’’یہ موجودہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔۔۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویرحسین نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب غصے سے آگ بگولہ ہو جائیں گے

’’یہ موجودہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔۔۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا ...
’’یہ موجودہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے۔۔۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویرحسین نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب غصے سے آگ بگولہ ہو جائیں گے

  



مریدکے(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کےچیئرمین اورپاکستان  مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنما رانا تنویر حسین نےکہا ہے کہ وزیرا علی پنجاب سردار عثمان بزدار  کا یہ کہنا کہ وہ میاں شہباز شریف سے زیادہ کام کرتے ہیں موجودہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے، وزیر اعظم ہاؤس سےآنےوالی مبینہ ٹیلی فون کال پرراتوں رات اسحاق ڈار کےگھر کو’پناہ گاہ‘ بنادینا چھوٹی اورگھٹیا سوچ کی نشانی ہے۔

تفصیلات کےمطابق اپنےکیمپ آفس میں میڈیا سےگفتگو کرتےہوئےراناتنویرحسین نےکہا کہ وزیرا علی پنجاب سردار عثمان بزدار  کا یہ کہنا کہ وہ میاں شہباز شریف سے زیادہ کام کرتے ہیں موجودہ صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہے، جس وزیر اعلی کو اس کے گھر والے تسلیم نہ کریں اور اُس کے اپنے وزراء فارغ کرنے کا مطالبہ کریں اُسکی کارکردگی کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ملک پر عذاب بن کرنازل ہوئی ہے جس سے جلد چھٹکاراضروری ہے،

ملکی مسائل کا واحد حل صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہیں جن کے ذریعے تجربہ کار قیادت بر سر اقتدار آکر ملکی اداروں کو مضبوط کرے گی،موجودہ حکومت نے 12سو ڈالر قرض لیا ہے مگر اس کا ملک یا عوام کو کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا، پچھلی حکومتوں نے اگر قرض لیا تھا تو ملک میں بجلی کے کارخانے، شہر شہر انفراسٹرکچر او ر عوام کو مہنگائی سے بچایا تھا،موجودہ نا اہل حکمرانوں کے غلط فیصلوں نے ملک کو غلط ڈائریکشن پر ڈال دیا ہے جو ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن عوام کو مہنگائی اور لا قانو نیت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ ے گی، آئندہ ہفتے قومی اسمبلی کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا تا کہ بے رحم حکمران ہوش کے ناخن لیں، حکومت کی ناقص معاشی پالیسیاں اور غلط فیصلے ریلیف کاکاسمیٹکس طریقہ ہے جو کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس سے آنے والی مبینہ ٹیلی فون کال پر راتوں رات سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر کو’پناہ گاہ‘ بنا دینا چھوٹی اور گھٹیا سوچ کی نشانی ہے،ایسے افراد ملکی تو در کنار گلی محلے کی سیاست کے بھی قابل نہیں ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور