کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟

  



حیدرآباد میں سالہاسال سے شہر کے وسط میں موجود گاڑی کھاتہ کے علاقے میں جمعیت علماءپاکستان ایک جلوس کے بعد جلسہ کا انتظام کرتی ہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی اپنی حیات میں اس جلسے سے خطاب کیا کرتے تھے۔ جم غفیر ہوتا تھا۔ ان کے بعد یہ رسم جاری ہے۔ جمعیت علماءپاکستان کے تقسیم سے دوچار ہونے کے باوجود امسال بھی اسی مقام پر جلسہ ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے اس جلسے کا اجازت نامہ جن صاحب کے نام روز اول جاری ہوا تھا ان ہی کے نام رسمی کاروائی کے طور پر ہر سال جاری ہوجاتا ہے، لیکن اس سال چونکہ منتظمین تقسیم ہو گئے اور کسی نئے منتظم کے نام اجازت نامہ جاری نہیں ہوا تو ایک ایسا تنازعہ کھڑا ہو گیا جو اگر کھڑا نہ ہوتا تو عقیدت کا سفر زیادہ آسان ہوتا۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا کہ پولس حکام نے کسی بھی جلسے کے انعقاد کی اجازت دینے سے معذرت کر لی تھی، تاکہ شہر میں کسی فساد کا اندیشہ نہ رہے۔ بہر حال تنازعہ کو آپس میں ہی حل کیا گیا ۔

جلسے سے پہلے انس نورانی صاحب نے خطاب کیا۔ آپس میں جب اجازت نا مہ وجہ تنازعہ بن گیا تھا تو ایک مرحلے پر فریقین میں یہ طے پایا تھا کہ پہلے انس نورانی صاحب جلسہ کر لیں گے اور پھر اسی اسٹیج سے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر خطاب کر لیں گے۔ جس وقت صاحبزادہ صاحب کا جلوس گاڑی کھاتہ پہنچا تو انس نورانی صاحب خطاب فر مارہے تھے۔ ان کا خطاب ختم ہوتے ہی منتظمین نے لکڑی کے بنے ہوئے اسٹیج کو ختم کر دیا، تاکہ صاحبزادہ اسٹیج سے تقریر نہیں کر سکیں۔ اسٹیج کا ختم ہونا تھا کہ کارکن ایک دوسرے کے خلاف ایسے صف آرا ہوئے کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلاموں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کا جلوس جاری کیا تھا۔ وہ پرچم جسے تھامنا اور بلند رکھنا عقیدت کا وہ مرحلہ ہوتا ہے کہ اگر جان بھی چلی جائے تو پرچم بلند ہی رہے، کی بجائے ایک دوسرے پر پرچم نکال کر اس کے ڈنڈے اٹھائے گئے۔ پولس اگر بیچ بچاﺅ نہیں کراتی تو نہ جانے یہ لوگ اورکتنی جگ ہنسائی کا سبب بنتے۔ پولس کی موجودگی کے باوجود ایک دوسرے کی طرف بڑھنا اور غیر اخلاقی زبان استعمال کرنا ایسا عمل تھا جو ہر ایک کے لئے باعث ندامت تھا۔ ایک صاحب کے ہاتھ میں مائکرو فون آگیا تو انہوں نے بد زبانی کی حدیں عبور کر لیں۔ اتفاق سے صاحبزادہ صاحب کی ان پر نظر پڑ گئی تو انہوں نے بلند آواز میں انہیں تنبیہ کی اور انہیں خاموش کیا۔ 12 ربیع الاول کے دن جب مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ درود پاک پڑھنے کا درس دیا جاتا ہے، اس دن کی مناسبت سے جلسے جلوس، لنگر، فاتحہ درود کیا جاتا ہے اور جب عام لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ جن مذہبی رہنماﺅں کے وہ پیرو کار ہیں اور ان کے ہی کچھ ساتھی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں تو اس سے تاثر ہی بدل جاتا ہے۔ جمعیت کی تقسیم کے بعد عداوت کا یہ کھلا مظاہرہ اور خمیازہ تھا۔ وہ جمعیت علماءپاکستان جو کبھی حیدرآباد پر اپنی گرفت رکھتی تھی، جہاں سے علامہ نورانی مرحوم منتخب ہوا کرتے تھے اب حیدرآباد میں ہی ایک تماشہ بن گئی ہے۔

اخبارات میں میلاد النبی کی خوشیاں منانے والوں کے خلاف سعودی مفتیٰ اعظم کا فتویٰ شائع ہو ا ہے جس میں سعودی مفتی اعظم شیخ عبد العزیز الشیخ کی طرف سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کو بدعت اور کار گناہ قرار دے دیا گیا ۔امام ترکی بن عبداللہ مسجد ریاض میں خطبہ جمعہ سے خطاب کے دوران انہوں نے فرمایا کہ ” یہ ایک بدعت ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہؓ کے دور سے تین صدیاں بعد دین میں داخل ہوئی“ ۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت یہ ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں اور سنت پر عمل کریں، جبکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کی تلقین کرنے والوں کو بھی انہوں نے گنہگار اور گمراہ قرار دیا۔

برصغیر کے مسلمانوں میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے بے مثال والہانہ عقیدت پائی جاتی ہے۔ اس عقیدت کا اظہار ہر سال ملک کے شہر شہر گلی گلی میں نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد کی خوشی میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کی بھرپور تیاریاں کی جا تی ہیں ، گلیوں بازاروں کو دلہن کی طرح سجایا جا تا ہے ، گھر گھر چراغاں کیا جاتا ہے۔ لوگ درود پاک اور میلاد کی محفلیں سجاتے ہیں ، لنگر تقسیم کرتے ہیں۔ یہ نعرہ تو ہمیشہ زبان خاص و عام پر ہوتا ہی ہے کہ ” نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان پر جان بھی قربان ہے “ ، ” غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے “۔ یہاں عقیدت اور عشق کی حد تک محبت کا معاملہ ہے۔ عقیدت کے سفر میں اور کوئی ٹھوکر یا کوتاہی پیش آجائے تو ہر ایک کو روحانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حیدرآباد میں عید میلاد النبی پر پیش آ نے والے واقعہ کو عام لوگوں نے پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا،جس نے بھی دیکھا ور سنا، اپنے دکھ کا ہی اظہار کیا۔ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ عقیدت مند اس بابرکت دن کے حوالے سے مسجدیں آباد کریں جہاں درود پاک، حمد و نعت کی ایسی محفلیں سجائی جائیں جو روح کو گرما دیں اور آخرت میں آسانیوں کا سبب بن سکیں۔ جلسہ جلوس اپنی جگہ، لیکن ایسی محفلوں کی برکتوں کا اندازہ تو اسی وقت ہو سکتا ہے، جب وہ سجائی جائیں ۔ جمعیت علماہ پاکستان کو اسی واقعہ کی روشنی میں پہلی کوشش میں تقسیم کو ہی ختم کرنا چاہئے اور دوسری کوشش میں یہ عہد کرنا چاہئے کہ 12ربیع الاول جیسے مبارک دن پر کسی بھی تنازعہ سے ہر حال میںگریز کیا جائے گا اور آپس میں در گزر اور برداشت کا ایسا مظاہرہ کیا جائے گا، جس کا تقاضہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے در گزر اور برداشت ایسا ہتھیار بتائے گئے ہیں جن کے استعمال سے بڑے سے بڑا دشمن اور مخالف بھی زیر ہوجاتا ہے۔ یہاں تو معاملہ ہی اپنوں کا ہے۔

مزید : کالم


loading...