اسلامی تعلیمات کے منافی رد عمل

اسلامی تعلیمات کے منافی رد عمل

 فرانس کے دارالحکومت پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنیوالے طنز ومزاح کے مشہور رسالے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر مسلح افراد کے حملے میں دو پولیس اہلکار،چیف ایڈیٹر اور 4 کارٹونسٹوں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ فرانسیسی میڈیا نے اس کا ذمہ دار مسلمان شدت پسندوں کو ٹھہرایا اورفرانسیسی صدرفرانسوا اولاندنے اس کو دہشت گردی کی ایک بڑی واردات قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو بزدلانہ انداز میں قتل کیا گیا،انہیں اس وجہ سے دھمکایا گیا کیونکہ ان کا ملک آزادی پسندوں کا ملک ہے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو جب عملہ ہفتہ وار ادارتی میٹنگ کر رہا تھا، اخبارکے دفترمیں دو مسلح افراد داخل ہوئے اور انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔نقاب پوش ملز م فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے ، تین میں سے دو حملہ آوروں کی تلاش جاری تھی۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں بھائی ہیں اور ان کے نام شریف اور سعید ہیں، جبکہ ایک اٹھارہ سالہ حملہ آور حمید مراد نے گرفتاری دے دی۔ذرائع کے مطابق تینوں حملہ آوروں کا تعلق یمنی شدت پسند تنظیم سے ہے، ان میں سے ایک 2008 ء میں شدت پسندوں کی مدد کرنے کے جرم میں اٹھارہ ماہ کی قید کاٹ چکا ہے۔ حملے سے چند گھنٹے قبل جریدے کی جانب سے آخری ٹویٹ میں متشدد گروہ دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابو بکر البغدادی کا کارٹون جاری کیا گیا تھا۔ ہفتہ وارفرانسیسی جریدہ چارلی ایبڈو فکاہیہ رسالہ ہے، جس میں مختلف نوعیت کے کارٹون اور لطیفے شائع کئے جاتے ہیں۔ہلاک ہونے والے چیف ایڈیٹراسٹیفن کاربونیر نے 2009ء میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔اس رسالے کی وجہ شہرت متنازعہ مواد کی اشاعت ہے اور اسی وجہ سے اس کوہمیشہ ہی شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔اس رسالے میں اکثر مختلف مذاہب کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے،آزادی اظہار کے نام پر قابل اعتراض خاکوں کی اشاعت ان کا معمول ہے۔ 2005 ء سے لے کر اب تک اس میں اسلام اور حضرت محمدﷺ کے بارے میں بہت سا قابل اعتراض مواد شائع ہو چکا ہے۔ 2007 ء میں دو فرانسیسی مسلمانوں نے اس رسالے پر مقدمہ دائر کیاتھا، ان کا موقف تھا کہ اس میں ڈینش رسالے میں چھاپے جانے والے بارہ کارٹون جو اسلام کے خلاف تھے، انہیں دوبارہ چھاپا گیا جو مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنا۔ لیکن فرانسیسی عدالت نے یہ کہہ کر کیس خارج کر دیا کہ یہ تو آزادی رائے ہے، یہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے ،اس سے کسی کی بھی دل آزاری نہیں ہو سکتی۔2011 ء میں اس رسالے کا خصوصی ایڈیشن ’شرعیہ ایبڈو‘ کے نام سے نکالا گیا جس پر حضرت محمدﷺ کا خاکہ چھاپاگیا ۔جس کے بعد اس کے دفتر پر فائرنگ کی گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ 2012 ء میں بھی جب امریکہ میں بنائی جانے والی توہین آمیز فلم کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج جاری تھا، مسلمانوں کے جذبات مجروح تھے ، مشرق وسطیٰ میں ہنگامے جاری تھے ،پاکستان میں بھی یو ٹیوب پرپابندی لگادی گئی تھی،تب بھی اس رسالے کے چیف ایڈیٹر شرارت سے باز نہ آئے، انہوں نے رسول پاکﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے گویا جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا، اس پر وہ بالکل بھی نادم نہیں تھے بلکہ ان کا موقف تھا کہ باقی سب تحریروں کے ذریعے اپنے تئیں اس کا جواب دے رہے ہیں انہوں نے بس تصویروں کے ذریعے یہ بات ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔اس کے بعد فرانس کو بیس ملکوں میں اپنے سفارت خانے بند کرنا پڑے تھے۔یہی نہیں بلکہ نئے سال کے آغاز میں اس نے سر ورق پر حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت مریم کا قابل اعتراض خاکہ چھاپا۔  پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور دہشت گردی کے اس موقع پر فرانس کے عوام اور حکومت سے تعزیت کا اظہاربھی کیا گیا ۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے،حالات اور واقعات جیسے بھی ہوں اس نوعیت کے حملوں کی حمایت قطعاً نہیں کی جا سکتی،یہ سراسر اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اس رسالے نے ہمیشہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی، تکلیف دی لیکن اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کا جواب تشدد سے دیا جائے، لوگوں کی جان لی جائے۔مسلمانوں کو اپنا رد عمل ہر صورت اسلام کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہی ظاہر کرنا چاہئے۔حضورﷺ نے بھی اسلام پھیلانے کے لئے بندوق کا سہارا نہیں لیا تھا بلکہ اپنی اخلاقی طاقت سے مخالفوں کو زیر کیا تھا۔ایک برائی کا جواب دینے کے لئے خود برائی کی ہر حدپھلانگ جانا کسی طور جائز نہیں ہے۔اس طرح کے حملوں سے تو مسلمان مزید مشکلات کا شکار ہوجا ئیں گے،جیسے کہ اب اسلام اور مسلمانوں کو مزید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر اسلام اورحضرت محمدﷺ کے قابل اعتراض کارٹون جاری کئے جا رہے ہیں۔لیکن جس طرح فرانسیسی جریدے پر حملہ قابل مذمت ہے اسی طرح سوشل میڈیا پر لوگوں کا رد عمل بھی نامناسب ہے، اس سے تو جذبات مزید مجروح ہوں گے، فساد مزید بڑھے گا،چند افراد کے کسی غلط قدم کی بنیاد پر اسلامی تعلیمات پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ اہل مغرب کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہئے، وہ اگر مسلمانوں کی دل آزاری کریں گے ، جلتی پرتیل چھڑکیں گے، ان کے عقیدے کا مذاق اڑائیں گے توکسی کے بھی جذبات بے قابو ہو سکتے ہیں، عقل و ہوش کا دامن ہاتھ سے چھٹ سکتا ہے۔ہالوکاسٹ کے بارے میں تو مغرب کو ایک لفظ بھی برداشت نہیں ہے اور اسلام پر حملے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اس کو وہ آزادئ اظہار کا نام دیتے ہیں۔انہیں اس بات کا خیا ل رکھنا چاہئے کہ مغربی ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں ،وہ ان ممالک کے شہری ہیں، ان کے بھی حقوق ہیں، ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا احترام سب پر لازم ہے۔غلط عمل اور رد عمل کا مرتکب چاہے کوئی بھی ہو وہ ہر جگہ اور ہرحال میں قابل مذمت ہے ۔

مزید : اداریہ