دنیا کا وہ شہر جہاں انٹرنیٹ اور موبائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں

دنیا کا وہ شہر جہاں انٹرنیٹ اور موبائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں
 دنیا کا وہ شہر جہاں انٹرنیٹ اور موبائل استعمال کرنے کی اجازت نہیں

  



واشنگٹن (نیوز ڈیسک) موبائل فون اور وائی فائی کی سہولت آج دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہے مگر ایک جگہ اب بھی ایسی ہے کہ جہاں نہ موبائل فون ہے اور نہ ہی وائی فائی کا نام و نشان اور مزید اہم بات یہ ہے کہ یہ سہولیات دنیا کے ہر انسان تک بھی پہنچ جائیں تو یہاں کے باسیوں تک کبھی نہیں پہنچیں گی، جبکہ ناقابل یقین بات یہ ہے کہ جس عجیب و غریب جگہ کی بات ہو رہی ہے وہ دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ کے دارالحکومت کے قریب واقع ہے یہ جگہ ریاست جنوبی ورجینیا کا قصبہ گرین بینک ہے جہاں حکومت کی طرف سے پابندی کی وجہ سے موبائل فون اور وائی فائی سمیت تمام وائرلیس ٹیکنالوجی کا استعمال منع ہے۔ جب لوگ اس قصبے کی طرف بڑھتے ہیں تو رفتہ رفتہ موبائل فون کے سگنل کم ہوتے جاتے ہیں اور بالآخر یہ بالکل صفر ہو جاتے ہیں۔ یہاں کے باسیوں کیلئے سرکاری لینڈ لائن فون کی سہولت دستیاب ہے جو ان کے دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے۔یقیناًآپ سوچ رہے ہوں گے کہ امریکہ جیسے جدید ترین ملک کے دارالحکومت کے قریب واقع جگہ موبائل ٹیکنالوجی سے کیوں محروم ہے تو اس کی وجہ بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ دراصل اس قصبے میں دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو دوربین Robert C. Byrd Green Bank Telescope نصب ہے جو دنیا سے اربوں کھربوں نوری سال کی مسافت پر واقع ستاروں کی دنیا کا حال جاننے کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں اس قسم کی 9 دوربینیں نصب ہیں جن کی ریڈیو سگنل موصول کرنے کی صلاحیت انتہائی حساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر قسم کی وائرلیس ٹیکنالوجی کا استعمال منع ہے تاکہ دوربینوں پر موصول ہونے والے ریڈیائی سگنلز میں کم از کم مداخلت ہو۔یہ دوربینیں عام دوربینوں کی طرح عدسے استعمال نہیں کرتیں بلکہ یہ برقنا طیسی لہروں کو کائنات کے نہاں گوشوں سے موصول کرتی ہے اور خلائ کے رازوں سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ان پر موصول ہونے والے سگنل دیکھے نہیں جا سکتے بلکہ دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹر ان کا تجزیہ کر کے ماہرین فلکیات و طبیعات کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ جی بی ٹی (GBT) کہلانے والی سب سے بڑی دوربین کی بلندی 485 فٹ ہے اور گرین بینک قصبہ سے میلوں دوری پر بھی یہ برف کے چمکدار پہاڑ جیسی نظر آتی ہے۔پسند کرتی ہیں۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے "Personality and Individual Diferences" میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : علاقائی


loading...