انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے بعد اب کبڈی

انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے بعد اب کبڈی

  



پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کبڈی ورلڈ کپ کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں دنیا بھر کی کبڈی کی بہترین ٹیمیں جلوہ گر ہورہی ہیں جن میں بھارت کی کبڈی ٹیم بھی شامل ہے کبڈی پاکستان ثقافت کا وہ کھیل ہے جس نے پوری دنیامیں پاکستان کا نام روشن کیا ماضی میں اس کھیل میں جس طرح سے پاکستانی ریسلرز نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اس کی مثال نہیں ملتی مگر اب اس کھیل کو پاکستان میں وہ مقام حاصل نہیں رہا جس کی وجہ سے یہ کھیل تنزلی کی جانب گامزن ہے مگر اب کبڈی ورلڈ کپ کے انعقاد سے یہ امید کی جارہی ہے کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ دوبارہ یہ کھیل پاکستان میں اپنی آب و تاب سے چمکے گا اور اس کا مستقبل بھی روشن ہوگا اس کھیل سے وابستہ ریسلرز کے لئے یہ موقع یادگار و تاریخی ہے جب وہ پہلی مرتبہ اپنی سر زمین پر اپنے کھیل سے شائقین کو محظوظ کریں گے شائقین میں بھی اس حوالے سے بھرپور جوش و خروش پایا جاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان میں اس کھیل کے انعقاد کے حامی ہیں اور کرکٹ ودیگر کھیلوں کی طرح وہ کبڈی کے انٹرنیشنل مقابلے بھی متواتر پاکستان میں منعقد کروانے کی خواہش رکھتے ہیں کبڈی ورلڈ کپ کے بعد اب پاکستان میں ایک مرتبہ دوبارہ اس کھیل کی رونقیں ضرور بحال ہوں گی کبڈی ورلڈ کپ کا انعقاد پاکستان کبڈی فیڈریشن کے عہدے داروں کی بہترین کاوش کا نتیجہ ہے پاکستان کے مختلف شہروں میں کبڈی ورلڈ کپ کے مقابلے ہوں گے جس کے باقاعدہ شیڈول کااعلان کردیا گیا ہیکبڈی ورلڈ کپ 2020ء میں پاکستان، بھارت، ایران، آسٹریلیا، جرمنی، کینیڈا، انگلینڈ، سرا لیون، کینیا اور آذربائیجان کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں،پہلے روز9فروری کو پنجاب سٹیڈیم میں پہلا میچ ساڑھے 6سے ساڑھے 7بجے پاکستان اور کینیڈا، دوسرا میچ رات 8سے 9بجے تک ایران اور سرالیون کے درمیان ہوگا،دوسرے روز 10فروری کو پنجاب سٹیڈیم میں پہلا میچ 3بجے سے 4بجے بھارت اور جرمنی، دوسرا میچ ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ بجے تک آذربائیجان اور کینیا، تیسرا میچ 6سے7بجے ایران اور برطانیہ جبکہ چوتھا میچ آسٹریلیا اور کینیڈا کے درمیان ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے ہوگا،تیسرے روز 11فروری کو پنجاب سٹیڈیم میں پہلا میچ 3بجے سے 4بجے آسٹریلیا اور آذربائیجان، دوسرا میچ ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ بجے تک برطانیہ اور جرمنی، تیسرا میچ 6سے7بجے سرالیون اور بھارت جبکہ چوتھا میچ پاکستان اور کینیا کے درمیان ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے ہوگا،چوتھے روز 12فروری کو اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں پہلا میچ 3بجے سے 4بجے آذربائیجان اور کینیڈا، دوسرا میچ ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ بجے تک ایران اور جرمنی، تیسرا میچ 6سے7بجے سیرالیون اور برطانیہ جبکہ چوتھا میچ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے ہوگا،پانچویں روز 13فروری کو اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں پہلا میچ 3بجے سے 4بجے کینیڈا اور کینیا، دوسرا میچ ساڑھے چار سے ساڑھے پانچ بجے تک پاکستان اور آذربائیجان، تیسرا میچ 6سے7بجے ایران اور بھارت جبکہ چوتھا میچ سرالیون اور جرمنی کے درمیان ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے ہوگا،چھٹے روز 14فروری کو ظہور الٰہی سٹیڈیم گجرات میں پہلا میچ دوپہر ایک سے دو بجے آسٹریلیا اور کینیا جبکہ دوسرا میچ دوپہر ڈھائی سے ساڑھے تین بجے تک بھارت اور انگلینڈ کے درمیان ہوگا،ساتویں روز 15فروری کو پنجاب سٹیڈیم میں پہلا سیمی فائنل چھ سے سات بجے ونر ٹیم پول اے اور رنر اپ ٹیم پول بی جبکہ دوسرا سیمی فائنل ساڑھے سات سے ساڑھے آٹھ بجے تک ونر ٹیم پول بی اور رنر اپ ٹیم پول اے کے درمیان کھیلا جائے گا۔آٹھویں روز 16فروری کو پنجاب سٹیڈیم لاہور میں تیسری اور چوتھی پوزیشن کے لئے چار سے پانچ بجے لوزر ون سیمی فائنل اور لوزر ٹو سیمی فائنل کے درمیان ہوگا جبکہ کبڈی ورلڈ کپ 2020ء کا فائنل سات سے آٹھ بجے ہوگا۔جبکہ کبڈی ورلڈ کپ 2020ء کے حوالے سے صوبائی وزیر کھیل، امور نوجوانان، آثار قدیمہ و سیاحت رائے تیمور خان بھٹی سے خصوصی گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے سپورٹس کے لئے کئے گئے اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں،انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب کو کبڈی ورلڈ کپ2020ء کی میزبانی کا موقع کا ملا ہے،کبڈی ورلڈ کپ کے انعقاد سے ہم ”اپنی مٹی،اپنا کھیل“ کی روایت کو بحال کررہے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی سپورٹس کے دروازے کھل گئے ہیں، سیاح بھی پاکستان آرہے ہیں، ہماری کبڈی ٹیم کی بھرپور تیاری ہے، انشاء اللہ کبڈی ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی،انہوں نے کہا ہے کہ کھلاڑی محنت اور جیت کے جذبے کے ساتھ میدان میں اتریں اور ٹائیٹل جیت کر پاکستان کا نام روشن کریں، ہمارے کھلاڑیوں کا دنیا کی کبڈی ٹیموں میں بہت نام ہے، دوسری ٹیموں پر پاکستان کبڈی ٹیم حاوی ہے، کھلاڑی جیت کے عزم کو بلند رکھیں، اللہ تعالیٰ پاکستان کو کامیابی عطا کرے گا ،صوبائی وزیر کھیل نے کہا ہے کہ کبڈی ورلڈ کپ میں پاکستان کے علاوہ دنیا کے 9 ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، ہم پُرامید ہیں کہ بھارت کی ٹیم بھی پاکستان آئے گی اور دنیا کے کبڈی کے کھلاڑیوں کا مقابلے کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل سپورٹس بحال ہوگئی ہے، حال ہی میں سری لنکا اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیمیں پاکستان میں کھیل کر گئی ہیں اور اب بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم ٹیسٹ میچ کھیلنے پھر پاکستان آئی ہوئی ہے، انگلینڈ کا کاؤنٹی کلب بھی پاکستان کھیلنے کے لئے آرہاہے، کبڈی ورلڈ کپ کے انعقاد سے ہم ”اپنی مٹی،اپنا کھیل“ کی روایت کو بحال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کبڈی ورلڈ کپ 2020ء کے انعقاد سے ہم تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں، 70سالوں میں کبڈی ورلڈ کپ پہلی بار پاکستان میں منعقد ہورہا ہے جو کہ دنیا کا حکومت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیاہے، ہم حقیقی معنوں میں سپورٹس کو آگے لے کر جارہے ہیں، کبڈی ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی آمد متوقع ہے جو کہ اس کا افتتاح کریں گے۔ صوبائی وزیر کھیل، امور نوجوانان، آثار قدیمہ و سیاحت رائے تیمور خان بھٹی نے مزید کہا ہے کہ کئی سالوں بعد پاکستان میں سپورٹس کا میگا ایونٹ منعقد ہورہا ہے، کبڈی پنجاب کے نوجوانوں کا پسندیدہ اور پنجاب کا روایتی کھیل ہے، کبڈی پنجاب کی پہچان ہے، کبڈی کے کھیل کو عروج تک پہنچائیں گے، شائقین اپنی فیملیز کے ساتھ آکر مقابلے دیکھیں اور اپنی مٹی اور اپنے کھیل سے محبت کا بھرپور اظہار کریں، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عدنان ارشد اولکھ نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ روایتی کھیل ہمارے کلچر کا حصہ ہیں، جن میں کبڈی نوجوانوں سب سے پسندیدہ کھیل ہے، کبڈی کے کھیل کو ایک بار پھر زندہ کیا جارہا ہے، گزشتہ برس اس کا آغاز انٹرنیشنل کبڈی ٹاکرا کے انعقاد سے کردیا گیا، اب کبڈی ورلڈ کپ 2020ء منعقد ہورہا ہے، 9ممالک کی کبڈی ٹیموں کی آمد اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان کا دنیا میں بہترامیج قائم ہوگیا ہے اور اب بین الاقوامی ٹیمیں بلاخوف پاکستان آرہی ہیں، مہمان ٹیموں کی بھرپور میزبانی کریں گے اور ان کو بتائیں گے کہ پاکستانی بہت مہمان نواز اور سپورٹس سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، کبڈی ورلڈ کپ 2020ء کے موقع پر لاہور میں میلے کا ماحول ہوگا، شائقین کبڈی فیملیز کے ساتھ پنجاب سٹیڈیم میں آکر میچز دیکھیں اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

مزید : ایڈیشن 1