شاہینوں شاباش

 شاہینوں شاباش
  شاہینوں شاباش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلے جانیوالی دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں پاکستان نے 17 سال بعد جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیت کر وائٹ واش کر دیا ہے اور اس فتح کے بعد پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں سے پانچویں نمبر پر آگیا ہے۔اس کے ساتھ بابر اعظم کی بطور کپتان پہلی سیریز میں کامیابی کے بعد ان کا اور ٹیم کا مورال بلند ہو گیا ہے۔اب اس دورے پر موجود ساؤتھ افریقہ کی ٹیم نے ہونے  والے ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے نظریں جما لی ہیں۔پاکستان کے ساتھ اس سیریز میں کامیابی کس کا مقد ر بنے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن بات کریں اگر اس سیریز کی تو سیریز پاکستان کے کھلاڑیوں کے لئے نام رہی،نئے آنے والے کھلاڑی نعمان علی،یاسر شاہ،شاہین شاہ آفریدی،فہیم اشرف،فواد عالم اور محمد رضوان کا ستارہ عروج پر رہا۔سیریز کے اختتام پر میچ کا بہترین کھلاڑی فاسٹ باؤلر حسن علی جبکہ پلیئر آف دی سیریز محمد رضوان قرار پائے۔

اس سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کی خاص بات میچ کے پانچویں دن پاکستان کی پرفارمنس تھی۔کیونکہ ایک موقع پر جنوبی افریقہ کے تین کھلاڑیوں کے نقصان پر 240  سکور تھا اور محض 34رنز کے اضافے سے اس کی آدھی سے زائد ٹیم پویلین لوٹ گئی اور یوں میچ کا اختتام جنوبی افریقہ کی 95رنز سے شکست سے ہوا۔میچ میں اگر بلے بازی کی بات کی جائے تو محمد رضوان نے جس انداز میں بیٹنگ کی اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، افریقہ کے بلے بازوں نے پاکستانی باؤلرز کو کافی پریشان کیا اور میچ پر اپنی گرفت بھی خاصی مظبوط رکھی لیکن آخری روز ان کے اعصاب جواب دے گئے اور فتح سے چند قدم در نظر آنے والا میچ پاکستان کی جھولی میں آ گرا۔

یہاں اگر پاکستانی باؤلر کے شاندار کم بیک کی بات نا کی جائے تو زیادتی ہو گی جنہوں نے اپنی باؤلنگ سے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اگر نیت اچھی ہو اور جیت کا جذبہ ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔اب اگر بات کی جائے پاکستانی فاسٹ باؤلنگ کی تو اس سیریز میں پاکستانی فاسٹ باؤلر حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی اپنے عروج پر نظر آئے دونوں نے اس سیریز میں تقریباً بیس کے قریب وکٹ حاصل کیں جن میں حسن علی کی دس وکٹ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں تھیں۔کافی عرصہ بلکہ دہائی سے زیادہ عرصہ بعد کسی فاسٹ باؤلر نے میچ میں دس وکٹ حاصل کیں جو ان کی شاندار کار کردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

لیکن ایک بات میرے ذہن میں کئی عرصہ سے ذہن نشین تھی اور وہ یہ کہ اتنے عرصہ سے ہم نے بے شمار فاسٹ باؤلر آزمائے لیکن ان فاسٹ باؤلر میں ایک بھی ایسا باؤلر پیدا نا کر سکے  عمران خان، وسیم اکرم،وقار یونس جیسے نام پیدا کرنے کے لئے پی سی بی اور سلیکشن کمیٹی کو ٹیسٹ کرکٹ پر خاص توجہ دینی ہو گی  تب ہی ہمیں مستقبل میں وہ باؤلر دستیاب ہوں گے جو آج سے دو دھائی قبل ہمارے پاس تھے۔اس کے علاوہ بلے بازی میں اوپنر کی مسلسل ناکامی کے بعد ہمیں ٹیم میں ایک مرتبہ پھر عامر سہیل اور سعید انور جیسے لوگوں کی کمی کا سامنا ہے۔ان دونوں کے بعد ٹیم کو ایک بھی ان جیسا اوپنر نہیں مل سکا۔
سلمان بٹ پر بھروسہ کیا جا سکتا تھا لیکن دوبارہ واپسی بھی ان کو ٹیم میں شامل نا کر سکی۔

مزید :

رائے -کالم -