2015ءکا سیاسی منظر نامہ

2015ءکا سیاسی منظر نامہ
2015ءکا سیاسی منظر نامہ

  



2015ئ بہت سی تلخ یادوں کے ساتھ رُخصت ہو گیا۔ اس سال نے بہت سے سانحات دیکھے۔ خصوصاً دہشت گردی یا انتہاپسندی جیسے واقعات اور سانحات کا اِسے سامنا رہا۔ دہشت گردی جیسے عفریت نے نہ صرف دنیا میں ہمارے تشخص اور چہرے کو مسخ کیا بلکہ ہم خود اپنے ملک کے اندر بھی شدید عدمِ تحفظ کا شکار رہے۔ سال کے اختتام پر پشاور کے آرمی پبلک سکول میں جو بڑا واقعہ پیش آیا، وہ انسانی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ تھا۔ جس نے ہر دل کو آزردہ اور ہر آنکھ کو اشک بار کر دیا۔ اس واقعے میں 132طالب علم لقمہ¿ اجل بن گئے اور بہت بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوئے۔ ان میں اساتذہ بھی شامل تھے۔جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، ملک میں سیاسی کشمکش جاری تھی اور سیاسی درجہ¿ حرارت عروج پر تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ملک عدمِ استحکام کا شکار ہونے جا رہا ہے۔ افراتفری، بے چینی اور اضطراب کی کیفیت جاری تھی۔ سانحہ¿ پشاور نے وہ کر دکھایا جس کی قوم کو کوئی امید نہیں تھی۔

 اس سانحے کے بعد تمام سیاسی اکابرین نے اِ س ضرورت کو نیک نیتی کے ساتھ شدت سے محسوس کیا کہ وقت اورحالات کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے تمام سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر ایک ٹیبل پر بیٹھ جائیں اور پہلے دہشت گردی جیسے عفریت کا حل ڈھونڈیں جو ملک و قوم کو کھوکھلا کر رہا ہے اور ا سکی بنیادیں ہلا رہا ہے۔ وزیراعظم نے جب سب کو اکٹھا ہونے کی دعوت دی اور کانفرنسوں میں بلایا تو نہ صرف سب آئے بلکہ کئی روز کی میٹنگز کے بعد یکسو ہو کر اُس فیصلے پر بھی پہنچے جس کا پوری قوم کو انتظار تھا۔ سیاسی بڑوں کے اس اجلاس میں عسکری قیادت نے بھی شرکت کی اور فیصلہ سنایا کہ ہم سب دہشت گردوں کے خلاف یکجا ہیں۔ ہم میں کوئی تفریق اور اختلاف نہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔

2015ءکا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے بار ے میں بہت سے سیاسی تجزئیے کئے جا رہے ہیں ان سیاسی تجزیوں میں یکسانیت نہیں۔ غیب کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ آپ کچھ بھی کہہ لیں، کچھ بھی کر لیں ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ تاہم پھر بھی پیش گوئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 2014ءکے تناظر میں بہت سی سمتیں اور جہتیں مقرر کی جا سکتی ہیں اور بہت سی باتوں کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ اسی روشنی میں یہ رائے قائم کرنے میں حق بجانب ہوں کہ سانحہ ¿ پشاور نے پوری قوم کو یکجا کر دیاہے۔ لیکن ہم میں ابھی بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے ملک کا امن نہیں چاہتے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ ہمیں پہچاننا ہو گا اور ان کی نشاندہی بھی کرنا ہو گی وگرنہ ہمیں بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ اب پاکستان کے ہر حصّے میں دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت کے عزم سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب وہ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے لیے میدان میں اُتر آئے ہیں اور انہیں پوری قوم کی مدد اور حمایت حاصل ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ 2015ءایک ایسا سال ہو گا جس میں دہشت گرد اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں گے اور پاکستان کی دھرتی ان سے پاک ہو جائے گی۔ ایسا کرنے ہی کی صورت میں ملک میں معاشی ترقی بھی ہو سکے گی۔

سیاسی منظر نامہ دیکھیں تو 2014ءاس کے لیے اچھا نہیں تھا۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے باعث سیاسی درجہ¿ حرارت میں بڑی شدت آئی ہوئی تھی۔جلسے، جلوس اور دھرنوں کی سیاست ہو رہی تھی۔ ملکی معیشت کا پہیہ جام ہو گیا تھا۔ ڈی چوک اسلام آباد میں جو صورت حال یا کشمکش پیدا ہو رہی تھی اُس نے حکومت سمیت پوری قوم کو الجھا رکھا تھا۔ عمران خان دھاندلی کا نعرہ لے کر پوری ثابت قدمی کے ساتھ حکومت کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اور حکومت بھی اس معاملے میں ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی، لیکن سانحہ¿ پشاور ہوا اور پھر سب کچھ بدل گیا۔ عمران خان کو بھی وہ فیصلہ کرنا پڑا جس کے لیے وہ ہرگز تیار نہ تھے۔ بلکہ جس دن وہ دھرنے کے اختتام کا اعلان کر کے لوٹنے لگے ، اُن کے ورکرز نے کنٹینر پر ڈنڈے برسائے اور عمران خان کے اس فیصلے پر احتجاج کیا۔ لیکن عمران خان بھی جان چکے تھے کہ اب مزید دھرنا قومی مفاد میں نہیں۔ اس لیے انہوں نے واپسی کا سفر اختیار کرنا ہی مناسب سمجھا۔

اگرچہ عمران خان کی جانب سے الیکشن 2013ءمیں دھاندلی کا الزام اب بھی برقرار ہے۔ اس بابت حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے مابین بات چیت کے کئی سیشن ہو چکے ہیں۔ تحریک انصاف الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی بات کر رہی ہے۔ حکومت بھی اس مطالبے کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کی تشکیل پر بہت سے اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات اگر ختم نہ ہوئے تو شاید ایک بار پھر دھرنوں کی سیاست شروع ہو جائے جو ایک خطرناک بات ہو گی۔ حکومت 2015ءکو امن و آشتی کا سال بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ قوم اب بدامنی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

مزید : کالم


loading...