جدہ: یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تقریب کا اہتمام، پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور قونصل جنرل خالد مجید کی شرکت

جدہ: یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تقریب کا اہتمام، پاکستان کے سفیر رضوان سعید ...
جدہ: یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے تقریب کا اہتمام، پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور قونصل جنرل خالد مجید کی شرکت

  



جدہ (محمد اکرم اسد) کشمیر کا مسئلہ کوئی زمینی تنازعہ نہیں یہ کشمیر کے لوگوں کے بنیادی حقوق اور ان کے مسلمہ حق خودارادیت کا مسئلہ ہے. اس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد از جلد ہونا چاہیے۔ بھارتی ظلم کیخلاف پاکستان اور آزادکشمیر کا بچہ بچہ مظلوم کشمیری قوم کیساتھ کھڑا ہے . ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر کمیونٹی کی طرف سے منعقد کی گئی یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پروقار تقریب سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا. تقریب کی صدارت چئیرمین جے کے سی او سردار اشفاق نے کی مہمانان خصوصی او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر رضوان سعید شیخ اور قونصل جنرل خالد مجید تھے۔ تقریب کی نظامت سیکرٹری جنرل وقاص عنایت اللہ نے کی۔

مہمان خصوصی خالد مجید نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی زمینی تنازعہ نہیں یہ کشمیری قوم کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے یہ ان کی مسلمہ حق خوداردیت کے حصول کی جدوجہد ہے جس کا اقوام عالم نے ان سے وعدہ کیا ہے ہندوستان اس کو ایک علاقائی اور زمینی تنازعہ بنانے کے کوشش کررہا ہے جو حقائق کے منافی ہے۔ پاکستانی کشمیری قوم کیساتھ ہمیشہ کھڑے رہے ہیں اور رہیں گے جب تک ان کوان کا حق رائے شماری مل نہیں جاتا۔ 

پاکستان کی کشمیریوں کیساتھ یکجہتی ۱۹۹۰ سے نہیں بلکہ۱۹۷۰ سے بھٹو مرحوم کے دور سے چلی آرہی ہے جس میں عارضی تعطل کے بعد ۱۹۹۰ میں اس کا دوبارہ آغاز ہوا۔ ہمیں تحریک آزادئ کشمیر کی تاریخ اور اسکی اہمیت کو اپنے نوجوانوں میں اجاگر کرنا ہے اس کے لیے قونصلیٹ کوشش کرے گا کہ جن لوگوں کو کشمیر پر معلومات کا عبور حاصل ہے انکی خدمات حاصل کر کے سکولوں میں لیکچرز کا اہتمام کیا جائے.

او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید شیخ نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کا بندھن ایک لازوال اور فطری ہے۔ کشمیر زمینی، مذہبی، معاشرتی، ثقافتی ، معاشی۔ اعتبار سے پاکستان کا فطری حصہ ہے جس کو کبھی بھی نہیں بدلا جا سکتا، کشمیر کے مسئلے کا حل کسی عسکری کاروائی میں نہیں ہوسکتا اگر ایسی بات ہوتی تو مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی کثیر تعداد اس مسئلے کو ختم کرچکی ہوتی لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہوئے ہیں کشمیریوں کی تحریک میں اور تیزی اور مضبوطی آئی ہے ، ۵ اگست ۲۰۱۹ کے ہندوستان حکومت کے کشمیری شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کے بعد اور چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک کشمیر کو ایک جیل میں بدلنے کی کاروائیوں کے بعد عالمی سطح پر ایک احساس پایا جانے لگا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل ہونا چاہیے اور کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ رکنا چاہیے۔ 

چئیرمین جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز نے اپنے خطاب میں حکومت پاکستان، افواج پاکستان، پاکستان کے اداروں اور خاص طور پر پاکستان کی عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ہر وقت اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیا۔ انہوں نے ایک قرار داد بھی پیش کی جس میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کیساتھ یکجہتی، ہندوستانی ظلم وستم کو روکنے، کشمیری شناخت کے قوانین کی بحالی، کشمیری قیادت کی آزادی اور کشمیریوں کو استصواب رائے کے حق دینے کا مطالبہ کیا گیا جس کی سب حاضرین نے ہاتھ بلند کر کے تائید کی یہ قرار داد اس کے بعد سردار اشفاق، سردار عبداللطیف عباسی اور سردار وقاص نے رضوان سعید شیخ کو پیش کی جو اسے جموں کشمیر کمیونٹی اوورسیز کی طرف سے او آئی سی میں پیش کریں گے۔ 

دیگر مقررین جنہوں نے خطاب کیا ان میں کشمیر کمیٹی جدہ کے چئیرمین مسعود پوری، چوہدری خورشید متیال، معروف حسین، راجہ شمروز، خالد گجر، سردار مہتاب سرور، کامران بیگ شامل تھے۔ قاری سلطان نے ملی نغمہ اور نعت رسول مقبول کا شرف حاصل کیا، زمرد سیفی نے نظم پیش کی جبکہ قاری حسان نذیر نے تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ تقریب کے آخر میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی سلامتی کی دعا کی۔

تقریب میں ڈپٹی قونصل جنرل شائق بھٹو، پریس قونصلر ارشد منیر و دیگر افسران اور عملے، کشمیر کی پارٹیوں کے راہنما اور کارکنان کی کثیر تعداد کیساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی ، سماجی اور مذہبی جماعتوں کے راہنماؤں اور کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ میڈیا کی ایک بھرپور ٹیم تقریب کی کوریج کے لیے موجود تھی.

مزید : عرب دنیا /تارکین پاکستان