حکومت سندھ میڈیا انڈسٹری کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کرے گی: سید ناصر شاہ

حکومت سندھ میڈیا انڈسٹری کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کرے گی: سید ناصر شاہ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے اخبارات کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت سندھ میڈیا انڈسٹری کے فروغ اور ترقی کیلئے بھر پور اقدامات کرے گی اور اخبارات کے واجبات کی جلد ادائیگی اور اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے گی۔ اے پی این ایس کی میٹرو پولیٹن بی متوسط اور چھوٹے اخبارات کی کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے مہمان خصوصی صوبائی وزیر اطلاعات نے خطاب کرتے ہوئے اے پی این ایس کو یقین دلایا کہ محکمہ اطلاعات سندھ اور اے پی این ایس کی باہمی مشاورت سے طویل عرصہ سے زیر التواء واجبات کی جلد ادائیگی اور ماہانہ بنیادوں پر ادائیگیوں کا نظام وضع کیا جائے گا انہوں نے ڈسپلے اشتہارات کے اجراء اور صوبائی اشتہارات کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کیلئے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ کانفرنس سے سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور میڈیا انڈسٹری کے ممتاز ماہر جناب جاوید جبار نے اپنے کلیدی خطاب میں اخبارات پر زور دیا کہ وہ مقامی معاملات کو نمایاں طور پر اجاگر کریں انہوں نے کہا کہ ہم عصر دنیا میں اطلاعات کی بھر مار نے صارف کی توجہ کے دائرے کو محدود کردیا ہے اس لیئے اخبارات کو ایسا مواد تخلیق کرنا چاہیے جو صارف کی توجہ حاصل کرسکے انہوں نے بین الاقوامی اخبارات کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اخبارات حالات کے تناظر میں مواد کو صارف کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے آج کی ملٹی میڈیا دنیا میں ترقی کررہے ہیں۔کانفرنس سے اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل سید سرمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے میڈیا نظام میں ٹی وی،ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اخبارات بھی اہم کردار ادا کرتے رہیں گے انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ اخبارات ختم ہورہے ہیں کیونکہ افراد کی زندگی کی ضروریات میں ہر میڈیا کا اپنا حصہ ہوتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اخبارات کو اپنی تجدید کرنا ہوگی اس کے لیے نیوزپیپرز کو ویوز پیپرز میں تبدیل کرنا ہوگا اور نوجوان نسل کے قاری سے اپنا رشتہ استوار کرنا ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ اخبارات کو ٹی وی پر پیش کی جانے والی خبروں سے آگے بڑھ کر پس منظر اور تجزیاتی رپورٹیں شائع کرنی چاہیے۔سرمد علی نے بتایا کہ وفاق،پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی حکومتوں پر اخبارات کے 4 ارب روپے واجب الادا ہیں جبکہ سرکاری اشتہارات کا حجم 60 فیصد کم ہوگیا ہے جس کے باعث اخبارات ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی سے قاصر ہیں یہ صورت حال بالآخر میڈیا انڈسٹری میں بیروزگاری بڑھانے پر منتج ہوگی۔کانفرنس سے جناب یونس مہر اور جناب ممتاز پھلپھوٹو نے بھی خطاب کیا اور سندھ کے اخبارات کو درپیش مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالواسع شاکر نے اپنے افتتاحی خطاب میں تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کمیٹی کی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کی سفارش پر اے پی این ایس نے 25ستمبر کو یوم اخبار بینی منایا جس کے ذریعے اخبارات اور مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک آگاہی مہم شروع کی گئی انہوں نے مزید بتایا کہ اس کانفرنس کے بعد جلد ہی اخبارات کے مسائل پر ایک ورک شاپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔کانفرنس نے سید اکبر طاہر کی قرارداد کو منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت اشتہارات کی منصفانہ تقسیم اور اخبارات کے طویل عرصہ سے زیرالتوا ء واجبات کی جلد ادائیگی کو یقینی بنائے۔ اجلاس میں اخبارات کے پبلشرز اور ایڈیٹروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول