پولیس کیجانب سے حراساں کئے جانے پر خاتون انصاف کےلئے عدالت پہنچ گئی

پولیس کیجانب سے حراساں کئے جانے پر خاتون انصاف کےلئے عدالت پہنچ گئی

  



لاہور(نامہ نگار)ایڈیشنل سیشن جج محمد مسعود حسین نے بوڑھے شخص سے شادی پر انکار کے بعد پسند کی شادی کرنے والی لڑکی اور اسکی طلاق یافتہ بہن کو والدین اورپولیس کیجانب سے ہراساں کئے جانے کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او کاہنہ کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزار کو بلاوجہ ہراساں نہ کیا جائے عدالت میں درخواست گزار خالدہ پروین نے مو¿قف اختیار کررکھا تھا کہ اس کا والد منظور احمد اسکی بوڑھے شخص سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن اس نے انکار کردیا اور اپنی مرضی سے محمد عمران کے ساتھ شادی کرلی جبکہ اسکی بہن ساجدہ منظور جو کہ طلاق یافتہ ہے اسے بھی بوڑھے شخص سے شادی پر مجبور کیا جارہا تھا۔

جس کی بناءپر وہ اس کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہوگئی لیکن اب اس کا والد منظور احمد، والدہ پروین بی بی اوربھائی محمد ساجد اور محمد عامر متعلقہ پولیس کی ملی بھگت سے انہیں مختلف ہیلوں بہانوں سے ہراساں کررہے ہیں ، عدالت سے استدعا ہے کہ مذکورہ افراد کےخلاف کارروائی کا حکم دیا جائے عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ بلاوجہ درخواست گزار کو ہراساں نہ کیا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...