اصل ایجنڈا ہے کیا؟

اصل ایجنڈا ہے کیا؟
 اصل ایجنڈا ہے کیا؟

  



آخری چارہ کار فوجی عدالتیں ہیں تویہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ان عدالتوںکے قیام کا معاملہ مکمل قومی اتفاق رائے سے ممکن نہ ہو سکا ،یہ کہنا غلط ہوگا کہ صرف جے یو آئی (ف)اور جماعت اسلامی نے مخالفت کی۔ سچ تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے سوا ملک کی تقریبا ً تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ سینیٹ میں رضا ربانی نے یہ کہہ کر صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کے بھی کئی ارکان پارلیمنٹ کی نمائندگی کر دی کہ 21ویں آئینی ترمیم کے بعد وہ خود کو جتنا شرمسارمحسوس کررہے ہیں زندگی میں کبھی اتنا شرمندہ نہیں ہوئے۔ اب بلاول بھٹو بھی پارلیمنٹ پر برس پڑے ہیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے اعتراضات تو مسلم لیگ(ن) کے کئی ارکان نے بھی کیے مگر ان کی بھاری اکثریت کھلے عام دل کی بات زبان پر لانے کی ہمت نہ کرسکی۔

آئیے بطور قوم ہم اس تلخ سچائی کو تسلیم کرلیں کہ اب پارلیمنٹ اور سول حکومت کا ہونا یا نہ ہونا بے معنی ہے۔ دھرنے دلوا کر سول حکومت کو پہلے ہی اس قدراپاہج کر دیا گیا تھا کہ وہ دفاع ،داخلہ اور خارجہ پالیسیوں سمیت اپنے کئی اختیارات سے عملاً محروم ہوگئی۔ آرمی چیف کے دورہ امریکہ کے بعدہونے والی پیش رفت، غیر ملکی مہمانوں کی اسلام آبادآمد اور پھر اصل مذاکرات کےلئے راولپنڈی سے رجوع کرنے کے مناظر کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ دھرنوں کے دوران عمران خان کے ذریعے جن جن اداروں کو نشانہ بنوایا جارہا تھا اب انہیں بے وقعت کیا جارہا ہے۔ کپتان کا مطالبہ تھا کہ وزیراعظم فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔ ٹیکنو کریٹس کی حکومت بنا کر نئے انتخابات کرائے جائیں۔ نئے الیکشن کی تو تاحال نوبت آئی نہ ہی فی الوقت کوئی امکان نظر آتا ہے لیکن وزیر اعظم نواز شریف کے متعلق یہ تبصرہ بے جا نہ ہوگا کہ اب وہ رسمی طور پر حکمران رہ گئے ہیں۔ عمران خان کا دوسرا بڑا ہدف جوڈیشری تھی۔ فوجی عدالتوں کے قیام کےلئے آئینی ترمیم اور ان عدالتوں کے فیصلوں کو ہائی کورٹس اور سپریم کورٹس میں چیلنج نہ کیے جانے کی دفعات کے بعد اب اعلیٰ عدلیہ کو بھی انتہائی محدود کر دیا گیا ہے۔ کپتان کا تیسرا بڑا ہدف جنگ اور جیوتھے۔ یہ حیرت انگیز مگر خوشگوار تاثر موجود ہے کہ ہر طرح کے ہتھکنڈوں کا سامنا کرنے کے باوجود یہ میڈیا گروپ بڑی استقامت کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔ یہ بھی کہا جار ہاہے کہ کئی میڈیا ہاﺅسز کے ذریعے جنگ، جیو گروپ کا محاصر ہ کرانے میں ناکامی کے بعد اب ایک نیامیڈیا ہاﺅ س کھڑا کرکے گھیراتنگ کرنے کی کوشش کی جائیگی۔

سانحہ پشاور کا حساب چکانے کی کوشش میں فوجی عدالتوں کے قیام سے پہلے سزائے موت کے مخصوص قیدیوں کو تختہ دار پر لٹکانے کا سلسلہ شروع کر دیاگیا۔ ان میں اکثر کئی کئی سال سے موت کی کوٹھڑیوں میں بندتھے۔ دیکھنا ہوگا کہ پہلے سے گرفتار ملزموں کو انجام تک پہنچانے کے نتیجہ میں امن و امان کی صورتحال کتنی بہتر ہوتی ہے۔ اصولی بات تو یہ ہے کہ ایسے قیدیوں کی سزاﺅں پر عمل درآمد نہ کرنے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ لیکن اس سے بھی اہم امر یہ ہے کہ اب اگر پھانسی گھاٹ کھل ہی گئے ہیں تو ہر قسم کے مجرموں کو بلا امتیاز لٹکایا جانا چاہیے۔

قانون سب کےلئے برابر ہوتا ہے۔ یہ تسلیم شدہ سچائی ہے کہ جس معاشرے میں قانون کا اطلاق کرتے ہوئے امتیاز برتا جائے وہاں خیر کے بجائے شر ہی برآمد ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خطرناک مجرم صولت مرزا کی گردن میں پڑے پھندے کو عین وقت پر نکال لیا جائے اور پھانسیوںکے دوسرے مجرموں کے لئے امتیازی پالیسی اختیار کرلی جائے۔

پھانسیاں دینے کا عمل تو ابھی شروع ہوا ہے۔ جعلی مقابلوں میں مجرموں کو موت دینے کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد خصوصاً کراچی میں پے درپے مقابلے ہو رہے ہیں۔ ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ پولیس مقابلے بھی امتیازی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ گوکہ جعلی مقابلے خلاف قانون و آئین ہیں اسکے باوجود لوگوں میں کسی حدتک یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان مقابلوں میں اکثر اوقات گنہگاروں کو ہی پار کیا جاتا ہے۔ کراچی میں ہونے والے مقابلوں کے حوالے سے انگلیاں بھی اٹھ رہی ہیں۔ پولیس والے وکٹری کا نشان بنا رہے ہیں۔ لیکن وارداتیں ہیں کہ تھمنے میں نہیں آرہیں۔ اب لوگ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ کیا مارے جانے والے واقعی خطرناک مجرم تھے یا پھر پولیس نے وسیع تر قومی مفاد کے تحت ادھر اُدھر سے لاوارث جمع کرکے پھڑکادیئے اوراب اے این پی بھی دہائی دے رہی ہے کہ پختونوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پولیس ہے کہ کام دکھاتی جارہی ہے ،یہ بھی نہیں سوچتی کہ اسکے دعوے کس قدرمضحکہ خیز ہیں۔ ابھی چند روز قبل ہی ایک مقابلے میں 13افراد کو ہلاک کیا گیا۔

کراچی پولیس حکام نے میڈیا کو سینہ تان کر بتایا کہ ان میں سے 9کا تعلق کالعدم تحریک طالبان اور 4کا القاعدہ سے تھا۔ زبر دست مقابلے کے بعد 13کے 13مارے گئے اور پولیس کے کسی اہلکار کو گزند نہیں پہنچی۔ اس د عوے پر تبصرے کی ضرورت نہیں ،کسی راہ چلتے شخص سے دریافت کرلیا جائے کہ اگر کسی مقام میں 9طالبان اور 4القاعدہ ارکان مل کر پولیس کے مقابلے پر آجائیں تو کیا ہوگا؟

اس گمبھیر ماحول میں مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق اور بعض دیگر رہنماﺅں کے ان خدشات کو کیونکر غلط قراردیا جاسکتا ہے کہ سارا کھیل دینی مدارس کو بند کرنے کےلئے کھیلا جار ہا ہے۔ اگرحکومت میں دم خم ہو تا توان رہنماﺅں کی تشفی کراتی وہ توالٹا ایم کیو ایم سے بھی بلیک میل ہو رہی ہے۔ ان خدشات کو اب کون دور کرے گا؟ اور اگر یہ خدشات حقیقت کا روپ دھار گئے تو کیا ہوگا؟کیا واقعی مخصوص مسلک کے مدرسوں کے خلاف کارروائی ہونے جارہی ہے ؟ کیا ایک بار پھر پختونوں کی غالب اکثریت کوامتحان سے گزرنا ہوگا۔ یہ سب سیکولرلابی سمیت اور بہت سوں کی خواہش تو ہوسکتی ہے عملاًایسا ممکن نہیں۔پاکستان مین کسی اتا ترک کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ اس معاشرے کو اس کی نظریاتی اساس سے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔ اب جبکہ ریاست کے تمام اہم معاملات براہ راست فوج کے ہاتھوں میں آچکے ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر قسم کے مجرموں سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے۔ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کو بھی دہشتگرد قرار دیکر انجام تک پہنچانا ہوگا۔ فوجی عدالتیں بن ہی گئی ہیں تو دائرہ کا ر ہر قسم کی دہشتگردی تک وسیع کیا جائے۔ جس طرح سے 21ویں آئینی ترمیم ممکن ہوئی ہے ٹھیک اسی طرح سے 22ویں ترمیم بھی آسکتی ہے۔ یہ سب کچھ ملٹری لیڈر شپ کے محض اشارہ ابروپرہی ممکن ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ سے بہتر انداز میں یہ بات کون جانتا ہوگا کہ ملک کے اندرونی حالات ،سرحدی معاملات اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں امتیاز ی پھانسیوں سے بحران کم ہونے کے بجائے بڑھ بھی سکتا ہے۔

 دہشت گردیا ان کا کوئی بھی ساتھی کسی عبادت گاہ میں موجود ہو یا پھر کمین گاہ میں روپوش ،انہیںکھینچ کر باہر لانے میں کسی کو اعتراض نہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ بات لیکن اکثریت کو ہضم نہیں ہو سکتی کہ کانوں میں بالیاں پہنے ،لمبے بالوں والے مرد اور مرد نما عورتیں تمام مساجد کو بدنام کرنے کے لئے مظاہرے کرتے پھریں۔سیکولرلابی کا ایجنڈا مادر پدر آزاد معاشرے کا قیام ہے۔این جی او زاکھنڈ بھارت کے لئے بھی دیدہ ودل فرش راہ کئے ہوئے ہیں۔ان سب کی کوشش ہے کہ پاک فوج کو مختلف معاملات میں الجھا کر متنازعہ بنانے کی کوشش کی جائے۔مکرر عرض ہے کہ حالات بگڑتے دیر نہیں لگے گی۔بعض اطلاعات کے مطابق دینی جماعتیںمدارس کے خلاف ممکنہ کارروائی کے پیش نظر ملک گیر دھرنوں کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔کیاان دھرنوںکے ساتھ بھی وہی شاہانہ سلوک کیا جائے گاجو کپتان اور قادری کےساتھ کیا گیا تھا۔یقینا اس بار معاملہ مختلف ہو گا۔پہلے دھرنے اپنے مطالبات منوانے کے لئے تھے جو بڑی حد تک کامیاب ہو گئے،نئے دھرنے سچ مچ میں اسیٹبلشمنٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے لئے ہونگے۔ ایسے میںبچ بچا کر چلنا مشکل ہو جائیگا۔سیاسی جماعتوں کی بھاری اکثریت تو سرنڈر کر چکی ہے لیکن یہ بات فراموش نہ کی جائے کہ وکلاء2007ءکی طرح پھر میدان میں آنے کو تیار ہیں۔ تحریک شروع ہوئی تو اداروں کے درمیان کھلی محاذ آرائی کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔طاقت کا استعمال ہر مسئلے کا حل ہوتا تو امریکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ پورے افغانستان سے طالبان کا قلع قمع کر چکا ہوتا۔

مزید : کالم