قوم تلاش کرلے

قوم تلاش کرلے
قوم تلاش کرلے

  

تحریر: عثمان چوہدری

حکمران جماعت کے دعوؤں سے قطع نظر اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) نے صلاح و مشورے کے بعد آخرکار مارچ کے آخر میں حکومت کے خلاف اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے اور  اس مارچ کو مہنگائی مارچ کا نام دیا گیا ہے. ہرچند کہ حکومتی ترجمانوں نے اپوزیشن اتحاد کے اس اعلان کو اپنی اڑھائی سالہ دور حکومت کی روایات کے مطابق ناقابل اعتناء سمجھنے کا تاثر دیا ہے. تاہم مبصرین کی رائے کے مطابق لانگ مارچ کی کال کو بے فکری سے نظر انداز کر دینا آسان نہیں ہے کیونکہ تمام تر قیاس آرائیوں کے برخلاف لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں متفقہ حکمت عملی بنانے میں کامیاب ہو چکی ہیں. 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے اس میں دو راۓ نہیں ہو سکتیں کہ موجودہ حالات کی ذمہ دار بہرحال موجودہ ملکی قیادت ہی ہے کیونکہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی پر عوام کے اعتبار اور یقین کو قائم رکھنے یا بحال کرنے کے لیے اڑھائی سال کا عرصہ کم نہیں ہے.یہ مدت اس بات کے لیے کافی ہے کہ عوام حکمرانوں کے متعلق اپنے احساسات اور خیالات میں کوئی فیصلہ کن رویہ اختیار کر سکیں.اس دورانیے میں یہ بات کچھ دشوار نہیں کہ حکومتی پالیسیوں کو دیکھ کر عوام کو بخوبی اندازہ ہو جائے کہ موجودہ حکومت کس سوچ، وژن اور مقصد کے ساتھ ملکی معاملات کو چلا رہے ہیں. حکمران جماعت کے ایک رویے کا مظہر تو گزشتہ دنوں میں پیش آنے والی قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہے. جیسے حزب مخالف نے تو شور شرابہ کیا ہی لیکن حکومت کے اہم ارکان نے جو زبان استعمال کی اور جس طرح ان کے بعض ارکان ہاتھا پائی کے "جذبے" سے سرشار دکھائی دیے وہ بلاشبہ ایک افسوسناک رویے کی نشان دہی تھی. حکمران جماعت تاحال کسی ایک بنیادی وعدے کو پورا کرتے نہیں دکھائی دی لیکن ان کے رویے اور گفتگو سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ناکامی اپوزیشن کی کسی گہری سازش کا نتیجہ ہے جبکہ حکومتی ناکامیوں کا درست اندازہ شدید اور کمر توڑ مہنگائی کے ہاتھوں لاچار اور بدحال عوام کی رائے سے ہی لگایا جا سکتا ہے. 

اسی اثناء میں ایک اور خبر کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی پی) نے پاکستان کے لیے 10 ارب ڈالر کی مالیت کے انڈیکٹیو لینڑنگ پروگرام کی منظوری دے دی ہے.آسان الفاظ میں دس ارب ڈالر کے لیے قرضے کی منظوری دے دی ہے۔یہ پروگرام پاکستان کے لئے کرونا کے سبب پہنچنے والے مالی نقصانات کو پورا کرنے میں اور تقریبا مستقل طور پر موجود بنیادی(سٹرکچرل) کمزوریوں کے سبب درپیش سوشل چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے فراہم کیا جا رہا ہے.جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ یہ سارے معاملات قرضوں پر ہی نہیں بلکہ دراصل "سود" پر چلتے ہیں۔چنانچہ بالکل متصل بیان ہے کہ اس پورے قرضے کا تقریبا ایک چوتھائی صرف دو فیصد شرح سود پر فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ باقی ماندہ قرضہ لندن انٹر بینک آفرڈ ریٹ لائیبور پلس 0.5 فیصد (سود) پر فراہم کیا جائے گا.

فی الوقت سوال یہ ہے کہ اس سارے منظر نامے میں پاکستان پر نہ صرف نت نئے قرضے چڑھتے نظر آرہے ہیں بلکہ ملک میں مہنگائی,بدعنوانی اور کرپشن عروج پر ہے ،ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن سے متعلق 180 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا رینک 124 ہوگیا۔یہ 2018 میں 117 اور 2019 میں 120 نمبر پر تھا. ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضے کی منظوری کے ساتھ عالمی بینک تو دس ارب ڈالرز سے بھی زیادہ 12 ارب ڈالر فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

اتنے سارے قرضوں پر سود تو خیر دینا ہی ہوگا یہ قرضے واپس کس طرح کیے جائیں گے اور کون واپس کرے گا؟ کیونکہ ان قرضوں کی واپسی کی مدت بھی ہماری حکومتوں کی مستقل روایات کے مطابق اتنی رکھی جاتی ہے کہ اس دوران کم سے کم دو حکومتیں گزر چکی ہوتی ہیں۔

اب رہ گئی وہ ترقی جس کے لئے یہ ساری قرضہ گیری کی جارہی ہے، اسے قوم کو خود ہی تلاش کرلینا چاہیے، یہی اس بابت فی الوقت کافی جواب ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -