ایمان فاطمہ، مریم اور بختاور

ایمان فاطمہ، مریم اور بختاور
 ایمان فاطمہ، مریم اور بختاور

  



جی میرا ہی نام محمد شریف ہے، ابھی ابھی پولیس تھانے سے چھٹ کر آ رہا ہوں اگر آپ کو میری بات سمجھ نہ آئے تو سمجھ لیجیے گا میں ابھی مکمل ہوش میں نہیں ہوں، پولیس نے مجھے بہت چپیڑیں ماری ہیں، میں نے کام ہی ایسا کیا تھا۔ خیر شکر ہے پولیس نے مجھے چھوڑ دیا وہ سمجھے میں کوئی قاتل ہوں، وہ بھی اپنی تین سالہ بیٹی کا قاتل، آپ کہتے ہیں کہ پولیس والے بہت پتھر دل ہوتے ہیں لیکن میں نے تو تھانیدار کی آنکھوں میں آنسو دیکھے جب اس نے مجھے گھر جانے کا کہا تو اس کی نگاہیں نیچی تھیں جیسے میں نہیں وہ مجرم ہے۔ آپ بتائیں کوئی اپنی بیٹی کو قتل کر سکتا ہے اچھا ٹھہریں میں آپ کو پوری بات سناتا ہوں،جیسا کہ میں نے بتایا میرا نام محمد شریف ہے میں کوٹ مٹھن کے گا?ں گہلن کا رہنے والا ہوں۔ ظاہر ہے ان گا?ں گوٹھوں میں میرے جیسے مزدوریاں ہی کرتے ہیں۔

میں بھی ایک مزدور ہوں۔ دیہاڑی لگ گئی تو کھا لیا ورنہ مجھے اور میری بیوی کو بھوکا رہنے کی عادت ہے، اچھا خیر سنیں تین سال قبل اللہ نے میرے گھر ایک چاند سی بیٹی عطا کی۔ آپ بھی صاحب اولاد ہیں بیٹیوں والے ہیں۔ کہتے ہیں بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں میں نے اللہ کی رحمت کو گود میں اٹھایا اس کا ماتھا چوما۔ اس کی آنکھوں میں دیکھا ایسا لگا جیسے وہ مجھ سے بہت خوش ہے اس کا چہرہ بے فرشتوں جیسا تھا اور وہ مسکرا مسکرا کے مجھے دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو بابا جی میرے پیارے بابا جی، میں نے اس کا نام ایمان رکھا، ایمان فاطمہ۔ جب میں رات کو گھر تھکا، ٹوٹا آتا تو میری بیوی اگر کچھ پکا ہوتا تو میرے سامنے رکھ دیتی، مجھے بس یہ جلدی ہوتی کہ کس طرح اپنی راج دلاری ایمان فاطمہ کو گود میں لے لوں، اسے گود میں لیتا تو یوں لگتا جیسے میری سارے دن کی تھکن اتر گئی، اس کا معصوم بدن میرے سارے درد سارے دکھ نچوڑ لیتا۔ میں اپنی بیوی سے کہتا او نصیبوں والی ہم نے ایمان فاطمہ کو پڑھا لکھا کہ بڑا افسر بنانا ہے۔ میں تھکن کے باوجود ایمان کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھتا وہ کبھی روتی تو میں پریشان ہو جاتا، آپ سمجھ سکتے ہیں اولاد کے آنسو کون دیکھ سکتا ہے کون برداشت کر سکتا ہے۔ میں اور میری بیوی بھوکے رہ لیتے لیکن ایمان فاطمہ کے دودھ اور خوراک میں کمی نہ آنے دیتے۔ ایمان فاطمہ تو ہمارے گھر کی رونق اور واحد خوشی تھی۔ اب میں کیا بتاؤں ہم جیسے تیسے زندہ تھے میں تو خاص طور پر اب بس ایمان فاطمہ کے لئے زندہ تھا۔

دن ایسے ہوا میں اڑے پتہ ہی نہ چلا ہماری ایمان فاطمہ تین سال کی ہو گئی۔ اب وہ توتلی زبان میں مجھے ابا بھی کہنے لگ گئی تھی۔ جب پہلی بار اس نے مجھے ابا کہا تو میں کچھ بول نہ سکا، میں نے پہلی بار خود کو مکمل محسوس کیا۔ پھر پتہ ہے کیا ہوا ہماری ایمان کو نظر لگ گئی ایک دن اچانک وہ بیمار ہوئی اس کا سانس اکھڑنے لگا، گھر میں اندھیرا بڑھ رہا تھا آج کھانے کو بھی کچھ نہیں تھا، ایمان کا بخار تیز سے تیز ہو رہا تھا۔ وہ تو خدا کا شکر ہماری جھونپڑی کے ساتھ ہی چودھریوں کی حویلی ہے وہاں ان کی بیٹی کی شادی کی تقریب تھی، اونچے اونچے گانوں اور ڈھول تماشے کے شور میں ایمان کی آواز دب گئی ورنہ اس کا رونا مجھے کاٹ رہا تھا۔ میں نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا، لیکن اس کا چہرہ مجھے بہت خوفناک لگا اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں موت کی پرچھائیاں تھیں۔

میں زیادہ دیر اس کا چہرہ نہ دیکھ سکا، میرے آنسو میرے کام آ گئے اور اس کا چہرہ دھندلا گیا۔کیا کریں؟ کس کے پاس جائیں میں نے اپنی بیوی سے کہا ایمان کو ڈاکٹر کے لے کے جانا ہے۔ کچھ پیسے ہیں ں؟؟میری بیوی تو جیسے سکتے میں چلی گئی اس نے میری طرف دیکھا اور اپنے دونوں ہاتھ اور ہتھیلیاں پھیلا دیں ان کے خالی پن سے مجھے جواب مل گیا۔ ہمارے گھر میں ایک دمڑی نہیں تھی۔ ہمسائیوں سے پیسے اس لئے نہیں مل سکتے تھے کہ وہ ہمیں ادھار دے کر اور پھر واپسی نہ ملنے پر پہلے ہی ہم سے بول چال بند کر بیٹھے تھے۔باقی ہم سے ویسے ہی کتراتے تھے کہ کہیں ہم کچھ مانگ نہ لیں۔ اللہ نہ کرے آپ کی زندگی میں وہ 48گھنٹے آئیں، میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایمان فاطمہ کوجھگی میں بند کر لیا، ہمارا کوئی تھا ہی نہیں کس کو آواز دیتے، مجھے نہیں معلوم ہم لوگ کیوں پیدا ہوئے اور پھر ہمارے گھر ایمان فاطمہ کیوں پیدا ہوتی ہیں۔ دو دن میں اپنی بیوی کے ساتھ گھر میں قید رہا، ایمان فاطمہ کے لئے بہت خواب دیکھے تھے، میری بیوی کہتی او شریفیا بیٹی جوان ہو رہی ہے۔ اسے بیاہنابھی ہے۔ میں کہتا بھلی لوکے فکر نہ کر۔ ویکھیں اپنی دھی رانی کو کیسے شان سے رخصت کروں گا۔ پورے پنڈ کو کھانا کھلا?ں گا۔ ایسا ودھیا جہیز دوں گا کہ ساری دنیا ویکھے گی۔

رات کے تین بجے ہیں میری جھگی میں موت کا سا سناٹا ہے۔ میں جاگ رہا ہوں، میری بیوی یک ٹک آسمان کی طرف دیکھے جا رہی ہے۔ ایمان فاطمہ کی رونے کی آواز بند ہو چکی۔ اس اندھیرے میں اس کی آنکھوں کی روشنی مانند پڑ گئی۔ میری بیوی کے ہونٹ کانپ رہے ہیں اس کا جسم لرز رہا ہے۔ اس نے مجھے ہلایا ایمان کی طرف اشارہ کیا، ایمان فاطمہ مر چکی تھی۔ میرے الفاظ بھی ختم ہو چکے تھے۔ میں ساری رات ایمان فاطمہ کی لاش گود میں لئے بیٹھا رہا۔ صبح لوگ آئے اور ترسیدہ نظروں سے ہم پر رحم کی بھیک ڈال کر چلے گئے۔ آپ ہی بتائیں میں ایمان کا کفن کہاں سے لاتا اس کی قبر کیلئے زمین کہاں سے خریدتا۔ آپ مجھے ظالم کہیں پتھر دل کہیں پھانسی لگا دیں، میں کیا کرتا میں نے اپنی ایمان فاطمہ کا گڑھا کھودا اور اس میں دفنا دیا۔ باقی کی کہانی آپ کو پتہ ہے،لوگ سمجھے میں نے اپنی ایمان کو مار دیا ہے، بھلا کوئی اپنی راج دلاریوں کو بھی مارتا ہے۔ خیر مجھے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ جنہوں نے جاتے ہی میری اچھی خاصی چھترول کی۔ لیکن انہیں اصل بات پتہ چل ہی گئی اور تھانیدار نے روتے ہوئے مجھے گھر بھیج دیا۔

آپ کو چاہئے مجھ سے نفرت کریں میں اپنی بیٹی کو نہ بچا سکا۔ سنا ہے اس ملک میں مریم بختاور آصفہ جیسی شہزادیاں رہتی ہیں۔ جن کے والدین خاص طور پر والد ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ ایسا ہی ہوتا ہے باپ کو اپنی بیٹیاں بہت عزیز ہوتی ہیں۔ میری دعا ہے یہ بیٹیاں سب کی بیٹیاں سلامت رہیں ان میں کوئی بھی ایمان فاطمہ نہ بنے۔ ایمان فاطمہ جیسیوں کا کیا ہے اپنوں نے زندہ رہ کر بھی کیا کرلینا ہے۔ اچھا ہواوہ مر گئی بس یہ ملک سلامت رہے وہ غریبوں کے راہنما سلامت رہیں، میرے گا?ں کی مسجد کے امام سے لیکر تمام علماء سلامت رہیں، ہم مرتے ہیں تو مر جائیں، اس مملکت خدا داد پاکستان ریاست مدینہ میں ہمارا یہی کردار ہی بس اتنا ہی ہے۔

مزید : رائے /کالم