7جنو پیرس کے ایک ہفت روزہ پر ”حملہ“؟

7جنو پیرس کے ایک ہفت روزہ پر ”حملہ“؟
7جنو پیرس کے ایک ہفت روزہ پر ”حملہ“؟

  



ری 2015ءکی صبح فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک ہفتہ وار اخبار پر ”دہشت گردوں“ نے حملہ کر دیا۔ اس ہفتہ وار اخبار کا نام چارلی ہیبڈو (Charlie Hebdo) (یاایبڈو) ہے۔ اصل نام ”چارلی“ ہی ہے۔ ہیبڈو کا معنی ہے ہفتہ وار (Weekly)....

اس حملے میں 12افراد مارے گئے جن میں فرانس کے ممتاز ترین کارٹونسٹ بھی شامل تھے۔ یہ خبر کل دنیا بھر (بشمول پاکستان)کے اخبارات میں صفحہ اول پر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کی گئی۔ جو لوگ مارے گئے ان میں اخبار کا ایڈیٹر انچیف سٹیفن شاربونیر(Charbonnier) بھی تھا جسے مغرب کی صحافی برادری میں ”شارب“ کے مختصر نام سے پکارا جاتا تھا۔

اِدھر 7جنوری ہی کی شب پاکستان کے ایک معروف نیوز چینل (ARY) کے ایک معروف اینکر (مبشر لقمان صاحب) نے اپنے پروگرام ”کھرا سچ“ میں اس امر پر سخت حیرت کا اظہار کیا کہ فرانس میں دنیائے صحافت کے نامور صحافیوں کو دہشت گردوں نے مار ڈالا لیکن اس سانحے کی ”مذمت“ کی توفیق کسی ایک اسلامی ملک کو بھی نہ ہو سکی.... مجھے بھی مبشر صاحب کی یہ بات سن کر حیرانی ہوئی کہ اسلامی دنیا اتنی سنگدل کیوں ہے کہ بارہ افراد ایک اخبار کے دفتر میں قتل کر دیئے گئے اور کسی مسلمان نے ایک لفظ تک اس کی مذمت میں نہیں کہا۔ میں نے جب CNN آن کیا تو اس میں پہلے تو بارک اوباما صاحب اس ”وحشیانہ حملے“ کی مذمت کرتے دیکھے گئے۔ بعد میں ان کے وزیر خارجہ جناب جان کیری سکرین پر نمودار ہوئے اور انہوں نے بسورے ہوئے منہ کے ساتھ حملہ آوروں کی خوب خبر لی۔ اس کے بعد جب انگریزی زبان کے سامعین کو اپنا موقف پیش کر چکے تو دس منٹ تک فرانسیسی زبان میں وہی کچھ کہا جو پہلے انگریزی میں کہہ چکے تھے۔ مجھے جان کیری کی زباندانی پر کوئی حیرت نہ تھی کیونکہ یہ زبان انہوں نے بطور ”ثانوی زبان“ اپنے تعلیمی اداروں میں سیکھی تھی اور اس میں وہ تمام اہل فرانس سے بالعموم اور صدرِ فرانس موسیو ہالینڈے سے بالخصوص اظہار یکجہتی فرما رہے تھے۔ اس حادثے کے فوراً بعد برطانیہ کے کیمرون صاحب اور جرمنی کی انجیلا صاحبہ تشریف لائیں اور انہوں نے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزمِ صمیم کا دعویٰ کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ تین دہشت گرد سیاہ لباس میں ملبوس کلاشنکوف بدست اور راکٹ لانچر بشانہ، چارلی ہیبڈو کے دفتر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اسی میں دو پولیس آفیسرز اور دس صحافی مارے گئے۔دہشت گرد کارروائی مکمل کرنے کے بعد ایک سیاہ رنگ کی کار میں فرار ہو گئے۔ اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ فرانس بھر میں تمام اہم مقامات پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ آخری خبریں آنے تک تین مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ اصل مجرم ہیں یاصرف شک کی بناءپر گرفتار کئے گئے ہیں.... عینی شاہدوں کے مطابق دہشت گردوں میں سے ایک نے جاتے جاتے فرانسیسی زبان میں یہ نعرہ بھی لگایا تھا: ” ہم نے حضرت محمد ﷺ کا انتقام لے لیا ہے.... اللہ اکبر!“

پیرس سے شائع ہونے والے اس ہفت روزہ میں دنیا بھر کی مشہور شخصیات پر فکاہیہ مضامین شائع ہوتے ہیں اور ایسے ایسے کارٹون شائع کئے جاتے ہیں جو قارئین کے لئے مسکراہٹوں اور قہقہوں کا باعث بنتے ہیں۔

ویسے تو یہ ہفت روزہ فرانس کا ایک طنزیہ (Satirical) اخبار ہے لیکن اس میں جو خاکے چھاپے جاتے ہیں ان میں مسلم امہ کی حساسیت کا کچھ لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ بقول مغربی میڈیا دہشت گردوں نے جاتے جاتے یہ نعرہ کیوں لگایا کہ ”ہم نے محمد کا انتقام لے لیا ہے“.... قارئین گرامی! اس سوال کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔

ایسوسی ایٹ پریس کی ایک خبر کے مطابق یہ ہفت روزہ دنیا کی محترم ترین مذہبی اور سیاسی شخصیات پر پھبتیاں کسنے میں مشہور ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، پوپ اور عالمی مذاہب کے پیغمبروں کے طنزیہ خاکے شائع کرنا اس ہفت روزہ کی روایت ہے۔ مغرب میں چونکہ پریس مادر پدر آزاد ہے اس لئے وہاں کوئی معترض نہیں ہوتا کہ کس کو کیا کہا گیا۔ اخبار کا ایڈیٹر انچیف جو اس حملے میں مارا گیا، کہا کرتا تھا: ”اگر میرے خاکوں پر مسلمان ہنستے یا مسکراتے نہیں تو میں ان کو قصور وار نہیں گردانتا۔ میں فرانسیسی قانون کے تحت زندگی بسر کررہا ہوں، قرآنی قوانین کے تحت نہیں“۔

2011ءمیں بھی اس اخبارکے دفتر کو انہی وجوہات کی بناءپر آگ لگا دی گئی تھی لیکن یہ اخبار توہین آمیز خاکے شائع کرنے سے باز نہ آیا۔ اس کے کارٹونسٹ کا موقف تھا کہ : ”ہم صحافی ہیں اور ہم خبروں کو صحافیانہ نقطہ ءنظر ہی سے دیکھتے ہیں۔ بعض صحافی کیمرہ استعمال کرتے ہیں اور بعض کمپیوٹر جبکہ ہم کاغذ اور پنسل استعمال کرتے ہیں.... یہ پنسل کوئی ہتھیار نہیں۔ یہ تو محض اظہارِ خیالات کا ایک وسیلہ ہے“۔

اکبر ایس احمد ایک سابق پاکستانی بیورو کریٹ اور دانشور ہیں۔ اسلام اور تاریخ اسلام پر ان کی کئی کتابیں شہرت عام پا چکی ہیں۔آج کل ایک امریکی یونیورسٹی میں ”اسلامیات“ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہیں۔ پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں۔ چونکہ خود فاٹا میں پولیٹیکل ایجنٹ رہے اس لئے ان کے مضامین جو طالبان اور فاٹا کے موضوع پر لکھے جاتے ہیں، ان کو دنیا بھر میں قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حضرت محمد کی شبیہ شائع کرنے کی ممانعت کے پیچھے یہ نکتہ کارفرما ہے کہ اسلام میں بت پرستی ممنوع ہے۔ اسلام تو آیاہی بت پرستی کی بیخ کنی کے لئے تھا۔ توحید، اسلام کا اولین رکن ہے۔ آنحضور نے خود فرمایا کہ وہ ”اللہ کے بندے اور رسول ہیں“ مزید فرمایا کہ : ”میں ایک بشر ہوں“ اس لئے اگر آپﷺ کی تصویر یا ان کا کوئی خاکہ شائع کیا جائے تو خدشہ ہے کہ لوگ کہیں اس خاکے یا شبیہ کی پرستش شروع نہ کر دیں ۔اور اگر ایسا ہواتو یہ امرعقیدئہ توحید کابطلان ہوگا۔

ڈاکٹر احمد کا خیال یہ بھی ہے کہ اسلام کا ظہور، دراصل عیسائیت کے اس عقیدے کا ردعمل تھا جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا (یا خدا کا ایک حصہ) سمجھ لیا گیا تھا۔ تثلیث کا عقیدہ ایک ایسی بحث کا دروازہ کھولتا ہے جس کا دیباچہ (Preamble) بھی اس مختصر کالم میں نہیں سما سکتا۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمان نہیں چاہتے تھے کہ حضرت محمدﷺ کو حضرت عیسیٰ کی طرح ”خدا کا ایک حصہ“ یا ”خدا“ سمجھ لیا جائے۔

چنانچہ اگر کوئی اخبار خواہ وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا، جب وہ پیغمبر اسلام کی شبیہ شائع کرتا ہے تو یہ گویا عقیدئہ توحید کی نفی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مسلمان نہ صرف آنحضور بلکہ دنیا کے کسی بھی دوسرے پیغمبر کی تصویر /خاکہ شائع کرنے کے حق میں نہیں۔

پاکستان کے مسلمان اس موضوع پر نہایت حساس نقطہ ءنظر کے حامل ہیں۔ برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ وہ آنحضور کے بارے میں کسی ایسے تصور کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو توہینِ رسالت کے زمرے میں آتا ہو۔ مغرب کے کئی رسالے اور اخبارات مسلمانوں کی اس حساسیت سے آگاہ ہیں لیکن وہ یا تو جان بوجھ کر یا مسلم امہ کو دنیا کی باقی اقوام میں ذلیل (Degrade) کرنے کی نیت سے مسلمانوں کی تعلیمات اور ان کے عقائد کے خلاف دریدہ دہنی سے باز نہیں آتے۔ خدا ہی ان کو صراطِ مستقیم دکھا سکتا ہے.... اور ہم ان کے لئے دعا ہی کر سکتے ہیں۔

چارلی ایبڈو کے ایک حالیہ ایڈیشن میں ”دولت اسلامیہ“ کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کا بھی ایک خاکہ شائع کیا گیا تھا۔ قیاس کیاجا رہا ہے کہ یہ حملہ آور جو سیاہ لباس میں ملبوس تھے، ان کا تعلق بھی شائد ”داعش“ سے نہ ہو.... یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مغربی دنیا سے بہت سے لوگ (مرد و زن) جن میں ہر عمر کے افراد شامل ہیں عراق و شام میں جا کر ابوبکر البغدادی کی ”داعش آرمی“ میں بھرتی ہوتے رہے ہیں۔

 یورپ میں لاکھوں مسلمان رہ رہے ہیں۔ وہ یورپ کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ ان کو اہلِ یورپ طرح طرح سے تنگ کرتے رہتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں دہشت گردی کا سانحہ ہو، کسی نہ کسی مسلمان کے ملوث ہونے کو نوشتہءدیوار سمجھ لیا جاتا ہے۔ بیشتر مسلمان یورپی ممالک میں اپنے آپ کو محصور سمجھتے ہیں۔ جب ایسے محصور مسلمان، پیرس سے شائع ہونے والے اس اخبار کی طرح کے اخباروں کو دیکھتے ہیں تو وہ اسے اپنے مذہب پر تنقید نہیں سمجھتے بلکہ مغرب کی ایک ”دھونس“ گردانتے ہیں جس کو برداشت کرنے پر وہ مجبور ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس حملے کو مذہبی دور بین کے علاوہ اس دوربین سے بھی دیکھنا چاہیے کہ جس کا تعلق مذہب سے کم اور انتقام سے زیادہ ہے!

مزید : کالم


loading...