ہمارے پاس جائیداد کا نقشہ اور کاغذات موجود ہیں،حاجی حیات

  ہمارے پاس جائیداد کا نقشہ اور کاغذات موجود ہیں،حاجی حیات

  



بٹ خیلہ(محمدعثمان یوسفزئی سے) ایڈیشنل ڈائریکٹرنیب عہدے کا ناجائز استعمال کرکے علاقے میں خون خرابے کی فضاء قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے آثاثہ جات بڑھانے کے لئے محکمہ مال اور ملاکنڈ انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر تقسیم ہند سے قبل بنائے گئے آراضی نقشہ جات میں ردوبدل کررہے ہیں جس سے پورے علاقے کے مالکان آراضیات میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ہمارے پاس ہمارے جائیداد کی نقشہ جات اور کاغذات موجود ہیں جبکہ محکمہ مال کے پٹواریوں محمد سجاد خان اور عمر رحیم کے ذریعے پُرانے نقشہ جات میں بھی ٹمپرنگ کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ کے رہنماء اور سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل حاجی حیات خان آف غنی ڈھیرئی اور یارمحمد خٹک نے غنی ڈھیرئی یونین کونسل کوپر میں علاقے کے دیگر مشران اور مالکان آراضیات کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر فضل ہادی اور اس کے بھائیوں نے محکمہ مال کے پٹواریوں محمد سجاد خان اور عمر رحیم کے ملی بھگت سے ہمارے جائیدادوں کے ریکارڈ اور نقشہ جات میں ردوبدل کرکے خسرے نمبر میں ٹمپرنگ کی ہے حالانکہ ہمارے جائیداد کا اصل نقشہ متعلقہ محکمہ اور ہمارے پاس موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ حاجی محمد سید مرحوم کے بیٹوں اور محمد آمین خان کے درمیان آراضی کا تبادلہ ہوا تھا جس کے مطابق محمد آمین خان نے اپنے جائیدادکا 14جریب ایک کنال اور سولہ مرلے آراضی کا تبادلہ حاجی محمد سید مرحوم کے بیٹوں جس کا مختار نامہ یار محمد کے نام ہے کے گیارہ جریب دو کنال اور13مرلے زمین میں کیا جو کہ خسرہ نمبر 687میں موجود ہے جبکہ باقی زمین کی نقد رقم مبلغ 43لاکھ روپے محمد آمین کو اد ا کی گئی۔ پریس کانفرنس کے دوران حاجی حیات خان اور یار محمد نے کہا کہ خسرہ نمبر 679میں محمد آمین کے حصے کی ٹوٹل آراضی رقبہ 45کنال 19مرلے کاغذات سے غائب کی گئی حالانکہ اس کے واربندی کا ریکارڈ محکمہ انہار اور محمد آمین کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب فضل ہادی اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر سرکاری محکموں اور اہلکاروں پر اپنے مرضی کے فیصلے کرانے کے لئے مختلف طریقوں سے پریشر ڈال رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ نیب آفیسر اس سے قبل بھی بد عنوانی اور غیر قانونی اقدامات کی وجہ سے معطل کئے گئے تھے جو کہ بعد میں دوبارہ بحال کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ آفیسر اور ان کے بھائیوں کا تعلق قبضہ مافیا کیساتھ ہے جو آثاثہ جات بنانے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں اور ناجائز طریقوں کے ذریعے لوگوں کے جائیدادوں پر قبضے کر رہے ہیں جس سے علاقے کے مالکان آراضیات میں شدید تشویش پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے علاقے میں آمن و آامن کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری مذکورہ نیب آفیسر پر ہو گی۔انہوں نے چیئرمین نیب، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سمیت وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور مذکورہ آفیسر کے خلاف کاروائی کی آپیل کی اور انصاف فراہمی کا مطالبہ کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر