گیس لوڈ شیڈنگ کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئے

گیس لوڈ شیڈنگ کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئے

  



لاہور(خبرنگار) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں گیس بحران میں شدت آ گئی ہے جس پر صارفین کے گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ لاہور میں گزشتہ روز گنجان آبادیوں کے مکین گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف گھنٹوں سراپا احتجاج بنے رہے اور ملتان روڈ بلاک کر کے مسلسل چار گھنٹے ٹائر جلا کر احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرہ میں خواتین کی بڑی تعداد جبکہ مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں اور تنظیموں کے عہدیداروں ، کارکنوں، سول سوسائٹی کے اراکین سمیت مکینوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی اس موقع پر مظاہرین نے علاقہ کی سیاسی شخصیت میاں ظہور وٹو کی قیادت میں ملتان روڈ کی آبادیوں ، اتفاق ٹاؤن، عثمان پارک، گوشہ احباب فیزتھری ، گلشن اقبال کالونی سمیت دو درجن سے زائد آبادیوں کے مکینوں نے ملتان روڈ منصورہ چوک تک احتجاجی ریلی نکالی اور ملتان روڈ چوک میں مسلسل چار گھنٹے تک دھرنا دیا ،احتجاجی دھرنے کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں ، پولیس کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات ناکام ہونے پر سوئی گیس کے افسران موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو گیس کی سپلائی بحال کرنے کی یقین دھانی کرواتے ہوئے احتجاجی دھرنا ختم کروادیا ،تفصیلات کے مطابق سوئی ناردرن گیس کے سسٹم میں گیس کی فراہمی کم ہونے سے صوبائی دارالحکومت میں گھریلو سطح پر گیس کی لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر کی شکایات سامنے آ رہی ہیں جس کے خلاف لاہور ی گنجان آبادیوں میں گیس کی مسلسل بندش کے خلاف لاہورکی سڑکوں پر نکل آئے ہیں گزشتہ روز شہریوں نے ملتان روڈ منصورہ چوک بلاک کر کے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین میں خواتین مردوں کے علاوہ بچے بھی شریک تھے انہوں نے سوئی گیس کی بندش پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ٹائروں کو آگ لگا کر ٹریفک بند کردی اورسڑک پر ہی دھرنا دیے رکھا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ زاٹھا رکھے تھے جن پر حکومت اور گیس حکام کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرے میں شریک خواتین گیس حکام کو کوستی رہیں، اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے گھروں میں گیس کی سپلائی نہ ہونے کے باعث مہنگے داموں ایل پی جی گیس خرید کر گزارہ کر رہے ہیں دفاتر میں شکایات درج کروانے کے باجود مسئلہ حل نہیں کیا جاتا ،گیس کی بندش کے باوجود حکام کی جانب سے بھاری بل بجھوائے جارہے ہیں ، دفاتر میں افسران اور عملے کی جانب سے شکایات کی دادرسی نہ ہونے پر دھرنا دینے پر مجبور ہوئے ہیں ،ملتان روڈ آفس میں بیٹھے اہلکار شکایات کے لیے آنے والی خواتین اور دیگر افراد سے بدتمیزی کرتے ہیں اور جب انچارج کو بتائیں تو بھی ان اہلکاروں کی سرزنش نہیں کی جاتی الٹا ہمیں جھوٹا قرار دیا جاتا ہے ، اس موقع پر مظاہرین سے میاں ظہور وٹو نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ کے باعث مسلسل ڈیڑھ ماہ سے مکینوں کے گھروں میں چولہے مکمل طور پر ٹھنڈے پڑے ہیں، بچے اور بوڑھے افراد بازاری کھانے استعمال کرنے پر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں اس موقع پر میاں نذر حسین، ملک جہانگیر بارا، ملک شفیق ، اکبر ساقی، امان اللہ سمیت متعدد سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی احتجاجی مظاہرین سے خطاب کیا۔اس موقع پر میاں نذیر حسین نے کہا کہ ایم ڈی سوئی گیس کو چاہیے کہ ملتان روڈ آفس میں عرصہ دراز سے بیٹھے کر پٹ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں ،پولیس نے بھی مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین نے کہا کہ سوئی گیس کے اعلیٰ افسران سے ہی مذاکرات کریں گے ،اور دھرنا جاری رکھا دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو گیا جی ایم لاہور ریجن محمود ضیاء احمد کا کہنا ہے کہ منصورہ کے قریب گیس کی لائنوں کی اپ گریڈیشن کا کام تیزی سے جاری ہے اور ہماری مینٹینس کی ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں جلد ہی گیس پریشر بہتر ہو جائے گا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...