش خیل کے شاملات کا مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیرہی ہے اگر حکومت نے بالیش خیل کا مسئلہ حل نہ کیا تو ضلع کرم کے تمام اقوام اور قبائل بالیش خیل کا مسئلہ از خود حل کرنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے ان خیالات کا اظہار سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی، ملک محمد حسن علامہ یوسف حسین،سید مشیر حسین اور علامہ مزمل حسین نے لوئر کرم بالیش خیل میں طوری بنگش اقوام کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے حکومت اور دیگر ذمہ دار حکام سے مطالبہ کیا کہ بالیش خیل شاملات پر مخالف قبائل کی آباد کاری فوری طور پر روک دی جائے اور ضلع کرم کے تمام قبائل کا آپس میں شاملاتی رقبوں کے تنازعات کے فیصلے کاغذات مال کے مطابق کئے جائیں اور ضلع کرم کے امن کے لئے ضروری ہے کہ بالیش خیل کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ کہ سابق پولٹیکل ایجنٹ بصیر خان نے 460 مکانات مسمار کردئیے تھے اسی طرح ریونیو ریکارڈ کے مطابق تمام ناجائز قابضین کے گھر مسمار کئے جائیں ھم بارہا واضح کرچکے ہیں کہ شرعی طور پر اور رواج کے مطابق ایک فیصلے پر دوسرا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے علامہ عابد حسین الحسینی نے کہا کہ اگر ضلع کرم میں جہاں جہاں بھی کوئی کاغذات مال سے اپنا حق ثابت کرے ان کو حق ملنا چاہئے اسلام کسی کو پرائی زمین غضب کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیتا انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے شاملات پر دھڑا دھڑ آباد کاری کرنے والوں سے شازش کے تحت چشم پوشی ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے بالیش خیل قوم کو انصاف فراہم نہیں کیا تو ضلع کرم کے طوری بنگش قبائل انتہائی قدم اٹھانے پر حق بجانب ہونگے مقررین نے وزیراعظم عمران خان، گورنر اور وزیر اعلی خیبر پختون خواہ سے اس سلسلے میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کامطالبہ کیا

مزید : پشاورصفحہ آخر