بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ ٹیم کی ایک اہم آزمائش

بنگلہ دیش کے خلاف پہلا ٹیسٹ ٹیم کی ایک اہم آزمائش

  



پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں جاری ہے،بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم پہلی بار راولپنڈی میں ٹیسٹ میچ کھیلے رہی ہے،پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف اب تک کھیلے گئے ٹیسٹ میچز میں ناقابل شکست ہے،دونوں ٹیموں کے درمیان 10ٹیسٹ میچز کھیلے گئے، پاکستان نے 9میچز میں کامیابی حاصل کی جبکہ ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا۔ 2001 سے 2015 تک دونوں ٹیموں کے درمیان 10 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے، پاکستان نے 9 میچز میں کامیابی حاصل کی جبکہ ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا، اس طرح پاکستانی ٹیم کی جیت کا تناسب 90 فیصد ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ 2001 میں ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا گیا جس میں پاکستانی ٹیم نے اننگز اور 264رنز سے کامیابی حاصل کی۔ دونوں ٹیموں کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2015 میں بنگلہ دیش میں کھیلی گئی، دو میچوں کی سیریز پاکستان نے 1-0سے اپنے نام کی، بنگلہ دیش نے تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے خلاف ٹیسٹ ڈرا کھیلا جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے 328رنز سے کامیابی حاصل کی۔بنگلہ دیشی ٹیم پہلے ٹیسٹ میچ میں شرکت کے بعد اپنے وطن واپس چلی جائے گی اور پھر واحد ون ڈے اور دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں شرکت کے لئے اپریل میں دوبارہ پاکستان آئے گی۔جبکہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹیسٹ میچ کی میزبانی کر رہاہے،راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں تقریباً 18 ہزار شائقین میچ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ 350 کروڑ روپے کی لاگت سے اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کاکام حال ہی میں دسمبر میں مکمل ہوا۔اسٹیڈیم میں 100 روپے والی ٹکٹس کرسیوں والے انکلوڑرز جبکہ 50 روپے والی ٹکٹسں سیڑھیوں والے انکلوڑرز کے لیے مختص ہیں۔ا سٹیڈیم کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ راولپنڈی ٹیسٹ دیکھنے کیلئے آ نیوالے شایقین واک تھرو گیٹس سے ہوتے ہوئے سیکیورٹی چیکنگ کے عمل سے گزریں گے۔ انکلوڑرز میں داخل ہونے کے لیے اسٹیڈیم میں آٹھ گیٹس ہیں۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کا 57واں اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو پاکستان میں 2 ٹیسٹ، 1 ایک روزہ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل سیریز کھیلنے کے لیے آمادہ کرنے پر بی او جی نے پی سی بی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو کو سراہا۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے اس سیریز کے تناظر میں بی او جی اراکین کو آگاہ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے میڈیا رائٹس پارٹنر کے ساتھ تنازعہ کو افہام و تفہیم سے حل کرتے ہوئے سیریز سے (میڈیا رپورٹس کے برخلاف) 3.75ملین امریکی ڈالر کی آمدن کی ہے۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کو ممکن بنانے سے متعلق بورڈ کی کاوش پر بی او جی کی تعریف کے مشکور ہیں۔احسان مانی نے کہا کہ اگر پی سی بی میڈیا رائٹس پارٹنر سے متعلق تنازعہ حل کرنے میں کامیاب نہ ہوتا تو یقیناََ یہ سیریز بھی منعقد نہ ہوتی اور ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی بھی مشکل کا شکار ہوجاتی۔اجلاس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مصباح الحق نے ستمبر 2019(عہدے کا چارج سنبھالا) سے اب تک قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے اراکین کو کھلاڑیوں کی فٹنس، ڈومیسٹک کرکٹ، ایونٹس کے شیڈول، ٹیم کی تیاری، کھلاڑیوں کے انتخاب کا طریقہ کاراور مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا۔بی او جی اراکین نے مصباح الحق کی محنت کو سراہا۔اجلاس میں اراکین کو ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ لیگ کے میچز 20 فروری سے 22 مارچ تک کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے کہاکہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے کامیاب انعقاد کے لیے پی سی بی میں سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں،سخت شیڈول کے باوجود پی سی بی کا عملہ لیگ کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور محنت کررہا ہے۔ وسیم خان نے کہاکہ بنگلہ دیش اور مارلی بون کرکٹ کلب کے پاکستان میں میچز کے باعث آئندہ چند ماہ شائقین کرکٹ کوکثیر کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔بی اوجی نے بیرسٹر سلمان نصیر کی بطورچیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے بی او جی نے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی تجویز کی منظوری دی۔ احسان مانی نے بی او جی کے دو اراکین، اسد علی خان اور شاہ ریز عبداللہ خان، کے ہمراہ ایک ریکروٹنمنٹ عمل کے بعدبی او جی کو یہ نام تجویز کیا تھا۔ بی او جی نے کرکٹ ایسوسی ایشنز اور پی سی بی کے آئین 2019 میں چند تبدیلیاں کرکے سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے لیے ماڈل آئین کی منظوری دے دی ہے۔بی او جی نے پی سی بی کی فنانشل اسٹیٹمنٹ برائے 19-2018 منظور کرلی ہے، جس کے مطابق6 ارب روپے آمدن ہوئی۔ اس آمدن میں اہم حصہ آسٹریلیااورنیوزی لینڈسیریز کے علاوہ آئی سی سی اور ایچ بی ایل پی ایس ایل سے حاصل ہونے والے روینیونمایاں ہیں۔آمدن میں اضافہ کے باوجود پی سی بی نے اخراجات میں واضح کمی ہے۔بی او جی نے رواں سال اے سی سی ایشیا کپ کی میزبانی کے حوالے سے فیصلہ کا اختیار چیئرمین پی سی بی کو دے دیا ہے۔اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی احسان مانی پی سی بی کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جلد ایک تجویز ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں پیش کریں گے۔بی او جی نے اجلاس میں غیرملکی لیگز کے لیے این او سی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کرکٹرزایچ بی ایل پی ایس ایل کے علاوہ زیادہ سے زیادہ تین(3) غیر ملکی لیگز کے لییپی سی بی سے این او سی کے حصول کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔ کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے کی گئی این اوسی کی درخواست کی حتمی منظوری پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسردیں گے۔بی او جی کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نمائندگان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔بی او جی کو بتایا گیا کہ پی سی بی مارچ میں آئی سی سی کو ایونٹس کی میزبانی سے متعلق اپنی دلچسپی کے بارے میں آگاہ کرے گا۔بی او جی نے پی سی بی اسٹریٹیجک پلان برائے 2020تا 2024 کی منظوری بھی دے دی ہے۔جبکہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی نے کہا ہے کہ عالمی کرکٹ پاکستان میں واپس آرہی ہے۔ احسان مانی کہا کہ پاکستان سپر لیگ کا پانچواں سیزن شروع ہورہا ہے، جس کے تمام میچز ملک میں ہی ہوں گے۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں پشاور میں بھی میچز ہوں، خیبر پختونخوا حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اس سال ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم تیار ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ کوئی کھلاڑی اگر پاکستان کے لیے کھیلنا نہیں چاہتا تو نئے کھلاڑیوں کو سامنے لائیں گے۔چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کو ریٹائرمنٹ لینے سے نہیں روک سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی پلیئر کو سلیکٹ کرنا سلیکٹر کا کام ہے، اگر کسی کو پرفارم کرنے کے باوجود موقع نہیں مل رہا تو ہم دیکھیں گے۔اْن کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کھیلنا چاہتا ہے، بھارت جب کھیلنے کے لیے تیار ہو تو ہمیں بتا دے

مزید : ایڈیشن 1