فراڈ کے نئے نئے طریقے

فراڈ کے نئے نئے طریقے

  



ہر زمانے میں جرم کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا وقت کے ساتھ ساتھ جرائم کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ وارداتوں کی اقسام،انداز اور طریقوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔حتیٰ کہ اب اتنے جدید اور نت نئے اندازِواردات سامنے آرہے ہیں۔کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیائے جرائم نے بھی ترقی پائی۔ہر روز جرم کی ایک نئی داستان سننے کو ملتی ہے۔اور تقریباََ ہر داستان میں واردات کا انداز نیا اور انو کھا پایا جاتا ہے۔

پاکِستان میں جرائم کی روک تھام نہ ہونے کے برابر ہے۔جس وجہ سے مختلف وارداتوں میں دِن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔قانون کی عملداری نہ ہونا دوسری بڑی وجہ ہے۔بڑے سے بڑے جرم کا ارتقاب کرنے والاشخص چند ہزار رشوت دے کر باآسانی چھوٹ جاتا ہے۔اور سزا کے بغیر کسی مجرم کا چھوٹ جانا۔از خود مزید جرم پر اکسانے کے مترادف ہے۔ایک وقت تھا کہ کسی بھی واردات میں اکثر غریب اور اَن پڑھ لوگ ملوث ہوتے تھے۔لیکن اب اِس میںسفید پوش اور پڑے لکھے لوگ بھی ملوث ہیں۔پہلے معاشرے کے سنجیدہ اور حساس،طبقات جرائم پر قابو پانے کے لیے یہ حل تجویز کرتے تھے کہ اگر چوری ،ڈکیتی، راہزنی اور قتل کی وارداتوں پر قابو پانا ہے،تولوگوں کو ایجوکیٹ کیا جائے،ان کی تعلیم و تربیت کر کے ان میں شعور اجاگر کیا جائے ،لیکن افسوس پڑھے لکھے نوجوان کمپیوٹر کو بطور آلہءواردات استعما ل کر رہے ہیں۔

فیس بُک پر لڑکا لڑکی بن کر پڑھے لِکھے نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں۔کوئی عام آدمی بہت اچھی انگریزی میں چیٹنگ نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب ملک بھر میںگینگ بنا کر لوٹ مار کی جا رہی ہے۔قبضہ مافیا پراپرٹی کے فراڈ مختلف شکلوں میں ہو رہے ہیں۔پراپرٹی چھیننے،قبضے کر نے میں بعض کے ساتھ تو پٹواری ملے ہوئے ہیں۔جو جعلی کاغذات بنوانے کے ماہر ہیں۔بڑی بڑی وارداتوں کے علاوہ بعض ایسی عجیب و غریب وارداتیں بھی روز کا معمول بن گئی ہیں جنہیں اب جر م نہیںسمجھا جاتا کسی سے وعدہ خلافی کرنا،جھوٹ بول کر کام نکلوانا،معاہدہ کر کے مکر جانا،مقررہ وقت پر ادائیگی نہ کرنا تو گوےا کسی جرم کے زمرے میں آتا ہی نہیں۔

ملک میں منشیات کا استعمال سر عام ہو رہا ہے۔چرس پینا تو ایک فیشن بن گیا ہے۔ٹریول ایجنسیاں روزگارکے نام پر ہی نہیں حج و عمرہ تک کے ویزوں میں فراڈ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔وائس چینجرز کے ذریعے لڑکے لڑکیاں بن کر لوگوں کو ورغلا رہے ہیں اور وارداتیں کر رہے ہیں۔وائس چینجرز کی سہولت اکثر اب چائنہ کے موبائل میں موجود ہوتی ہے۔موٹر سائیکل سوار مصروفِ کال شہریوں سے موبائل چھین کر فرار ہو جاتے ہیں۔

ابھی پچھلے ہی دنوں ہمارے شہر کے بڑے جنرل سٹور پر دو افراد ایک بھکاری کو آٹا دلوانے کی غرض سے لے آئے اور دوکان دار سے دیگر سامان لے کر اس بوڑھے شخص کو بطور ضمانت بٹھا کر ہو شیاری سے چلتے بنے۔وارداتوں کے جدید انداز میں اب خواتین بھی شامل ہیں جو گھروں میں بھیک مانگنے یا کاسمیٹکس کی اشیاءفروخت کرنے کے بہانے جاتی ہیں گھر کی صورتِ حال کا جائزہ لے کر اپنے دیگر ساتھیوں کو بُلا لیتی ہیں اور گھر کا مکمل صفایا کر کے تسلی سے فرار ہو جاتی ہیں۔بعض خواتین پیشہ ور بن کر رات کو مختلف کونوں اور موڑوں پر کھڑ ی ہوتی ہیں جیسے ہی کوئی ان کے پاس رکتا ہے تو اسے دیگرافراد دبوچ لیتے ہیں۔اسی طرح کی کاروائیوں میں مشاہدے میں آیا ہے کے وقوعہ کے قریب ہی پولیس وین یا سپاہی موجود کھڑے پائے جاتے ہیں وارداتوں کے انداز تو بے شمار ہیں مگر چند مثالیں پیش کرنے کا مقصد ےہ ہے کہ ان پر قابو پانے کی طرف توجہ دی جائے۔جرائم میں ملوث مجرموں کو محض چند پیسوں کے عوض مت چھوڑا جائے۔ ہمارے قانون کے محافظوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں حکومت سے اپیل ہے کہ ان معاملات کو کھڑی نظر سے دیکھا جائے۔ ورنہ جرائم پر قابو پانا محض خواب بن جائے گا۔ ٭

مزید : کالم