صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں،آغا سراج درانی

  صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں،آغا سراج درانی

  



حیدرآباد(بیورو رپورٹ)اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراجی درانی نے بین الاقوامی اور قومی شہرت یافتہ یورولوجیکل سرجنز کی حیدرآباد کانفرنس میں شرکت پر ان کا پرزور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے محترمہ بینظیر بھٹواور پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق صحت کی سہولتیں ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبات تک پہنچانے کے لئے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ کہا ہے جبکہ پسماندہ علاقوں میں بھی علاج معالجے کی سہولتوں کا معیار بہتر کیا جا رہا ہے،توقع ہے کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں یورولوجیکل سہولتیں تحصیل کہ سطح پر فراہم۔کرنے میں مدد ملے گی۔وہ پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز حیدرآباد چیپٹر کے زیراہتمام 20ویں یوروکان 2020 کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، اس کانفرنس کا عنوان ہے یورولوجیکلز کی سہولتیں سب کے لئے سب جگہ، کانفرنس سے ایس آئی یو ٹی کے بانی ڈائریکٹر پروفیسر ادیب الحسن رضوی، لیاقت ہونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر بیکھارام، ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر پروفیسر ممتاز احمد اورپروفیسر شفیق الرحمن نے بھی خطاب کیا۔آغا سراج درانی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک اور پاکستان سے ممتاز۔پروفیسرز اور سرجنز کی حیدرآباد آمد سندھ کے لئے اعزاز ہے امید ہے کہ اس کا۔فرنس کے نتیجے میں یورولوجیکل سہولتیں تحصیل کی سطح تک پہنچانے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے صحت کہی سہولتیں بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور چھوٹے شہروں کی سطح پر بھی این آئی سی وی ڈی سینٹر قائم۔کئے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت ہیپاٹائٹس ایڈز جیسی مہلک۔بیماریوں کے سدباب کے لئے خصوصی پروگرام پر عمل کر رہی ہے جبکہ صحت کے میدان میں پرائیویٹ پبک پارٹنرزپ۔کے تحت۔بھی نتیجہ خیز کام ہو رہا ہے، انہوں نے پروفیسر ادیب الحسن رضوی کی ملک صوبہ سندھ اور خصوصا صوبے کے پسماندہ علاقوں کے لئے خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں خدمت خلق کی وجہ سے ان سے لوگوں کی توقعات بڑھ جاتی ہیں، انہوں نیکہا کہ ایس آئی یو ٹی کے تعاون سے لیاقت یونیورسٹی میں گردوں کے ٹرانسپلانٹیشن سینٹر کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔پروفیسر ادیب الحسن رضوی نے ملک، صوبہ سندھ میں صحت کی سرکاری سطح پر سہولتوں اور ایس آئی یو ٹی کہ خدمات پر تفصیلی اظہار خیال کیا اورکہا کہ ملک میں 85 فیصد شہری بیحد غربت کی وجہ سے صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں اور باقی 15 فیصد میں سے بھی نصف کو ہی معیاری سہولتیں میسر آتی ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی بالادستی کیمعاشرے میں غریب عوام نظرانداز کئے جا رہے ہیں، قومی وسائل۔مہں سے برائے نام۔حصہ ہی عام شہریوں پر صرفہ ہوتا ہے اس لئے مہلک بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس جدید دور میں بھی علاج کرانے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے ہزاروں لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر