پبلشرز نے 21صفحات والے نئے رجسٹریشن فارم کو مسترد کر دیا

پبلشرز نے 21صفحات والے نئے رجسٹریشن فارم کو مسترد کر دیا

لاہور( وقائع نگار)پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلر ز یو نین کے چیئر مین خالد پرویز ، صدر قمر الز مان بابراور سیکر ٹری جنرل ارشاد عالم شاد نے گزشتہ روزمشتر کہ پریس کانفر نس کر تے ہوئے کہا ہے کہ1962ء میں جب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا قیام عمل میں آیا تھا تو اس کا بنیادی مقصد پرائیویٹ پبلشرز کی غیر معیاری درسی کتب کا خاتمہ اور قومی و اسلامی امنگوں کے مطابق معیاری اور سستی کتب کی تیاری تھاجس کے لئے بورڈ نے اپنے کریکولم ونگ سے درسی کتابیں تیار کروائیں اور مختلف پبلشرز کو بورڈ سے رجسٹرڈ کر کے انہیں اشاعت و فروخت کا کام دیا گیا اور درسی کتابوں کی تیار ی اور اشاعت اسی سسٹم کے تحت بڑی خوش اسلوبی سے ہوتی رہی پھر چند سال پہلے دوبارہ پرائیویٹ پبلشرز کی کتب کو درسی کتب کا درجہ دینے کا سلسلہ شروع ہوا اور اب پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بُک بورڈ کے حکام ٹیکسٹ بُک بورڈ سے رجسٹرڈ پبلشرز کی ازسرنو رجسٹریشن کا پنڈورابکس کھولنے جا رہے ہیں اور وہ بھی ان دنوں میں جب درسی کتب کی پرنٹنگ ، بائنڈنگ اور ترسیل کا کام عروج پر ہوتا ہے ان حکام کو یہ سمجھ بھی نہیں کہ ان دنوں میں پبلشرز، درسی کتب تیار کروائیں گے یا رجسٹریشن مرحلہ طے کریں گے ۔ انہیں کوئی خیال نہیں کہ اس وقت ازسرنو رجسٹریشن شروع کرنے سے درسی کتابیں لیٹ ہو سکتی ہیں جس سے طلبا ء کا تعلیمی حرج ہو سکتا ہے اور والدین کو ایک نئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ بورڈ حکام ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف صاحب کی تعلیمی ترقی کے لئے کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں اور پنجاب میں بروقت کتابیں نہ ملنے سے بے چینی پھیل سکتی ہے جس کی انہیں چنداں پر واہ نہیں ۔ہم صاف الفاظ میں عرض کرتے ہیں کہ ہمیں 21 صفحات والا نیا رجسٹریشن فارم ہر گز قبول نہیں ۔ تمام رجسٹرڈ پبلشرز اسے یکسر مسترد کرتے ہیں بورڈ رجسٹرڈ پبلشرزکی ازسرنو رجسٹریشن چیکنگ کرنا چاہتا ہے توضرور کرے مگر اس کے لئے 2008 کا آسان اور جامع فارم استعمال کیا جائے اورر ی رجسٹریشن ماہ جولائی میں کی جائے جب درسی کتابوں کی پرنٹنگ اور سپلائی کا کام مکمل ہوچکا ہوتا ہے ۔ ہم وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور رجسٹریشن کے نام پر درسی کتابوں کی بروقت اشاعت میں روڑے اٹکانے والے بورڈ حکام کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائیں ۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پبلشرز 15جنوری کے بعد ہر قسم کا لائحہ عمل اختیار کریں گے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1