شمالی وزیر ستان کے متاثرین کادھرنا جاری

شمالی وزیر ستان کے متاثرین کادھرنا جاری

  



پشاور (سٹی رپورٹر)شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے میرنشاہ بازار کے دکانداروں نے معاوضہ کی عدم ادئیگی کے خلاف گیارویں روز بھی صوبائی اسمبلی کے سامنے ڈھول کی تاپ پر دھرنا جاری رکھا جبکہ دو گھنٹوں کیلئے روڈ بند رکھا اور اپنے مطالبات کے حق میں اور حکومت مخالف نعرہ بازی کی جبکہ مظاہرین کیساتھ حکومت کے کسی نمائندے نے تا حال مذاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی ہے مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ روز انہ کی بنیاد پر اب روڈ کو 2گھنٹوں کیلئے بند کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے جبکہ دھمکی دی کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں دھرنا جاری رکھیں گے او ر ضرورت پڑی تو وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے بھی دھرنا دینگے ۔مظاہرے کی قیادت ترجمان ایگزیکٹیو کمیٹی عبد الجلیل نے کی مظاہرے میں جمال الدین،ڈاکٹر عمران،سیف اللہ،زانگ گل، سحی الرحمان اور کثیر تعداد میں دیگر ساتھیوں نے شرکت کی۔۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عبد الجلیل وزیرنے کہا کے آپریشن ضرب عضب کے دوران میران شاہ بازار کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا تھا جس کے بعد پشاور ہائی کورٹ میں اس سلسلے میں کیس کیا گیا تھا جو ہمارے حق میں فیصلہ کے ساتھ ساتھ ٹی او آر بنائی گئی جو دونوں فریقین کے درمیان رابطہ رکھنے اور مسائل کے حل کا زریعہ تھی۔جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ فی مرلہ پینتالیس لاکھ اور پینتیس سو مربع سکو ئر فٹ کا کہا گیا جو بعد میں اس وقت کے موجودہ ڈی سی نے پینتالیس کی جگہ پندرہ لاکھ اور مربع سکوئر فٹ کی جگہ فی دکان تین لاکھ دینے کا اعلان کیا جو ہم تمام افراد نے مشترکہ طور پر مسترد کر دیااور اس کے بعد عرصہ درازگزرنے کے بعد بھی کوئی عمل درامد نہ ہونے کی صورت میں مجبوراٗ ہم لوگ گزشتہ پینتا لیس دنو ں نے بنو ں اور اب گیارہ دنوں سے پشاور میں احتجاج پر مجبور ہوئے انھو ں نے کہا کہ بڑ ے افسو س کی بات ہے کہ اب تک ہمارے ساتھ کسی حکومتی نمائندے یا صوبائی وزیر نے رابطہ نہیں کیا انھو ں نے کہا کہ ہمارا احتجاج لا محدود مدد تک جاری رہے گا اور اگر اس پر بھی کوئی شنوائی نہ ہوئی تووزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے سمیت اسلام آباد کا رخ کرینگے۔مظاہرین نے ٹریفک کو دو گھنٹے کیلئے بند رکھا جسکی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پرا دوسری جانب حکومت مظاہرین کے مطالبات میں کوئی پیش رفت نہیں کر رہی ہے۔

مزید : صفحہ اول