دھند ، ٹرینوں اور پروازوں کی آمدورفت شدیدمتاثر

دھند ، ٹرینوں اور پروازوں کی آمدورفت شدیدمتاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر) ملک میں جاری دھند کے سلسلے، طیاروں کی عدم دستیابی، ریلوے کے ناقص سگنلنگ سسٹم اور دیگر وجوہات کے باعث ٹرینوں اور پروازوں کی آمدورفت کا نظام گزشتہ روز بھی بری طرح متاثر رہا۔ مین اور برانچ لائن پر چلنے والی ٹرینیں ایک سے سات گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ قومی و نجی ایئر لائنز کی اندرون و بیرون ملک آنے و جانے والی کئی پروازیں بھی غیر معمولی تاخیر سے اپنی منزل کی طرف گامزن ہوئیں۔ جس کے باعث واپس بھی تاخیر سے روانہ ہوئیں جس کے باعث مسافر شدید سردی میں ریلوے اسٹیشنوں اور ایئر پورٹ پر بیٹھے اپنی روانگی کے لئے خوار ہوتے رہے اور متعلقہ حکام کو کوستے رہے۔ یوں مسافروں کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں۔ بتایا گیا کہ گزشتہ روز کراچی، کوئٹہ سمیت دیگر شہروں سے لاہور آنے والی ٹرینیں بزنس ایکسپریس 7گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی ،عوام ایکسپریس 6گھنٹے 45منٹ ، علامہ اقبال 6 گھنٹے ، جعفر ایکسپریس 5گھنٹے 40 منٹ ،قراقرم ایکسپریس 3گھنٹے 10منٹ ، کراچی ایکسپریس 3 گھنٹے ، اکبر ایکسپریس 2گھنٹے 45منٹ جبکہ خیبر میل اور تیز گام دو گھنٹے کی تاخیر سے لاہور پہنچی اور تاخیر سے آمد کے باعث واپس کراچی کے لئے بھی غیر معمولی تاخیر سے روانہ ہوئی۔ جبکہ موسم کی خرابی اور طیاروں کی عدم دستیابی اور ایئر پورٹ پر غیر معمولی بندش کے باعث قومی و نجی ائیر لائن کی اندرون وبیرون ممالک آنے وجانے والی متعدد پروازیں بھی گھنٹوں تک تاخیر کا شکار رہیں بلکہ کچھ کو منسوخ بھی کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے مسافروں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ گزشتہ رات گئے دھند میں اضافہ ہونے اور حد نظر کم رہ جانے پر لاہور ایئر پورٹ کو بند بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایئر پورٹ پر فلائٹس کے لیٹ ہونے کی وجہ سے مسافروں اور ان کے لواحقین کا شدید رش گزشتہ روز بھی لگا رہا اور ایک دم جب فلائٹس کی روانگی کا سلسلہ شروع ہوا تو ایئر پورٹ کے تمام لاﺅنجز رش سے بھر گئے۔ سامان لے جانے والی ٹرالیاں کم پڑ گئیں اور لوگوں کو مجبوراً اپنے سامان خود اٹھا کر لے جانا پڑا۔ اندرون وبیرون ملک سے لاہور آنے والے مسافروں کو اپنے سامان کے حصول کے لئے گھنٹوں انتظار کی اذیت بھی برداشت کرنا پڑی بلکہ سامان میں تاخیر پر لوگ اپنی اپنی ایئر لائن کے انتظامی عملے سے لڑائی جھگڑے بھی نظر آئے۔ لوگوں کو پورٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ عوامی رش کے باعث ایئر پورٹ کی پارکنگ میں بھی جگہ کم پڑ گئی جس کی وجہ سے ایئر پورٹ کے داخلی اور خارجی راستوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں۔ یوں لوگ ہر جگہ خوار ہوتے رہے۔

دھند

مزید : صفحہ آخر