مہنگائی اور مجسٹریٹوں کو نوٹس! پالیسی کیا ہے؟

مہنگائی اور مجسٹریٹوں کو نوٹس! پالیسی کیا ہے؟

  



 پٹرولیم کی قیمتوں میں معتدبہ کمی کے باوجود اشیاء ضرورت اور خورو نوش کے نرخ کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے ہیں۔ اس پر عوام سراپا احتجاج ہیں کہ پٹرولیم کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ ہی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، لیکن یہ کیا ستم ہے کہ اب پٹرولیم مصنوعات سستی بھی کر دی گئیں، لیکن مہنگائی میں کمی کی بجائے اضافہ ہو گیا ہے، حتیٰ کہ ڈبل روٹی، بسکٹ اور ایسی ہی اشیاء بنانے والی فیکٹریوں نے بھی دام کم نہیں کئے جسے صریحاً حکومت کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔حکومت کی طرف سے منافع خوروں کی سرکوبی کے لئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ متعین ہیں۔ ایک خبر کے مطابق مہنگائی بڑھ جانے کو ان کی نااہلی تصور کیا گیا ہے اور اب اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں۔ اب تک28مجسٹریٹوں سے جواب طلبی کی گئی ہے۔ نوٹس دے کر کارکردگی کے حوالے سے جواب طلبی بجا، یہ انتظامی معاملہ ہے اس میں ہم دخل نہیں دیتے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ملک میں جمہوریت اور سیاسی حکومت ہے۔ سیاسی جماعتوں نے عوام سے ووٹ لینا ہوتے ہیں اور سیاست دان حضرات خود کہتے ہیں کہ ووٹ کارکردگی کی بنیاد پر ملتے ہیں۔ یہی دعویٰ وفاق اور پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) اور سندھ و خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف مع جماعت اسلامی کا بھی ہے، لیکن یہ کیسا دعویٰ ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے بیورو کریسی اور سرکاری مشینری پر بھروسہ کیا جا رہا ہے۔ یہ وزرا حضرات کس مرض کی دوا ہیں اگر یہ براہ راست خود کنٹرول یا نگرانی نہیں کر سکتے۔ بہتر عمل یہ تھا کہ جب حکومت پٹرولیم مصنوعات سستی کرنے جا رہی تھی، تو ایک مربوط پالیسی کے تحت ایسا کیا جاتا، خود حکومت ماہرین کے تعاون سے باقاعدہ ایک پالیسی مرتب کرتی، جو مارکیٹ کے مکمل جائزے اور تجزیئے کی بناء پر ہوتی اور ایوان ہائے صنعت و تجارت سے بھی تعاون مانگا جاتا۔ اس سلسلے میں اشیاء خوردنی اور ضرورت بنانے والی صنعت کے کرتا دھرتا حضرات سے میٹنگیں کی جاتیں اور ان سے نرخ کم کروائے جاتے، اسی طرح تھوک مارکیٹ والوں سے بات کی جاتی تو نتائج بہتر ہوتے کہ اوپر سے جب کمی ہوتی تو اثر نیچے ہوتا اور پھر یہ مجسٹریٹ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں والے موثر ہوتے، لیکن ایسا نہیں ہوا، بازار میں عام بیکری کی ڈبل روٹی55روپے سے60روپے میں بِک رہی ہے اور یہی ڈبل روٹی فیکٹری والے70روپے کی دے رہے ہیں۔ یہ قیمت گاہک یا صارف سے وصول کی جا رہی ہے۔ جب کوئی مربوط پالیسی نہیں تو ایسے چھاپے کیا کریں گے، مہنگائی کا عالم یہ کہ مٹر100روپے فی کلو ہیں۔ انڈوں کے نرخ بڑھ گئے، مرغی کا گوشت بھی200روپے فی کلو سے زیادہ ہو گیا۔ چینی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ روٹی نان پر کسی کا کنٹرول نہیں اور اب تو گھی کے نرخ بھی زیادہ ہو گئے ہیں۔ بہتر عمل یہی ہے کہ حکومت اپنے وزراء کے ذریعے براہ راست مداخلت کرے، باقاعدہ منصوبہ بندی اور پالیسی بنا کر مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے۔

مزید : اداریہ


loading...