کھوکراپار موناباؤ باڈر کوفوری کھولا جائے،سول سوسائٹی

  کھوکراپار موناباؤ باڈر کوفوری کھولا جائے،سول سوسائٹی

  



میرپورخاص(بیورورپورٹ)سول سو سائٹی اور سماجی تنظیموں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر انڈیا سے بات چیت کر کے کھوکراپار موناباؤ باڈر کو کھولا جائے تاکہ سندھ کے ہزاروں لوگ ہندوستان میں رہنے والے رشتے داروں سے ملنے کیلئے لمبا سفر نا کر سکیں اور واگا باڈر کی رشوت سے بچ سکیں، سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کے عہدیدار مقصور احمد راجپوت،نثار احمد شیخ، ندیم بھرگڑی، جنید مہر، بختیار شاہ، وسیم خانزادہ اور سہیل احمد سلطان پوری نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پچھلے سال انڈیا اور پاکستا ن کے درمیان تعلوقات خراب ہونے کے بعد واگا باڈر اور کھوکرا پار باڈر کو بند کر کے ٹرین سروس معطل کر دی تھی جس سے ہزاروں لوگ اپنے ہندوستان میں رہنے والے قریبی رشتیداروں سے ملنے سے محروم ہو گئے تھے تاہم بعدازاں وفاقی حکومت نے مبینہ طور پرنا انصافی کرتے ہوئے واگا باڈر کو کھول دیا لیکن تھرپارکر مونا باؤ باڈر کو ابھی تک نہیں کھولا جس کی وجہ سے سندھ میں رہنے والے ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے ملنے سے محروم ہیں،واضع رہے کہ (ر) جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں بہادرانہ فیصلہ کرتے ہوئے تھرپار کر مونا باؤ باڈر کھولنے کا حکم دیا تھا جس سے سندھ کے لوگوں میں خوشی کی لہر پیدا ہو گئی تھی اور سینکڑوں افراد ہر ہفتہ اس باڈر کے زریعے انڈیا جا رہے تھے اور وہاں سے یہاں آرہے تھے جبکہ اس باڈر سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر انڈیا سے تجارت بھی معطل رکھی تاہم انہوں نے کہا کہ واگا باڈر کو کچھ عرصے بند رہنے کے بعد وفاقی حکومت کے حکم پر کھول دیا گیا تاہم کھوکرا پار مونا باؤباڈر کے نا کھلنے سے سندھ میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے اور سندھ کے لوگ مذکورہ باڈر کی بندش کے ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیتے ہیں،انہوں نے مذید کہا کہ اس طرح کی ناانصافیاں سماج میں نفرت کو جنم دیتی ہیں انہوں نے وفاقی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کھوکراپار موناباؤ باڈر کو کھول کر تھر ایکسپریس ٹرین کو بحال کر کے سندھ کی عوام میں پائی جانے والی بیچنی اور تشویش کی لہر کو ختم کریں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر