وہ انوکھا قبیلہ جہاں شوہر کی موت پر بیگم کے اعضاءکاٹ دیے جاتے ہیں

وہ انوکھا قبیلہ جہاں شوہر کی موت پر بیگم کے اعضاءکاٹ دیے جاتے ہیں
 وہ انوکھا قبیلہ جہاں شوہر کی موت پر بیگم کے اعضاءکاٹ دیے جاتے ہیں

  



پورٹ موریسبی (نیوز ڈیسک) براعظم آسٹریلیا سے پرے بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل ملک پاپوا گنی میں دانی اور لانی نامی جنگلی قبائل پائے جاتے ہیں۔ گھنے جنگلوں میں رہنے والے ان قبائل کے متعلق جدید دنیا کو بیسویں صدی میں علم ہوا لیکن جب ان کے رسوم و رواج کا علم ہوا تو ماہرین بشریات دنگ رہ گئے۔یہاں جب کسی مرد کی موت ہوتی ہے تو اس کے گھر کی خواتین سوگ کے اظہار کیلئے اپنی انگلیوں کا کچھ حصہ کاٹ لیتی ہیں۔ کٹے ہوئے حصوں کو جلا کر راکھ بنایا جاتا ہے اور پھر اس راکھ کو ایک دور دراز مقام پر دبا دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے خواتین کی انگلیاں کاٹنے کیلئے مخصوص تیز دھار آلات بھی تیار کر رکھے ہیں۔ ان خواتین کی بدقسمتی دیکھئے کہ انہیں اپنے پیاروں کی جدائی کے ساتھ اپنا جسم کاٹنے کا درد بھی سہنا پڑتا ہے جبکہ مرد اپنے لئے یہ بالکل بھی ضروری نہیں سمجھتے۔یہ لوگ آدم خوری کے بھی شوقین ہیں اور خصوصاً جنگوں میں پکڑے گئے دشمن کے قیدیوں کوبھون کر کھاتے ہیں اور اس موقع پر پورا قبیلہ جشن مناتا ہے۔ یہاں عورتیں برہنہ رہتی ہیں جبکہ مرد اپنے اعضاءکو سوکھی توری کے خول میں ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ اس خول کو Koteka کہا جاتا ہے۔

مزید : علاقائی