قیدیوں کی رہائی کیلئے پولیس حکومت سازی کی منتظر

قیدیوں کی رہائی کیلئے پولیس حکومت سازی کی منتظر

  



سرینگر(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر کی عدالتوں سے رہائی کے حکم کے باوجود قیدیوں کو رہا نہیں کیا جارہامختلف جیلوں میں محبوس مقامی و بیرون ممالک قیدیوں کے کیسوں کی پیروی کرنے والے معروف وکیل میر شفقت نے کہا ہے کہ عدالتوں کی جانب سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پولیس تھانوں میں بغیر کسی قانونی جواز کے رکھا جارہا ہے اور اب پولیس ان قیدیوں کو حکومت سازی تک انتظار کرنے کیلئے مجبور کررہے ہیں ۔سینئر حریت پسند لیڈر اور مسلم لیگ چئیرمین مشتاق الاسلام کے کیس کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ میر شفقت نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو عدالت عالیہ نے سیفٹی ایکٹ کالعدم قرار دے کر رہائی کا پروانہ سنایا تھا لیکن تقریبا ایک ماہ گذر جانے کے باوجود پولیس انہیں ایک سے دوسرے تھانے منتقل کرکے بٹہ مالو تھانے میں قید کی ہوئی ہے ۔انہوں نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ تمام کیسوں سے ضمانت ملنے کے باوجود پولیس ان کے مؤکل کی رہائی عمل میں لانے سے گریزاں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ عدالتوں سے اس معاملے میں رپورٹ طلب کئے جانے کو بھی پولیس ہلکے انداز سے لے رہی ہے ۔ایسا لگ رہا ہے کہ پولیس حکومت سازی کا انتظار کررہی ہے اور تب تک مشتاق الاسلام سمیت دیگر درجنوں افراد کو غیر قانونی طور پولیس تھانوں میں بند رکھا جارہا ہے ۔عدالت نے اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے بٹہ مالو پولیس نے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔واضح رہے کہ مسلم لیگ چئیرمین مشتاق الاسلام پر 2010سے مسلسل 14بار سیفٹی ایکٹ نافذ کیا گیا تاہم عدالت عالیہ ان کے خلاف سبھی الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر ان کی رہائی کے احکامات صادر کئے تھے ۔مشتاق الاسلام کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ کئی ماہ سے 16بار ضمانتیں بھی پولیس کو پیش کیں تاہم ان کی رہائی عمل میں نہیں لارہی ہے ۔

مزید : عالمی منظر


loading...