امریکہ کا نیٹو کے اہم کمانڈ عہدے چھوڑنے کا فیصلہ

امریکہ کا نیٹو کے اہم کمانڈ عہدے چھوڑنے کا فیصلہ
امریکہ کا نیٹو کے اہم کمانڈ عہدے چھوڑنے کا فیصلہ
سورس: Wikimedia Commons

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ نیٹو کے کئی اہم سینئر کمانڈ عہدے یورپی ممالک کے حوالے کرنے جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو اتحادیوں پر اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔

ذرائع نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ نیٹو کے نیپلز میں قائم جنوبی خطے کے کمانڈ کی قیادت اٹلی کو سونپ دے گا، جبکہ امریکہ کی ریاست ورجینیا میں واقع نورفوک کمانڈ، جو نیٹو کے شمالی خطے پر توجہ دیتی ہے، اس کی قیادت برطانیہ کے حوالے کی جائے گی۔ اس کے برعکس امریکہ نیٹو کی میری ٹائم فورسز کی کمان سنبھالے گا، جو برطانیہ میں ہی قائم ہے۔

یہ تبدیلیاں سب سے پہلے فرانسیسی جریدے لا لیتر نے رپورٹ کیں، جن کے مطابق ان فیصلوں پر عمل درآمد میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ نیٹو کے دو سفارت کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ یہ اقدامات عملی طور پر دفاعی بوجھ کی منتقلی کی علامت ہیں۔

نیٹو میں کمانڈ عہدوں کی یہ ردوبدل ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن واضح کر چکا ہے کہ وہ یورپ میں اپنی دفاعی موجودگی کم کر کے چین جیسے دیگر خطرات پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود امریکہ نیٹو میں مرکزی کردار برقرار رکھے گا کیونکہ وہ فضائی، بری اور بحری فورسز کی بنیادی کمانڈز اپنے پاس رکھے گا اور سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ کا اعلیٰ ترین عہدہ بھی بدستور امریکہ کے پاس رہے گا۔

روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد یورپی ممالک پہلے ہی اپنے فوجی بجٹ میں نمایاں اضافہ کر چکے ہیں اور گزشتہ سال نیٹو کے دفاعی اخراجات کے ہدف میں اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے بعض بیانات اور اقدامات سے امریکہ کی نیٹو کے ساتھ وابستگی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، خاص طور پر گزشتہ ماہ گرین لینڈ سے متعلق دعوؤں کے بعد اتحاد میں بے چینی پیدا ہوئی۔ تاہم امریکہ کے نیٹو میں سفیر میتھیو وائٹیکر نے پیر کو ایک الگ بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نیٹو کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط بنانا چاہتے ہیں اور یورپی اتحادیوں کو زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نیٹو سے الگ ہونے یا اسے مسترد کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اسے اس مقصد کے مطابق مؤثر بنانا چاہتا ہے جس کے لیے یہ اتحاد قائم کیا گیا تھا۔