21ویں آئینی ترمیم کے نفاذ نے کئی سوالوں کو جنم دیدیا

21ویں آئینی ترمیم کے نفاذ نے کئی سوالوں کو جنم دیدیا

  



لاہور (تجزیہ : شہباز اکمل جندران) آئین کی 21ویں ترمیم کے ایکٹ 2015کے نفاذ اور عمل درآمد نے کئی سوالوں کو جنم دیدیا ہے۔انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997سے تصادم کی صورت کس قانون کو مقدم ٹھہرایا جائیگا۔؟فوجی عدالتوں میں سماعت کے لیے مقدمات کہاں درج ہونگے۔؟یہ اختیار لوکل پولیس کو دیا گیا تو پولیس کو غلط استعمال سے کیسے روکا جائیگا۔؟مقدمے کی تفتیش پولیس ہی کریگی یا ایجنسیوں اور دیگر اداروں پر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنے گی۔؟فوجی عدالتوں کو کون سے مقدمات بھیجے جاینگے۔ ؟تفتیشی افسر مقدمات براہ راست فوجی عدالت کو بھیجیں گی یا صوبائی یا پھر وفاقی حکومت کے ذریعے فوجی عدالتوں کو بھیجیں گے۔؟فو جی عدالتوں کے لیے جرائم کی درجہ بندی کب اور کیسے ہوگی۔´شیڈول اور رولز کب تک تیار ہونگے۔؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئین کی 21ویں ترمیم کے ایکٹ 2015کے نفاذ اور عمل درآمدنے بہت سے سوالوں کو جنم دیدیا ہے۔ملک میں پہلے سے ہی انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997موجود ہے۔ اور بعض جرائم انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997اور 21ویں ترمیم کے ایکٹ 2015کی فہرست میں مشترکہ طورپر شامل ہوئے تو مقدمات کس قانون کے تحت درج ہونگے ؟۔کس قانون کو مقدم ٹھہرایا جائیگا؟اور کونسا قانون نظر انداز ہوگا؟ کیافوجی عدالتوں میں سماعت کے لیے مقدمات الگ سے درج ہونگے ؟اگر پولیس کو یہ اختیار دیا گیا تو پولیس کو روایتی کرپشن سے کیسے روکا جائیگا۔ ؟معمول کے جرائم میں ملزمان اور مدعیان کو بلیک میل کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمات میںانسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7کا اضافہ کرنے یا نہ کرنے کے لیے بھاری رشوت لینے والی پولیس آئندہ عام دہشت گردی عدالتوں اور فوجی عدالتوں میں ریفرنس یا چالان بھجوانے کے عوض رشوت کیوں نہیں لیگی۔؟کیا 21ویں ترمیم کے ایکٹ 2015کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی تفتیش صرف پولیس کریگی یا ایجنسیوں اور دیگر اداروں پر مشتمل جوانئٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنے گی۔ ؟جرائم کا شیڈول اورقانون کے قواعد کب تک بنیں گے۔؟فوجی عدالتوں کو مقدمات ، تفتیشی ٹیمیں براہ راست بھیجیں گی یا صوبائی یا پھر وفاقی حکومت کے توسط سے بھیجے جاسکیں گے۔

21ویں ترمیم متصادم

مزید : صفحہ آخر


loading...