سیاسی استحکام اور درپیش چیلنج

سیاسی استحکام اور درپیش چیلنج
سیاسی استحکام اور درپیش چیلنج

  



جس قسم کے حالات ہمیں درپیش ہیں، ان سے نبردآزما ہونے کے لئے اتحاد اور یکسوئی کی اشد ضرورت ہے۔ ایک بڑا کام کرنے کے بعد ہم نے اب اس کے نتائج بھی دیکھنے ہیں۔ یہ نتائج تبھی ہماری توقعات کے مطابق نکل سکتے ہیں، جب ہمارے فیصلوں میں کمزوری نظر نہ آئے اور اتفاق و اتحاد کی وہی صورت برقرار رہے جو آئینی ترمیم کے وقت دیکھنے میں آئی۔ اس وقت سیاسی سطح پر بلا شبہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کا عنصر چھایا ہوا ہے۔ باقی ساری باتیں فی الوقت ثانوی نظر آتی ہیں، مگر کیا یہ صورت حال تادیر برقرار رہے گی؟یہ جنگ یقینا بہت طویل ہے، تاہم فوجی عدالتوں کے لئے دو سال کا عرصہ متعین کیا گیا ہے، اب ظاہر ہے اس محدود مدت میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ سیاسی سطح پر استحکام رہے، تاکہ فوج یکسوئی کے ساتھ ایک طرف دہشت گردوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے اور دوسری طرف فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردوں کے مقدمات پرفیصلے بھی ہوتے رہیں۔ کیا حکومت ملک میں سیاسی استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی؟ کیا اس میں جرات مندانہ سیاسی فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے؟ کیا اسے یہ ادراک بھی ہے کہ کون کون سے ایشوز ایسے ہیں، جن پر فوری توجہ نہ دی گئی تو سیاسی محاذ آرائی کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔

موجودہ حکومت کے بارے میں یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ ہمیشہ وقت گزرنے کے بعد فیصلے کرتی ہے۔ حقیقتوں کو سطحِ آب پر دیکھنا کوئی کمال نہیں، اصل کمال تو یہ ہے کہ معاملات کو زیر آب دیکھ لیا جائے، مثلاً اگر موجودہ صورت حال پر نگاہ ڈالی جائے تو بظاہر حکومت ہر قسم کے سیاسی دباﺅ سے آزاد نظر آتی ہے۔ ایک بڑا معرکہ سر کرنے کے بعد حکومت نے اس تاثر کو بھی ختم کر دیا ہے کہ فوج اور اس کے درمیان کوئی دوری موجود ہے، بلکہ اس وقت تو یوں لگتا ہے کہ فوج اور حکومت مکمل طورپر ایک ہی صفحہ پر کھڑی ہیں۔ صورت حال اس طرح تبدیل ہو چکی ہے کہ بعض حلقے حکومت کو فوج کی بی ٹیم قرار دینے سے بھی گریز نہیں کررہے، جس نے فوجی عدالتوں کے لئے اپنا سارا زور فوج کے پلڑے میں ڈال دیا۔ گویا حکومت اس حوالے سے بالکل محفوظ ہو گئی ہے کہ فوج کی طرف سے اس پر کوئی دباﺅ پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی سطح پر بھی نوازشریف حکومت اس قسم کے دباﺅ کاشکار نہیں، جس کا دو ماہ پہلے تک دھرنے کے دنوں میں شکار تھی۔ سیاست کے انداز 16دسمبر سانحہ کے بعد یکسر بدل گئے اور عوام کی توقعات و ترجیحات بھی تبدیل ہو گئیں۔ بظاہر یہ سب کچھ حکومت کی مضبوطی کا پتہ دے رہا ہے، لیکن کیا واقعتاً ایسا ہی ہے اور حکمرانوں کے اچھے دن شروع ہو چکے ہیں؟

کسی حکومتی وزیر سے یہی سوال پوچھیں تو وہ یقینا اس کا جواب اثبات میں دیں گے، بلکہ فخر سے اس بات کا اظہار بھی کریں گے کہ حکومت کو نہ صرف عوام، بلکہ فوج کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے اور ہم پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان بنا کر چھوڑیں گے۔ اردگرد کے حالات کی بنیاد پر انہیں یہ کہنے کا حق ضرور ہے، مگر یہ سب کچھ خوش فہمی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت اگر ایک مرتبہ پھر اسی خمار میں مبتلا ہو گئی، جس میں وہ انتخابات کے فوراً بعد مبتلا ہو گئی تھی اور اس نے اپوزیشن کے مطالبات کو معمولی جان کے نظر انداز کرنا شروع کر دیا تو یہ غیر دانشمندانہ سوچ ہوگی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اب حکومت کے لئے چیلنج مزید بڑھ گئے ہیں۔ اسے سب سے بڑا چیلنج تو یہ درپیش ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام کوبرقرار رکھے، تاکہ 21ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں جس بڑے آپریشن کا آغاز ہوا ہے، اس میں کوئی رکاوت پیدانہ ہو۔ فوج بھی صرف اسی صورت میں یکسوئی کے ساتھ اس بڑے چیلنج سے عہدہ برآ ہو سکتی ہے ،جب اسے مکمل سیاسی حمایت حاصل رہے اور ملک کسی انتشار کا شکار نہ ہو۔

 اس حقیقت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ 21ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے باوجود اس کے حوالے سے کئی حلقوں میں تحفظات موجود ہیں۔ خود وہ جماعتیں بھی کہ جنہوں نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیئے ،معذرت خواہانہ انداز سے وضاحتیں دیتی پھر رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پل صراط سے گذرنا قدم قدم پر اختیاط کا متقاضی ہے۔ ایک طرف عوام کو اس کے مثبت نتائج دکھانا ہوں گے، جبکہ دوسری طرف یہ تاثر بھی قائم رکھنا ہو گا کہ اس کا استعمال شفافیت اور غیر جانبداری سے ہو رہا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے کھل کر اس ترمیم کی مخالفت کر دی ہے، کیونکہ وہ اس میں اسلام کا لفظ استعمال کرنے کے خلاف ہیں اور اسے امتیازی قانون قرار دے رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں جب دہشت گردی کے ایسے واقعات ہوں گے، جن کا تعلق مذہب سے زیادہ دیگر عوامل سے ہو گا اور ان کے کیس ان عدالتوں میں نہیں بھیجے جائیں گے تو یہی حلقے حکومت پر دباﺅ ڈالیں گے کہ وہ بل میں مناسب ترمیم کرے اور دہشت گردی کو صرف اسلام سے وابستہ نہ کرے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف ترمیمی بل پاس کرا لینے سے حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہو گئی، بلکہ ذمہ داری میں اضافہ ہو گیا ہے، اسے نتائج بھی دینے ہیں اور ملک میں وہشت گردی کو کنٹرول بھی کرنا ہے، اسی سے جڑا سب سے بڑا ٹاسک یہ ہے کہ حکومت مذہبی جماعتوں کے رد عمل کو احتجاج کی شکل اختیار کرنے سے پہلے روکے۔

مولانا فضل الرحمان اس حوالے سے متحرک ہو چکے ہیں اور انہوں نے دینی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، اگر اس مسئلے پر بھی حکومت اپنے روائتی تساہل کو برقرار رکھتی ہے اور مضطرب حلقوں کو مطمئن کرنے کے لئے فوری اقدامات نہیں کرتی تو آنے والے دنوں میں ایک نیا انتشار قوم کے لئے دردِ سربن سکتا ہے۔سیاسی استحکام کے لئے حکومت کے لئے دوسرا بڑا چیلنج جو ڈیشل کمیشن کے قیام کا مسئلہ ہے۔ بظاہریہ معاملہ حکومت کے لئے فی الوقت کسی بڑی پریشانی کا باعث نہیں، کیونکہ دہشت گردی کے مسئلے نے باقی تمام مسائل کو بہت ثانوی کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید آج کل عمران خان کو صرف ایک ہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ نیشنل ایجنڈے پر قومی اتفاق رائے کو سبوتاژ نہ کریں، حالانکہ یہ خود ان کے اپنے کرنے کا کام ہے، انہیں ایسی فضا برقرار رکھنی چاہیے کہ حالات پھر کسی کشیدگی کی طرف نہ جائیں۔ صرف عمران خان سے خطاب کر کے وہ محاذ آرائی کو فروغ تو دے سکتے ہیں، کم نہیں کر سکتے۔

 عمران خان نے تو حکومت کو 18 جنوری کی ڈیڈ لائن بھی دے دی ہے، اگر حکومت اس ڈیڈ لائن کو بھی ماضی میں دی گئی ڈیڈ لائنز کی طرح بروقت خاطر میں نہیں لاتی اور معاملات کو ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر لانے کا موقع دیتی ہے تو میرے نزدیک موجودہ حالات میں اس سے بہت بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ جب آپریشن ضرب عضب شروع ہوا تھا تو ساتھ ہی دھرنوں کا آغاز بھی ہو گیا تھا، جس سے قوم میں جو اتحاد و یکجہتی نظر آنی چاہیے تھی ،وہ متاثر ہوئی۔ اب اگر دہشت گردی کے خلاف گرینڈ ایکشن پلان بھی سیاسی بحران کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے تو بڑی بد قسمتی ہو گی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر دونوں فریقوں میں تقریباً اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے، اگر یہ سچ ہے تو پھر اسے پایہءتکمیل تک کیوں نہیں پہنچایا جاتا۔ مَیں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی سے دونوں جانب کے جملے باز اور بیان ساز اپنی اپنی زبانیں تیز کر رہے ہیں، ٹاک شوزمیں بھی گرما گرمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے چند ہفتوں کے ٹھہراﺅ اور سانحہ پشاور کے بعد پیدا ہونے والی یکجہتی کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر انتشار کی طرف بڑھ رہے ہیں، یہ کوئی نیک شگون نہیں، پھر وہی بے یقینی اور پھر وہی سڑکوں پر نظر آنے والی احتجاجی تحریکیں، کیا ان حالات میں ہم دہشت گردی کے خلاف اپنے گرینڈ قومی ایجنڈے پر عملد آمد کر سکیں گے؟ ایسی صورت میں تو بہت سی دیگر قوتیں بھی سر اٹھائیں گی، امن و امان کے مسائل بھی پیدا ہوں گے، حکومت کی توجہ بھی بٹے گی اور سیاسی عدم استحکام بھی جنم لے گا، کیا موجود حالات میں ملک ان باتوں کا متحمل ہو سکتا ہے؟

ماضی قریب کے حالات اس امر کا ثبوت ہیں کہ عمران خان کی کسی بات کو معمول سمجھنا حکومت کی غلطی ہو گی۔ یہ درست ہے کہ ان کی شادی سے فضا میں ایک خوشگوار تبدیلی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے جو کہا ہے ،اس پر عمل نہیں کریں گے۔ انہوں نے دھرنے کا اعلان کیا تھا، دھرنا ہوا۔ پلان بی، سی، ڈی پیش کیا، وہ بھی کامیاب ہوا، اب وہ ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کا اعلان کر چکے ہیں، کیا ضروری ہے کہ حکومت ایک مرتبہ پھر ان کے احتجاج کا انتظار کرے؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جانے سے روکا جائے، مذاکرات سے مسئلہ حل کیا جائے۔ حکومت احتجاج کا آپشن دے کر معاملے کو طول ضرور دے سکتی ہے، لیکن اس کے جو منفی سیاسی اثرات ہوں گے، ان سے کیسے بچے گی؟ جوڈیشل کمیشن کے تنازعے کو کسی مناسب حل کی طرف لے جا کر ملک کو سیاسی بحران سے بچایا جا سکتا ہے، جو وقت کی ضرورت بھی ہے اور خود حکومت کے استحکام کا تقاضا بھی، کیا ایک بڑی فتح سے سرشار وزیراعظم اس پہلو پر بر وقت توجہ دے پائیں گے؟

مزید : کالم