انتہا پسندی کی مخالفت اور اعتدال کا دعویٰ کر کے عمل الٹ نہ کریں!

انتہا پسندی کی مخالفت اور اعتدال کا دعویٰ کر کے عمل الٹ نہ کریں!

  



تجزیہ: چودھری خادم حسین

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اکیسویں آئینی ترمیم اور ملٹری ایکٹ میں ترمیم کے مسودات کی منظوری ہو گئی،جس کے بعد وزیراعظم محمد نواز شریف نے شکریہ ادا کیا اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ دو سال کے اندر مقاصد حاصل کر لئے جائیں گے اور دہشت گردی کا مکمل صفایا ہو جائے گا۔ وزیراعظم کی یہ توقع اور امید بجا، لیکن جو موقف دینی جماعتوں خصوصاً جمعیت العلمائے اسلام(ف) ، جے یو آئی(س) اور جماعت اسلامی نے اختیار اور جس کا اعلان کیا وہ اتفاق رائے کی نفی کر دیتا ہے۔ ہم نے ان سطور میں ابتدا ہی سے عرض کیا تھا کہ انتہا پسندی کا ذکر کیا جا رہا ہے، تو اس پر غور بھی کر لیا جائے کہ خود اتحادیوں اور حامیوں میں سے اس کے کئی معنی نکالے جائیں گے اور اس وقت بھی یہی اندیشہ تھا کہ دینی حلقے اسے اپنے خلاف جانیں گے، حالانکہ یہ سب اپنے بیانات اور اعلانات کے ذریعے خود اعتدال کی بات کرتے اور انتہا پسندی کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن عملی صورت یہ ہے کہ اب بھی دہشت گردی کی مخالفت اور مدرسوں اور مسلک کے نام پر تحفظات کا اظہار کر کے اب ایک مہم یا تحریک کی بات کی جا رہی ہے۔ ہم جو خود دین پرست اور بزرگوں کے پیرو کار ہیں، بصد ادب یہ سوال کرتے ہیں جب منافرت والے لٹریچر کی بات ہو گی، تو پھر تکفیر کے فتووں اور ایک دوسرے کی امامت کو قبول نہ کرنے کا کیا جواز ہے؟ جہاں تک فقہی امور میں اختلاف کا تعلق ہے، تو جن حضرات نے یہ کِیا اُن کی نیت خراب نہیں تھی، نیک نیتی سے کسی مسئلے پر اختلاف تو کیا گیا لیکن احترام یقینا ملحوظ خاطر رکھا گیا، اس لئے بہتر عمل تو یہ ہے کہ فقہی امور کو عالمان دین کی سطح پر ہی رکھا جائے۔ یہ عام لوگوں میں نہ لائے جائیں تو تفرقے سے بچت ہو سکتی اور پھر یہ روش بھی درست نہیں کہ جو سوال کرے اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جائے، ایسے رویوں اور متشدد موقف کی بناءپر لوگ دور ہوتے ہیں۔ جہاں تک مدارس کی بات ہے تو ایک بار نہیں بار بار یہ کہا گیا کہ جو دہشت گردی کی معاونت کرتے ہیں۔ یہ تو خود اکابرین دین کی حمایت ہے ان کو خود چاہئے کہ وہ ایسے لوگوں کو خود سے الگ کر دیں۔ بہرحال بہتر عمل اب بھی یہ ہے کہ حکمران کسی زعم میں مبتلا نہ ہوں اور مذاکرات کریں۔ مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق صاحب کو بھی غور کرنا ہو گا کہ ان کا رویہ انتہا پسندی کی طرف نہ جائے کہ دوسری جماعتوں سے ٹاکرا ہو، حالانکہ ووٹ دینے والوں میں رضا ربانی بھی ہیں، جو رو پڑے اور سعید غنی بھی ہیں، جو کہتے ہیںپیپلزپارٹی دل سے مخالف ہے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں، کڑوی گولی نگلی ہے۔ ایسا ہی موقف اے این پی کا بھی ہے اور متحدہ کے بیانات کا تجزیہ خود ہی کر لیں۔اب تو بلاول بھٹو کا ٹوئیٹ تبصرہ بھی آ گیا ہے۔

ملک کو اندرونی استحکام کی شدید ضرورت ہے اور یہ سب کچھ اِسی لئے کیا گیا۔ صد اعتراضات کے باوجود سیاسی اور فوجی قیادت نے مل کر فیصلے کئے، تاہم اب صورت حال پھر دوسرے رُخ پر جا رہی ہے۔عمران خان ایک طرف شادی کی خوشخبری دیتے ہیں تو ساتھ ہی الٹی میٹم بھی جاری کر دیتے ہیں کہ18جنوری کے بعد پھر سڑکوں پر ہوں گے، نہ معلوم وہ کس یقین کی بنا پر کہہ رہے ہیں کہ جوڈیشل کمشن2013ءکے انتخابات ہی کالعدم قرا دے دے گا۔ ان کے یقین کے مطابق انتخابات اِسی سال ہوں گے اور وہ جیت جائیں گے اور نیا پاکستان بنا لیں گے، باوجود اس امر کے کہ انہوں نے عوام سے نیا پاکستان بنانے کو کہا تاکہ وہ دوسری شادی کر سکیں۔ وہ تو انہوں نے کر لی (آج بارات ہے)اس کا مطلب یہ کہ ان کا تو نیا پاکستان بن گیا۔ پوچھنا تو شیریں مزاری صاحبہ سے چاہئے جو تردید بھی کر رہی تھیں اور اسے ذاتی مسئلہ قرار دے رہی تھیں۔ عمران خان اسے ایک بار پھر عوامی مسئلہ بنائے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں قوم کو خوشخبری دوں گا۔وہ بھی دے دی۔

عمران خان کا موقف اپنی جگہ، پرانا سوال پھر دہراتے ہیں کہ نیا خود مختار، آزاد اور بااختیار الیکشن کمشن کیسے بنے گا؟ نیا احتسابی ادارہ کون بنائے گا؟ اگر یہ سب نہیں ہو گا تو بقول عمران خان شفاف ترین انتخابات کیسے ہوں گے اور کون کرائے گا؟ بہتر عمل یہ ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوتے اور یہ سب بھی اتفاق رائے سے پارلیمنٹ کے دونوںایوانوں سے منظور ہو جاتا، اب بھی حکمرانوں اور عمران خان کو اعتدال کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ وہ مذاکرات کریں کوئی فریق ہیرا پھیری نہ کرے اور دیانت سے کام لے تو ایسے اداروں کے قیام سے سب کا بھلا ہو گا کہ سبھی غیر جانبداری اور شفافیت چاہتے اور دعویٰ کرتے ہیں۔ اندرونی استحکام کے لئے تحریکوں سے اجتناب کیا جائے، بات منتخب ایوانوں میں کی جائے، احتجاج حق ہے تو کچھ اصول بھی ہیں، انہی اصولوں کو اپنایا جائے تو بہتر ہو گا۔

دعویٰ

مزید : تجزیہ


loading...